فواد عالم کے ’ارطغرل غازی‘ کے انداز میں جشن منانے کے پیچھے کیا راز ہے؟ فواد عالم نے راز بتا دیا

بول نیوز  |  Jan 28, 2021

فواد عالم کا سنچری کے بعد جشن منانے کا انداز ہر کسی پسند آگیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹسمین فواد عالم نے پہلے نیوزی لینڈ اور اب جنوبی افریقا کے خلاف سنچری بناکر ترکی کے مشہور ڈرامے ارطغرل غازی کے مرکزی کردار کے انداز میں جشن منایا۔

متعلقہ خبرپہلا ٹیسٹ، فواد عالم کی شاندار سنچری، پاکستان کی پوزیشن مستحکم

جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں  فواد عالم کی شاندار...

تاہم جنوبی افریقا کے خلاف سنچری کے بعد فواد عالم نے اس “سگنیچر اسٹائل” کی وجہ بتادی۔

اس حوالے سے فواد عالم کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ میں وہ ساتھی کرکٹر اظہر علی کے ساتھ ارطغرل غازی دیکھ رہے تھے جس میں جب ارطغرل جشن میں گھوڑے کو زمین سے بلند کرتے ہیں تو اس وقت اظہر علی اور ان میں یہ طے ہوا تھا کہ جب بھی سنچری ہوئی، اس انداز میں ہی خوشی منائیں گے۔

فواد عالم نے بتایا کہ پھر نیوزی لینڈ کے خلاف سنچری ہوئی تو انہوں نے اس انداز کو اپناکر جشن منایا۔

فواد عالم نے اعتراف کیا کہ یہ انداز اب ان کا ’سگنیچر‘ یعنی پہچان والا اسٹائل بن گیا ہے۔

فواد عالم نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ایک ایسے موقع پر سنچری کی جب ٹیم کو ضرورت تھی۔

انہوں نے کہا کہ ٹیم کیلئے جب بھی اسکور ہو ، اچھا لگتا ہے۔

فواد عالم نے پلان بتاتے ہوئے کہا کہ پلان یہ یہی تھا کہ وکٹ پر جتنا زیادہ رکیں اور اسکور کو جنوبی افریقا کے ٹوٹل کے جتنا قریب لے جائیں، اتنا اگلی اننگز میں آسانی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مقصد میں نا صرف کامیابی ملی بلکہ اب جنوبی افریقا کے خلاف برتری بھی حاصل کرلی ہے۔

دوسری ج انب ایک سوال پر قومی بیٹسمین نے کہا کہ وہ 10 سال ٹیم سے باہر رہنے پر کسی کو الزام نہیں دیں گے۔

 اس حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جو چیز جب نصیب میں ہوتی ہے اس وقت ملتی ہے۔

تاہم کسی سے کوئی شکوہ نہیں وہ خوش ہیں کہ انہیں اتنی کرکٹ مل رہی ہے اور انہوں نے اتنے رنز کیے۔

علاوہ ازیں فواد عالم کا کہنا تھا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اگر 10 سال وہ کھیلتے رہتے تو شاید ان کو وہ عزت نہیں ملتی جو آج سب سے ملی ہے۔

جنوبی افریقا کے خلاف کراچی ٹیسٹ کے دوسرے روز فواد عالم کی سنچری کی بدولت پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ فواد عالم 109 رنز بناکر آؤٹ ہوئے ہیں۔

-->
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More