جلدبازی میں اسکول دوبارہ بند کرنےکافیصلہ تباہ کن ہوگا،وزيرتعليم

سماء نیوز  |  Sep 19, 2020

وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نےکہا ہے کہ اسکول دوبارہ بندکرنےکاجلدبازی کافيصلہ تعليم کيلئےتباہ کن ہوگا۔

ہفتےکواپنے ٹویٹ میں شفقت محمود نے کہا کہ طلبہ کی صحت ہماری پہلی ترجيح ہے،کسی بھی فیصلےسےپہلےوزارت صحت کا مشورہ ليں گے۔شفقت محمود نے مزید کہا کہ 6ماہ تعليمی اداروں کی بندش نےطلبہ کوبری طرح متاثرکيا،تعليمی ادارےکھولنےکافيصلہ بہت احتياط سےکياتھا۔

گذشتہ روز شفقت محمود نے کہا تھا کہ تعلیمی اداروں کے کلاسز شروع کرنےکےشیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اورتعلیمی اداروں میں دوسرے مرحلےمیں کلاسز23ستمبرسےہی شروع ہوں گی۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ 22 ستمبرکواین سی اوسی کےاجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا،صورتحال یہی رہی توتعلیمی ادارے دیئے گئے شیڈول کے مطابق ہی کھلیں گے۔

واضح رہے کہ جمعہ تک کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزیوں پر ملک بھر میں مزید 13 تعلیمی ادارے بند کردیےگئے اورسیل کئے جانے والے تعلیمی اداروں کی تعداد 35 ہوگئی۔

کراچی میں جمعہ کی دوپہرصوبائی وزیرتعلیم سندھ سعید غنی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں اسکول کھولنےکا فیصلہ موخرکردیا گیا ہے۔21 ستمبر سے چھٹی جماعت سے آٹھویں جماعت تک کے اسکول اور کلاسز نہیں کھولی جائیں گی۔

وزیرتعلیم سعید غنی نےکہا کہ اسکول کھولنے کا فیصلہ سب سے مشکل تھا اور اسکول کھولنےسےمتعلق ملک بھرميں تشويش تھی۔ انھوں نے بتایا کہ 4دنوں میں مختلف اسکولزکادورہ کیا اور کچھ اسکولوں کو ایس او پی کی خلاف ورزی پر سیل بھی کیا گیا، سرکاری اسکولزبہترتھے،کچھ میں کوتائياں تھيں۔ انھوں نے کہا کہ شروعات میں سب نےکہاتھاکہ ایس اوپیزفالوکرینگے تاہم ایسا نہ ہوا۔

انھوں نےکہا کہ تعلیمی اداروں کوہدایت دی گئی ہے کہ بغیر کسی چارجز کے اساتذہ اورعملے کے کرونا وائرس ٹیسٹ کروائے جائیں،اب تک 14544 ٹیسٹ لئے گئے،ان میں سے 3636 رپورٹس موصول ہوگئی ہیں،مزید رپورٹس آنا باقی ہیں،89 مثبت ہیں اور یہ شرح 2.4 ہے۔

سعید غنی نےبتایا کہ دوسرے مرحلےکی کلاسز کو کھولنےکافیصلہ ایک ہفتے کےلیے موخر کیا گیا ہے کیوں کہ بہت سی کوتاہیاں نظر آرہی ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ کئی لاکھ ملازمين کےٹيسٹ کرنے کيلئےوقت درکارہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More