تھر کول پروجیکٹ میں کرپشن کی ازسرنو تحقیقات کا مطالبہ

روزنامہ اوصاف  |  Sep 24, 2020

 سندھ کول اتھارٹی حکومت سندھ کا ایک اہم شعبہ ہے جو کہ اسلام کوٹ میں ہزاروں ٹن کوئلہ بجلی کی ترسیل اور اس کو ایکسپورٹ کرنے میں کام کر رہا ہے اور یہ پروجیکٹ تھر کول پروجیکٹ کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ اس وقت اسلام کوٹ ضلع تھرپارکر میں کوئلہ نکالنے کا پروجیکٹ چینی حکومت کے ایک معاہدے کے تحت چینی انجینئرز کے حوالے ہے۔ اسلام کوٹ مٹھی سے 35 کلومیٹر پر ہے اور پروجیکٹ بمعہ انجینئرز کی سیکورٹی پاکستان آرمی، رینجرز بخیرو خوبی انجام دے رہے ہیں۔اس پروجیکٹ کے لئے کئی مرتبہ بین الاقوامی ٹینڈرز بھی کال کئے گئے تھےاور کئی مرتبہ بین الاقوامی طور پر مختلف فرموں نے انٹرنیشنل ٹینڈر کے بعد اس پروجیکٹ کے لئے خدمات پیش کی تھیں لیکن قرعہ فال چینی حکومت کے نام نکلا تھا اور اب چینی انجینئرز مہارت کے ساتھ کام کر رہے ہیں مگر کرپٹ حکمرانوں نے ہر شعبہ میں کرپشن اور لوٹ مار کے عالمی ریکارڈ قائم کئے ہوئے ہیں۔ سندھ کول اتھارٹی وزارت معدنیات حکومت سندھ کے بورڈ کے تحت کام کرتا ہے جس کا چیئرمین صوبائی وزیر معدنیات ہوتا ہے جس کا قلمدان وزیر اعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ کے پاس ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات، سیکرٹری معدنیات، سیکریٹری خزانہ، دو قومی اسمبلی کے اراکین، چار صوبائی اسمبلی کے اراکین اور دو غیر سرکاری اراکین جن کو حکومت نامزد کرتی ہے اس کے ممبر ہوتے ہیں۔ یہ بورڈ قواعد و ضوابط بنانے کے لئے بااختیار بنایا گیا تھا لیکن اس وقت تک بورڈ قواعد و ضوابط کی تشکیل میں ناکام رہا ہے جبکہ اس بورڈ کا کام ترقیاتی منصوبوں کی منظوری اور نگرانی کرنا، مالی معاملات کو نظم و ضبط میں رکھنا ہوتا ہے۔ بورڈ کے غیر فعال ہونے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اربوں روپیہ کی بدعنوانیاں کی گئی تھیں۔  ایسے منصوبے پر بھی کام کیا گیا تھا جن کا اتھارٹی کو اختیار نہیں تھا اور ایکٹ کے مطابق اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں ان منصوبوں پر کام نہیں کیا جا سکتا تھا جو دوسرے محکموں سے متعلق ہو جس کا نوٹس معزز سپریم کورٹ نے بھی لیا تھا۔ سندھ کول اتھارٹی بورڈ کے غیر فعال ہونے کا بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے اتھارٹی حکام نے بغیر کسی مینڈیٹ کے صرف ایک ہفتے میں 110 مختلف فرمرز کو ادائیگیاں کردی تھیں جبکہ اس سے ایک مہینہ قبل مختلف افراد کو صرف 10 لاکھ روپے ادا کئے تھے اس کے علاوہ تھر لاج جو اسلام کوٹ میں سندھ کول اتھارٹی نے قائم کر رکھا ہے اس وقت ایک نجی فرم اینگرو نے کرائے پر لے رکھا ہے اور جس کا کرایہ ماہانہ نیشنل بینک کی مقامی برانچ میں جمع ہوتا ہے کرائے کی مد میں ایک کروڑ روپیہ کرپشن کی نذر ہوچکا ہے۔ اتھارٹی میں معزز سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈیلی ویجز پر چپڑاسی بھرتی ہونے والوں کو آفیسر گریڈ میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ گریڈ 14 کے ملازم کو گریڈ 18 میں ترقی دے دی گئی تھی۔ معزز عدالت کے حکم پر ہٹائے جانے والے ارجن کمار جن کو خلاف ضابطہ گریڈ 18 میں ترقی دے دی گئی تھی۔وہ بغیر کسی اتھارٹی کے کروڑوں روپیہ کا چیک جاری کر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق تھر کول اتھارٹی میں 1 کھرب 5 ارب روپیہ کی سنگین مالی بدعنوانیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ماہ جون 2017ء میں سندھ کے خزانے خالی ہونے کا ایک سبب سندھ کول اتھارٹی میں مختلف 110 من پسند فرمرز کو صرف ایک ہفتے میں ادائیگیاں کرنا تھیں اور ایک ایک فرم کو کئی کئی مرتبہ دائیگیا ں کی گئی تھیں  جبکہ معزز سپریم کورٹ کے سامنے یہ بات آچکی ہے کہ اتھارٹی نے ایسے منصوبوں پر کام کرایا تھا جو اس کے دائرہ کار میں نہیں تھے اور زمین پر ان منصوبوں کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ اتھارٹی میں کرپشن کا الزام وزیر اعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ، سابق ڈی جی دانش سعید، چیف انجینئر محمد علی میمن اور ضمیر احمد شیخ ایگزیکٹو انجینئر پر لگایا جاتا ہے۔ اتھارٹی میں ادائیگیوں کے عدم توازن کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مئی 2017ء میں اتھارٹی کی طرف سے ایف ایس سیکورٹی سروسز، ارمین کرنگیرا، سہیل فاروق، مہاتبا جاوید، لبنا شیخ، رضوان، تیمور خان، حیدر علی، رویر سنگھ، نندر، پیروخان، عبداللہ، عبدالخالق، عبدالحسین، نذیر شیخ، فراز، سفیر خان، امجد کو 10 لاکھ 20 ہزار 500 روپیہ کی ادائیگی کی گئی تھی ان افراد کے متعلق جب اتھارٹی کے افسران سے معلوم کیا گیا تھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔  ٹوٹل کرپشن جو معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز بینچ کے سامنے لائی گئی ہے وہ 105 ارب روپیہ کی ہے۔میری  چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف سے اپیل ہے کہ وہ تھر کول اتھارٹی کے افسران، ملازمین کی کرپشن لوٹ مار کی حساس اداروں سے تحقیقات کرکے ملزمان کو نہ صرف سخت سزائیں دلوائیں بلکہ لوٹی ہوئی سرکاری رقم واپس سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے اور ڈی جی آڈٹ (سندھ) کراچی کے تمام افسران و عملے نے 2013-14ء سے 2016-17ء تک آڈٹ کی ہے اور کرپشن میں تھر کول اتھارٹی کے افسران و عملے کو مبینہ طور پر آڈٹ رپورٹوں میں بچانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے سرپرستوںکو نیب آرڈنینس 1999ء کے تحت گرفتار کرکے سخت انٹروگیشن کی جائے تو نہ صرف اصل حقائق کا پتہ چلے گا بلکہ کرپشن اور لوٹ مار سے جو جائیدادیں اور بینک بیلنس بنایا ہے اس کا بھی پتہ چل جائے گا۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More