امریکی شہری پر قسمت مہربان، جسے شیشہ سمجھا وہ ہیرا نکلا

اردو نیوز  |  Sep 26, 2020

قسمت کی دیوی مہربان ہو جائے تو ایسا بھی ہو جاتا ہے جب شیشہ سمجھ کر اٹھائی جانے والی چیز ہیرا بھی نکل سکتی ہے۔

امریکی ریاست آرکنساس میں واقع پارک میں کریٹر آف ڈائمنڈز ایک ایسا مقام ہے جہاں معمولی فیس کی ادائیگی کے بعد سیر کی جا سکتی ہے اور قیمتی پتھر تلاش کیے جا سکتے ہیں۔

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق کیون کینرڈ ایک بینک میں کام کرتے ہیں وہ آرکنساس کے جنوب مغربی سمت میں واقع  کریٹر آف ڈائمنڈز کی سیر کے لیے پہنچے۔ دس منٹ چلنے کے بعد انہیں کوئی چمکتی ہوئی چیز دکھائی دی، جو اٹھانے پر شیشے کا ٹکڑا محسوس ہوئی، جس کو انہوں نے اپنے بیگ میں رکھ لیا۔

تھوڑی دیر بعد پارک کی انتظامیہ نے کینرڈ اور ان کے ساتھیوں کو چیکنگ کے لیے روک لیا۔ جو ایک معمول ہے اور ہر جانے والے کو چیک کیا جاتا ہے۔

کینرڈ کو ملنے والا ہیرا اب ان کی ملکیت ہے۔  فوٹو، کریٹر آف ڈائمنڈز سٹیٹ پارککینرڈ کا کہنا ہے کہ مجھے چیکنگ کرنا اچھا نہیں لگا کیونکہ مجھے کچھ ملا ہی نہیں تھا۔ بہرحال انہوں نے میرا بیگ بھی دیکھا۔

اور اسی چیز جس کو شیشہ سمجھ کر بیگ میں رکھا گیا تھا، اس کا معائنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ ہیرا ہے۔

پارک کی انتظامیہ نے کینرڈ کو خوش خبری سنائی کہ وہ ہیرے کے مالک بن گئے ہیں۔’مجھے یہ سن کر حیرت کا جھٹکا لگا‘

کینرڈ کو ملنے والا ہیرا نو اعشاریہ سات قیراط کا ہے جو پارک کی 48 سالہ تاریخ میں دوسرا بڑا ہیرا ہے۔

کینرڈ کی دوست گنجر برٹن جو اس وقت ساتھ تھی، نے فیس بک پر مبارک باد کا پیغام لکھتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ خبر تین ہفتے تک چھپا کر رکھی۔

پارک میں آنے والے دیگر افراد کو بھی ماضی میں قیمتی پتھر ملتے رہے ہیں۔ فوٹو انسپلیشپارک کے اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ ڈرو ایڈمنڈز کہتے ہیں کہ کینرڈ خوش قسمت ہیں کہ ان کو پارک میں آئیڈیل صورت حال ملی۔

’پارک انتظامیہ نے بیس اگست کو اس مقام پر ہل چلایا تھا چند روز قبل ہی وہاں پر بارش بھی ہوئی، تاہم اس روز دھوپ نکلی ہوئی تھی جب کینرڈ پارک میں آئے۔‘

کینرڈ کو ملنے والا ہیرا اب ان کی ملکیت ہے اور ان کو اس کی اچھی خاصی قیمت ملنے کی امید ہے۔

اس سال پارک میں246 ہیروں کی رجسٹریشن ہوئی ہے جن کا مجموعی وزن 59.25 قیراط ہے، پچھلے سال ایک سکول ٹیچر نے یہاں سے دو اعشاریہ بارہ قیراط کا ہیرا تلاش کیا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More