عربی مناجات کو جدید رنگ دینے والا مصری فنکار

ڈی ڈبلیو اردو  |  Oct 15, 2020

مصر کے فنکار محمود التہامی روایتی 'اناشید‘ مذہبی گائیکی کے ایک ماہر فنکار تصور کیے جاتے ہیں۔ عربی زبان کا مصری گلوکار چودہ سو سالہ پرانے انداز گائیکی 'اناشید‘ میں عرب دنیا میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ان کی شہرت عرب دنیا سے باہر بھی پھیل چکی ہے۔ 'اناشید‘ میں بغیر موسیقی کے مذہبی حمدیہ و نعتیہ و دعائیہ کلام پڑھا یا گایا جاتا ہے۔ اس انداز میں لہک لہک کر مناجات کو گروپ یا کوئی ایک فنکار گاتا ہے۔

اناشید اور رقص

اکیالیس برس کے محمود التہامی مذہبِ اسلام کی صوفی شاخ سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ ان کی بعض پرفارمنس میں دف کا استعمال ملتا ہے۔ اس کے علاوہ دف کی تھاپ کے ساتھ ساتھ مخصوص صوفی رقص کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: موسیقی اور گانا حرام نہیں ہے، سابق امام کعبہ

ماہرینِ جمالیاتی فنون رقص کو اعضا کی شاعری کا نام دیتے ہیں لیکن صوفی رقص سے مراد جذب و مستی میں ڈوب کر ایک دائرے میں گھومنا لیا جاتا ہے۔ اس اندازِ رقص کا محور و مرکز قدیمی دور سے ترک شہر قونیا قرار دیا جاتا ہے۔ اسی شہر میں عربی و فارسی کے عظیم شاعر اور فلسفی مولانا جلال الدین رومی کا مزار بھی ہے۔

اناشید اور قوالی

یہ امر اہم ہے کہ قدیمی 'اناشید‘ گائیکی میں کسی بھی قسم کے سازوں کا استعمال ممنوع خیال کیا جاتا ہے۔ اس پابندی کو اسلامی اسکالرز کی تائید بھی حاصل ہے۔ التہامی نے قدیمی انداز میں تبدیلی کی بنیاد رکھ دی ہے اور وہ اس گائیکی میں 'فیوژن‘ کو متعارف کروا چکے ہیں۔

عرب دنیا کے ماہرین موسیقی کا خیال ہے کہ یہ 'فیوژن‘ مقبول اور پوری طرح مستعمل ہو جاتا ہے تو اس دعائیہ اندازِ گائیکی میں انتہائی بڑی انقلابی تبدیلی ہو گی۔ اس تناظر میں برِصغیر و پاک و ہند میں قوالی اسی انداز کی گائیکی قرار دی جاتی ہے، جو کئی صدیوں قبل مسلمان صوفیا کے توسط سے متعارف کرائی گئی تھی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More