ٹوکیو اولمپکس: ارشد ندیم جیولن تھرو کے فائنل میں پہنچنے میں کامیاب، جانیے کہ میاں چنوں کے گاؤں کا کرکٹر ایتھلیٹ کیسے بنا

بی بی سی اردو  |  Aug 04, 2021

ارشد ندیم
Getty Images
ارشد ندیم اولمپکس کی تاریخ میں پہلے پاکستانی ایتھلیٹ ہیں جنھوں نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اولمپکس کے لیے براہ راست کوالیفائی کیا ہے

پاکستان کے 24 سالہ ایتھلیٹ ارشد ندیم نے ٹوکیو اولمپکس کے جیولن تھرو ایونٹ کے کوالیفائنگ مقابلوں میں کامیابی کے بعد فائنل مقابلے تک رسائی حاصل کر لی ہے۔

بدھ کی صبح کوالیفائنگ مقابلوں میں ارشد ندیم نے 85.16 میٹر دور جیولن پھینک کر گروپ بی میں پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ وہ فائنل میں جگہ بنانے والے 12 ایتھلیٹس میں مجموعی طور پر تیسرے نمبر پر رہے۔۔

ارشد ندیم اولمپکس کی تاریخ میں پہلے پاکستانی ایتھلیٹ ہیں جنھوں نے کسی ’انویٹیشن کوٹے‘ یا وائلڈ کارڈ کے بجائے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اولمپکس کے لیے براہ راست کوالیفائی کیا ہے اور انھیں ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کا کوئی بھی تمغہ حاصل کرنے کی آخری امید قرار دیا جا رہا ہے۔

جیولن تھرو کے فائنل مقابلے سات اگست کو ہوں گے۔ ارشد نے کوالیفائنگ راؤنڈ میں جس فاصلے تک نیزہ پھینکا یہ ان کے کریئر کی بہترین کارکردگی نہیں تھی اور وہ سنہ 2019 میں نیپال کے شہر کٹھمنڈو میں 86 اعشاریہ 29 میٹرز فاصلے تک نیزہ پھینک کر ساؤتھ ایشین گیمز کا نیا ریکارڈ قائم کر چکے ہیں۔

اسی کارکردگی کی بنیاد پر وہ براہ راست ٹوکیو اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے میں بھی کامیاب ہوئے تھے۔

میاں چنوں کے گاؤں کا کرکٹر ایتھلیٹ کیسے بنا؟

ارشد ندیم کا تعلق میاں چنوں کے قریب واقع گاؤں چک نمبر 101-15 ایل سے ہے۔

ان کے والد راج مستری ہیں لیکن اُنھوں نے اپنے بیٹے کی ہر قدم پر حوصلہ افزائی کی ہے۔ ارشد ندیم کے کریئر میں دو کوچز رشید احمد ساقی اور فیاض حسین بخاری کا اہم کردار رہا ہے۔

رشید احمد ساقی ڈسٹرکٹ خانیوال ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کے صدر ہونے کے علاوہ خود ایتھلیٹ رہے ہیں۔ وہ اپنے علاقے میں باصلاحیت ایتھلیٹس کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی میں پیش پیش رہے ہیں۔

رشید احمد ساقی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ارشد ندیم جب چھٹی ساتویں جماعت کے طالبعلم تھے، اُنھیں وہ اس وقت سے جانتے ہیں۔ ’اس بچے کو شروع سے ہی کھیلوں کا شوق تھا۔ اس زمانے میں ان کی توجہ کرکٹ پر زیادہ ہوا کرتی تھی اور وہ کرکٹر بننے کے لیے بہت سنجیدہ بھی تھے لیکن ساتھ ہی وہ ایتھلیٹکس میں بھی دلچسپی سے حصہ لیا کرتے تھے۔ وہ اپنے سکول کے بہترین ایتھلیٹ تھے۔‘

رشید احمد ساقی کہتے ہیں ’میرے ارشد ندیم کی فیملی سے بھی اچھے مراسم ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دن ان کے والد میرے پاس آئے اور کہا کہ ارشد ندیم اب آپ کے حوالے ہے، یہ آپ کا بیٹا ہے۔ میں نے ان کی ٹریننگ کی ذمہ داری سنبھالی اور پنجاب کے مختلف ایتھلیٹکس مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے بھیجتا رہا۔ ارشد نے پنجاب یوتھ فیسٹیول اور دیگر صوبائی مقابلوں میں کامیابیاں حاصل کیں۔‘

وہ کہتے ہیں ʹیوں تو ارشد ندیم شاٹ پٹ، ڈسکس تھرو اور دوسرے ایونٹس میں بھی حصہ لیتے تھے لیکن میں نے ان کے دراز قد کو دیکھ کر اُنھیں جیولن تھرو کے لیے تیار کیا۔‘

رشید احمد ساقی بتاتے ہیں ʹمیں نے ارشد ندیم کو ٹریننگ کے لیے پاکستان ایئر فورس بھیجا لیکن ایک ہفتے بعد ہی واپس بلا لیا۔ اس دوران پاکستان آرمی نے بھی ارشد ندیم میں دلچسپی لی بلکہ ایک دن آرمی کی گاڑی آئی اور اس میں موجود ایک کرنل صاحب میرا پوچھ رہے تھے۔

’میں گھبرا گیا کہ کیا ماجرا ہے؟ لیکن جب اُنھوں نے ارشد ندیم کی بات کی تو میری جان میں جان آئی۔ کرنل صاحب بولے ارشد ندیم کو آرمی میں دے دیں ، لیکن میں نے انکار کر دیا۔ کرنل صاحب نے وجہ پوچھی تو میں نے بتایا کہ آپ لوگ اس کی ٹریننگ ملٹری انداز میں کریں گے۔ بہرحال اس کے بعد میں نے ارشد ندیم کو واپڈا کے ٹرائلز میں بھیجا جہاں وہ سلیکٹ ہو گئے۔‘

ارشد ندیم شادی شدہ ہیں ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹوکیو اولمپکس 2020: میڈل ٹیبل پر کون آگے؟

پاکستان کے 10 میں سے نو کھلاڑی اولمپک مقابلوں سے باہر، ارشد ندیم آخری امید

انڈین ہاکی کی اونچی اڑان، پاکستانی ہاکی اندھیروں میں گم

’تین پی ایچ ڈیز کے حامل‘ وزیراعظم اور اولمپکس میں پاکستان کی ’صفر کارکردگی‘

رشید احمد ساقی کہتے ہیں ʹمیں ارشد ندیم کو مذاقاً کہتا تھا کہ اولمپکس میں شرکت کا خواب پورا ہو جائے تو پھر شادی کرنا، لیکن آپ کو پتہ ہی ہے کہ گاؤں میں شادیاں کم عمری اور جلدی ہو جایا کرتی ہیں۔‘

بہت جلدی سیکھنے والا شاگرد

ارشد ندیم کا سفر میاں چنوں کے گھاس والے میدان سے شروع ہوا جو اُنھیں ٹوکیو اولمپک سٹیڈیم تک لے گیا ہے جہاں ان کا مقابلہ دنیا کے بہترین ایتھلیٹس سے ہے۔

ارشد ندیم کے موجودہ کوچ فیاض حسین بخاری ہیں جن کا تعلق پاکستان واپڈا سے ہے۔ وہ خود بین الاقوامی ایتھلیٹکس مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔

فیاض حسین بخاری نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ارشد ندیم ایک سمجھدار ایتھلیٹ ہیں جو بہت جلدی سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو کام ایک عام ایتھلیٹ چھ ماہ میں کرتا ہے ارشد وہ کام ایک ماہ میں کر لیتے ہیں۔‘

اُن کے مطابق دو سال قبل ہونے والی ساؤتھ ایشین گیمز سے قبل اُن دونوں نے یہ عہد کر لیا تھا کہ اولمپکس میں وائلڈ کارڈ کے ذریعے نہیں جانا بلکہ کارکردگی کے ذریعے کوالیفائی کریں گے۔

فیاض بخاری کہتے ہیں ʹاولمپکس میں ارشد ندیم کا مقابلہ دنیا کے بہترین ایتھلیٹس سے ہے لیکن وہ بہت زیادہ پرامید ہیں کہ ارشد ندیم اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ ہم پر یہ قوم کا قرض ہے اور ہم اسے اتاریں گے۔‘

اولمپکس کے گولڈ میڈل کی اصل قیمت کیا ہے؟

اولمپکس مقابلے کب شروع ہوئے اور ان میں مذہب کا کتنا عمل دخل تھا؟

ارشد ندیم کا انٹرنیشنل کریئر

ارشد ندیم نے 2016 میں انڈیا کے شہر گوہاٹی میں منعقدہ ساؤتھ ایشین گیمز اور ویتنام میں ہونے والی ایشین جونیئر ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں کانسی کے تمغے جیتے۔

سنہ 2017 میں باکو میں ہونے والے اسلامک سالیڈیرٹی گیمز میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پھر 2018 میں جکارتہ میں ہونے والی ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ اسی سال اُنھوں نے کامن ویلتھ گیمز میں آٹھویں پوزیشن حاصل کی۔

اس کے بعد 2019 میں ارشد ندیم نے قطر میں ہونے والی ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سولہویں پوزیشن حاصل کی اور 81 اعشاریہ 52 میٹرز کے ساتھ نیا قومی ریکارڈ بھی قائم کیا۔

اُسی سال اُنھوں نے کٹھمنڈو میں منعقدہ ساؤتھ ایشین گیمز میں 86 اعشاریہ 29 میٹرز کے ساتھ ان کھیلوں کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔

ارشد ندیم کو اس سال ٹوکیو اولمپکس کی تیاری کے سلسلے میں ایران کے شہر مشہد میں ہونے والے مقابلے میں حصہ لینے کا موقع ملا جہاں اُنھوں نے نہ صرف گولڈ میڈل جیتا بلکہ 86 اعشاریہ 38 میٹرز دور نیزہ پھینک کر اپنا ہی قائم کردہ قومی ریکارڈ بہتر بنایا۔

وہ اولمپکس کی تیاری کے سلسلے میں ترکی بھی گئے تھے لیکن کووڈ کی صورتحال کی وجہ سے ان کی ٹریننگ متاثر ہوئی اور اُنھیں وطن واپس آنا پڑا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More