تحریکِ لبیک کا لانگ مارچ: مظاہرین کا جی ٹی روڈ پر قیام، شیخ رشید مذاکرات کے لیے لاہور میں موجود

بی بی سی اردو  |  Oct 24, 2021

ٹی ایل پی
Getty Images

کالعدم تنظیم تحریکِ لبیک پاکستان کے ’لانگ مارچ‘ کے شرکا کو لاہور میں روکنے کی کوششیں ناکام رہی ہیں اور اب یہ قافلہ لاہور کی حدود سے نکل کر جی ٹی روڈ کے راستے اسلام آباد کی جانب گامزن ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق اس قافلے کے شرکا اتوار کو ضلع گوجرانوالہ میں مریدکے کے نواح سے اپنے سفر کا دوبارہ آغاز کریں گے۔

پنجاب پولیس نے ابتدا میں لاہور اور اور پھر ضلع شیخوپورہ میں اس قافلے کو روکنے کی متعدد بار کوشش کی تاہم اسے ناکامی کا سامنا رکنا پڑا۔ تاہم تحریک لبیک کے ذرائع نے کہا ہے کہ کالا شاہ کاکو سے نکلنے کے بعد مریدکے تک انھیں پولیس کی جانب سے کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جمعے کی شام سے شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک کم از کم دو پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ تحریکِ لبیک کے ترجمان کی جانب سے بھی درجنوں کارکنوں کے زخمی اور متعدد کے ہلاک ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قافلے کے شرکا کی جانب سے شدید پتھراؤ سے ایک ڈی ایس پی اور دو ایس ایچ اوز سمیت 50 سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

سربراہ لاہور پولیس غلام محمود ڈوگر نے لاہور کے گنگا رام اور سروسز ہسپتال میں زخمی اہلکاروں کی عیادت کی ہے۔

اس قافلے کے لاہور سے نکلنے کے بعد جہاں لاہور میں معطل کی گئی انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے وہیں حکام نے گوجرانوالہ شہر کے علاوہ مریدکے، کامونکی، وزیرآباد اور ضلع گجرات میں انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

لانگ مارچ کی آمد کے خدشے کے پیشِ نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد کے علاقے کو کنٹینرز لگا کر مکمل سیل کر دیا گیا ہے اور راولپنڈی کی اہم شاہراہ مری روڈ پر بھی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔

تنظیم کی مرکزی شوریٰ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اگر اب یہ مارچ روکنے کی کوشش کی گئی تو ان کے پاس ’پلان بی بھی موجود ہے۔‘

خیال رہے کہ تحریک لبیک کی قیادت حکومتی مذاکراتی ٹیم سے فرانسیسی سفیر کے معاملے پر کیے گئے معاہدے پر عمل کرنے پر مصِر ہے اور اس تنظیم کا اپریل میں ہونے والے احتجاجی مظاہرہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی جانب سے فرانس کے سفیر کی ملک بدری پر بحث کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کے فیصلے کے بعد ختم کیا گیا تھا۔

ادھر تحریکِ لبیک سے مذاکرات کے لیے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید سنیچر کو لاہور پہنچے۔ لاہور آمد کے بعد وزیرِ داخلہ نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں اس احتجاج سے نمٹنے کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔

اس اجلاس میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری، وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کے علاوہ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت ،آئی جی پنجاب بھی موجود تھے۔

سنیچر کو رات گئے تک فریقین کے درمیان مذاکرات کی خبریں گردش میں تھیں تاہم اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

جمعے کو جھڑپوں کے بعد تحریکِ لبیک کی مرکزی شوریٰ کی جانب سے بیان میں کہا گیا تھا کہ اب بات چیت صرف اسی صورت میں ہو گی کہ جب لاہور میں قید تنظیم کے قائد سعد حسین رضوی کو رہا کر کے جلوس میں نہیں لایا جاتا اور اب وہی مذاکرات میں تنظیم کی نمائندگی کریں گے۔

تحریکِ لبیک کے لانگ مارچ کے شرکا ملک سے فرانسیسی سفیر کی بےدخلی کے معاہدے پر عملدرآمد اور تنظیم کے سربراہ سعد حسین رضوی کی رہائی کے مطالبات کر رہے ہیں۔

تاہم سنیچر کو سعد رضوی کی نظر بندی کے معاملے پر وفاقی نظر ثانی بورڈ کا اجلاس بغیر کسی کارروائی کے ملتوی ہو گیا۔

ٹی ایل پی
Getty Images

پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ سعد رضوی کی نظر بندی کا جائزہ لینے والے فیڈرل ریویو بورڈ کا اجلاس امن و امان کی خراب صورت حال کی وجہ سے نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے سعد رضوی کی نظر بندی میں توسیع سمجھی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی ریویو بورڈ کا اجلاس دو ہفتے بعد ہوگا اس بورڈ میں سپریم کورٹ کے جج مقبول باقر اور لاہور ہائی کورٹ کی جج عائشہ ملک بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ تین رکنی نظر ثانی بورڈ سپریم کورٹ, لاہور ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

جمعے اور سنیچر کو کیا ہوا؟

بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق تحریکِ لبیک کے کارکنوں نے اپنے مطالبات تسلیم کیے جانے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن کے خاتمے کے بعد جمعے کو ملتان روڈ پر واقع اپنے مرکز سے ریلی کی صورت میں جب آگے بڑھنا شروع کیا تو ایم اے او کالج کے قریب پولیس نے انھیں روکنے کے لیے آنسو گیس کے گولے چلائے جبکہ اس دوران متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔

اس دوران ایم اے او کالج سے داتار دربار تک کا علاقہ جھڑپوں کا مرکز بنا رہا۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پٹرول بم پھینکنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشتعل ہجوم کی جانب سے ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔

لاہور کے آزادی چوک میں رات قیام کے بعد سنیچر کو علی الصبح جب کارکنوں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس کی جانب سے ان پر آنسو گیس پھینکی گئی تھی۔ انتظامیہ کی جانب سے آزادی چوک کے آس پاس کے علاقے کو کنٹینر لگا کر بند بھی کیا گیا لیکن قافلے کے شرکا رکاوٹیں ہٹا کر آگے بڑھ گئے۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ نے تحریکِ لبیک کے لانگ مارچ میں شامل مظاہرین کے مبینہ تشدد اور گاڑیوں کی ٹکر سے ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروںکے لواحقین سے ہمدردی و اظہار تعزیت کرتے ہوئے قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔

ایک بیان میں عثمان بزدار نے کہا ہے کہ اس افسوسناک واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے اور قانون کی عملدراری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

سڑکوں کی بندش

ٹی ایل پی کے مارچ کو روکنے کے لیے پنجاب کے مختلف شہروں اور اسلام آباد میں پولیس اور انتظامیہ نے متعدد شاہراہیں بند کر رکھی ہیں۔

سوشل میڈیا پر گجرات کے قریب مرکزی شاہراہ کو کھود دیے جانے کی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے داخلی راستوں اور مرکزی شاہراہوں کو جزوی یا مکمل طور پر بند کرنے کے لیے کنٹینرز لگائے گئے ہیں۔اسلام آباد میں حکام نے کاک پل، کورال، کھنہ، ترامڑی چوک، بہارکہو، زیروپوائنٹ سمیت متعدد مقامات کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

راولپنڈی میں مری روڈ جزوی طور پر فیض آباد تک ٹریفک کے لیے بند ہے۔

اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعہ کی صبح تحریکِ لبیک پاکستان کے مزید چالیس کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں 20 کارکنان کو اٹک، 10 کو ٹیکسلا اور 10 کو راولپنڈی سے حراست میں لیا گیا ہے۔

جمعہ کی صبح سے ہی اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقعہ فیض آباد چوک اور راولپنڈی سٹیڈیم روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ راولپنڈی کی مرکزی شاہراہ مری روڈ بھی متعدد جگہوں پر ٹریفک کے لیے بند ہے، جس سے دونوں شہروں کے رہائشیوں کو آمد و رفت میں کافی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

سعد رضوی کی گرفتاری کا پس منظر

خیال رہے کہ پیغمبرِ اسلام کے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کو 20 اپریل تک ملک بدر نہ کیے جانے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی دھمکی دینے والے تحریکِ لبیک کے امیر سعد رضوی کو اپریل کے وسط میں لاہور پولیس نے حراست میں لیا تھا اور وہ تاحال نظربند ہیں۔

سعد رضوی پر الزام تھا کہ انھوں نے اپنی جماعت کے کارکنان کو حکومت کے خلاف مظاہروں پر اکسایا جس کے دوران پرتشدد کارروائیوں میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد تحریکِ لبیک کی جانب سے ملک کے متعدد شہروں میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس کے دوران کم از کم چار پولیس اہلکار ہلاک جبکہ سینکڑوں اہلکار اور کارکن زخمی ہوئے تھے۔

حکومت نے 16 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک پاکستان کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکاتی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمان سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا تھا۔

اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری 2021 میں مذکورہ جماعت اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی کے احکامات سپریم کورٹ میں چیلنج

سعد رضوی کی نظر بندی کا نوٹیفیکیشن کالعدم

احتجاج ختم لیکن تحریک لبیک کے گرفتار افراد کی رہائی پر ’کنفیوژن‘ موجود

حکومت-ٹی ایل پی مذاکرات: ’ناؤ میں کس نے چھید کیا ہے، سچ بولو‘

سعد رضوی کون ہیں؟

خادم رضوی کی وفات کے بعد ان کی جماعت کی 18 رکنی شوریٰ نے گذشتہ برس ان کے بیٹے سعد رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کیا جس کا اعلان جماعت کے مرکزی نائب امیر سید ظہیر الحسن شاہ نے جنازے کے موقع پر کیا تھا۔

لاہور میں خادم رضوی کے جنازے کے موقع پر ان کے بیٹے سعد رضوی نے خطاب میں اپنے والد کا مشن جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

سعد رضوی لاہور میں اپنے والد کے مدرسہ جامعہ ابوذر غفاری میں درس نظامی کے طالبعلم رہے۔ درس نظامی ایم اے کے برابر مدرسے کی تعلیم کو کہا جاتا ہے۔

ان کے قریبی دوستوں کے مطابق سعد کا کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات سے گہرا رابطہ ہے۔

وہ شاعری سے خصوصی شغف رکھتے ہیں اور سب سے اہم یہ کہ وہ جدید دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے بھی خوب واقف ہیں اور فیس بک اور ٹوئٹر پر اپنے ذاتی اکاؤنٹس چلاتے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More