پاکستانی کرکٹر سے ایک بک میکر کے رابطے کا انکشاف

ڈی ڈبلیو اردو  |  Oct 15, 2020

پاکستان میں کرکٹ کے کھیل کے نگران ادارے پی سی بی نے جمعرات پندرہ اکتوبر کو اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ٹی ٹوئنٹی کے قومی ٹورنامنٹ کے دوران میچ فکسنگ کرانے والے بک میکرز کے ایک گروہ کے ایک رکن نے ایک کرکٹر سے رابطہ کیا۔ اس مبینہ رابطے کی اطلاع پاکستانی کرکٹ بورڈ کو اس کھلاڑی نے خود دی۔ اس اطلاع کو متعلقہ حکام تک پہنچانے کو اینٹی کرپشن کے سخت قوانین کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔

وفاقی سطح پر تفتیش

پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن اور سکیورٹی کے ڈائریکٹر آصف محمود کا کہنا ہے کہ اطلاع دینے پر اس کھلاڑی کی بھر پور انداز میں حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ آصف محمود کے مطابق مروجہ ضابطوں کے تحت کسی بھی کھلاڑی سے کسی بک میکر کے رابطے کی فوری طور پر سکیورٹی حکام کو اطلاع دینا لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔

ڈین جونز کے انتقال پر مداح سکتے میں

آصف محمود کا مزید کہنا تھا کہ اس رابطے کی اطلاع ملنے پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے کو باضابطہ طور پر مطلع کر دیا گیا۔ سکیورٹی ڈائریکٹر کے مطابق امید ہے کہ اس تناظر میں جلد ہی ضروری تفتیشی عمل شروع کر لیا جائے گا۔ بورڈ کے حکام نے اس رابطے کی اطلاع دینے والے کرکٹر کا نام اس کی سلامتی کو لاحق ممکنہ خطرات کے تناظر میں ظاہر نہیں کیا۔

پی سی بی کے انسداد بد عنوانی کے لیے ضابطے

پاکستان کرکٹ بورڈ کے نافذ کردہ اینٹی کرپشن ضوابط کے تحت کسی اہلکار یا کھلاڑی سے میچ فکسنگ کرانے یا جوئے کی پیشکش کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ سکیورٹی حکام کو دینا لازم ہے۔ ایسی کسی پیشکش کو اپنے تک محدود رکھنے کی سخت سزا متعین ہے اور اس میں جرمانہ اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہر طرح کی کرکٹ کھیلنے پر پابندی بھی شامل ہے۔

انڈین پریمیئر لیگ: گلیمر کے بغیر

پاکستانی کرکٹرز پر ماضی میں میچ فکس کرانے یا کھیل سے متعلق جوئے میں شامل ہونے کی طویل اور افسوس ناک تاریخ موجود ہے۔ ایسے واقعات سے ملک اور ملکی کرکٹ بورڈ کے وقار کو ٹھیس پہنچی تھی۔

سزا پانے والے کھلاڑی

گزشتہ دو دہائیوں میں کئی کھلاڑیوں پر ایسے رابطوں اور میچ فکسنگ یا اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر بھاری جرمانے اور کھیل کی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ ایسی پابندیوں کا سامنا کرنے والے کھلاڑیوں میں سلیم ملک اور عطا الرحمٰن کے نام سب سے اوپر ہیں۔ ان پر پابندیاں دو عشرے قبل فوجداری تفتیشی عمل کے بعد عائد کی گئی تھیں۔

بھارت میں ’جعلی کرکٹ لیگ‘ کا پول کھل گیا

اس تفتیش کا آغاز آسٹریلوی کھلاڑیوں شین وارن، مارک وا اور ٹِم مے کی طرف سے سن 1995 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دورہٴ آسٹریلیا کے دوران رشوت لینے سے متعلق الزامات کے بعد کیا گیا تھا۔ اس تفتیش کی روشنی میں وسیم اکرم، وقار یونس اور انضمام الحق کو بھی جرمانے کیے گئے تھے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More