آسٹریلیا: بنا پائلٹ جنگی جہاز، کیا قوانین ان جہازوں سے حفاظت فراہم کرتے ہیں؟

بول نیوز  |  Dec 04, 2021

آسٹریلیا کے شہر کوئینز لینڈ میں جہاز ساز کمپنی بوئنگ نے ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ آسٹریلیا میں گزشتہ 50 برسوں کے دوران پہلی بار ایک نیا ملٹری ایئر کرافٹ ڈیزائن کرنے اور بنانے جارہی ہے۔

بوئنگ کے بنا پائلٹ جہاز ’’لائل وِنگ مین‘‘ کی آزمائشی پرواز جنوبی آسٹریلیا کے وومیرا رینج کمپلیکس میں کی گئی۔ لائل وِنگ مین نامی بنا پائلٹ جہاز نگرانی اور مختلف فرائض کی فراہمی کیلیے دیگر پائلٹ والے جہازوں اور بنا پائلٹ والے جہازوں کے ساتھ اڑتا ہے۔ اِس جہاز کے ساتھ ہتھیار بھی منسلک کیے جاسکتے ہیں۔

بنا پائلٹ جہاز نے اپنی پہلی آزمائشی پرواز مارچ میں مکمل کی تھی اور اب اس کی پیداوار اور پھر چند برسوں میں اڑان کے منصوبے تیاری کے مراحل میں ہیں۔

اگرچہ بہت سی افواج بنا پائلٹ جہاز جیسے ڈرونز کافی عرصے استعمال کرچکی ہیں جنہیں زمین سے کنٹرول کیا جاتا ہے مگر ’’ لائل وِنگ مین‘‘ جہاز میں انسانی نگرانی میں پہلے سے پروگرام شدہ پرواز کا عمل دخل شامل کیا گیا ہے۔

’’ لائل وِنگ مین‘‘ نامی بنا پائلٹ جہاز کو اپنی پرواز ریئل ٹائم انسانی نگرانی کے بغیر مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کو استعمال میں لاتے ہوئے مکمل کرنے کیلیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

دنیا بھر میں افواج اس طرح کی مصنوعی ذہانت کی حامل ٹیکنالوجی پر سرمایہ لگا رہی ہیں۔ ان پروگرام شدہ بنا پائلٹ جہازوں کو اڑانے کیلیے زیادہ افرادی قوت درکار نہیں ہوتی اس لیے یہ کسی ملک کی فضائیہ میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بنا پائلٹ جہاز، پائلٹ والے جہازوں کی نسبت کم قیمت ہیں اس لیے بھی یہ فوجی مقاصد کیلیے فائدہ مند اور فضائی قوت میں اضافے کا باعث ہیں۔

اب یہاں سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ جب فضاؤں میں خود مختار بنا پائلٹ جہاز محوِ پرواز ہوں جو صحت، حفاظت اور حصولِ معلومات کے حوالے سے تشویش کا باعث ہیں، تو کیا ہمیں ان سے حفاظت فراہم کرنے کیلیے مناسب قوانین موجود ہیں؟

ان بنا پائلٹ خود مختار جہازوں کی فضاؤں میں پرواز کے حوالے سے متعدد غور طلب قانونی نکات پائے جاتے ہیں جن میں ذاتیات میں دخل اندازی، شور، پیشہ ورانہ صحت اور تحفظ، ماحولیاتی اور عوامی ذمے داری شامل ہیں۔

آسٹریلین ڈیفنس فورسز (اے ڈی ایف) کو ان بنا پائلٹ جہازوں کی پروازوں کیلیے ڈیفنس ایوی ایشن سیفٹی اتھارٹی کے بنائے ریگولیشنز میں ترامیم کرنے کی ضرورت ہوگی۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More