کراچی میں توہین مذہب کے الزام میں ’سام سنگ کے مقامی دفتر کا مینیجر‘ گرفتار، 10 مظاہرین بھی حراست میں

بی بی سی اردو  |  Jul 02, 2022

پاکستان کے شہر کراچی کی ایک موبائل مارکیٹ میں مشتعل ہجوم کی توڑ پھوڑ کے بعد پولیس نے توہین مذہب کے الزام میں سام سنگ کے مقامی دفتر کے مینیجر اور 10 مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔

ایس ایس پی ساؤتھ کراچی پولیس اسد رضا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سام سنگ کے مینیجر کو مقدس شخصیات کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے جبکہ پُرتشدد واقعات پر 10 مظاہرین حراست میں لیے گئے ہیں۔ دوسری طرف تین وائی فائی راؤٹرز ضبط کرتے ہوئے مزید تحقیقات کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

تھانہ پریڈی کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ میں درج شکایت کے مطابق صدر میں واقع سٹار سٹی مال میں سام سنگ کے دفتر میں انٹرنیٹ کے لیے لگائے گئے دو عدد وائی فائی ناموں کے ذریعے ’صحابہ کی شان میں گستاخی‘ کی گئی اور ’مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروع‘ کیے گئے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرتی کئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہاتھوں میں ڈنڈے تھامے مشتعل افراد الیکٹرانکس کی دکانوں کے باہر توڑ پھوڑ کر رہے ہیں اور سام سنگ کے تشہیری سائنبورڈز کو گرایا جا رہا ہے۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی مدد سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ وائی فائی ڈیوائس لگانے کا ذمہ دار کون تھا۔ ’جس کمپنی کی وائی فائی ڈیوائس سے مسئلہ پیدا ہوا اس کے تینوں راؤٹرز کو ایف آئی اے سائبر کرائم بھجوادیا گیا ہے۔‘

ادھر سام سنگ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ تمام مذاہب کے لوگوں کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہیں اور ’کمپنی نے فوراً اندرونی تحقیقات شروع کر دی ہے۔‘

'وائی فائی کے نام کا سکرین شاٹ مارکیٹ میں واٹس ایپ سے پھیلا‘

عینی شاہدین میں سے ایک عمر وقار کا کہنا ہے کہ صدر کی موبائل مارکیٹ میں جمعے کی صبح حالات اس وقت کشیدہ ہونا شروع ہوئے جب ایسی اطلاعات پھیلیں کہ موبائل کمپنی کے عملے میں کسی نے پیغمبر اسلام اور ان کے ساتھیوں کی مبینہ توہین کی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس کے ردعمل میں سینکڑوں مظاہرین جمع ہوئے اور اور انھوں نے سام سنگ کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی اور املاک کو نقصان پہنچایا جبکہ سام سنگ کے عملے میں سے کچھ افراد کو مار پیٹ کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

ان کے مطابق پولیس اور رینجرز کے موقع پر پہنچنے کے بعد بھی جگہ جگہ سام سنگ کی برانڈنگ اور لوگو پر ڈنڈے برسائے گئے اور اسے اتار کر نیچے سڑک پر پھینکا گیا۔

عمر وقار نے بتایا کہ اس کے بعد پولیس اہلکاروں نے لاؤڈ سپیکر میں مظاہرین سے منشتر ہونے کی درخواست کی اور کہا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں لاٹھی چارج کیا جائے گا۔ اس دوران مارکیٹ کی تمام دکانیں بند کر دی گئی تھیں اور مظاہرین نے اطراف کی سڑکوں کو بلاک کر رکھا تھا۔

ساؤتھ کراچی کے پریڈی تھانے کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ میں الیکٹرانکس کا کاروبار کرنے والے لقمان سلیمان نے پولیس کو بتایا ہے کہ صبح ساڑھے دس بجے مارکیٹ پہنچنے پر انھیں بذریعہ واٹس ایپ ایک سکرین شاٹ موصول ہوا جس میں مختلف ناموں کے وائی فائی نظر آ رہے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’دو وائی فائی کے نام (میں) صحابہ کو گستاخانہ الفاظ سے تعبیر کیا گیا تھا۔۔۔ یہ سکرین شاٹ مارکیٹ کے دوسرے لوگوں کو بھی بذریعہ واٹس ایپ موصول ہوئے۔ مارکیٹ کے دیگر لوگ بھی جمع ہوگئے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انھیں اور ان سمیت دیگر افراد کو معلوم ہوا کہ یہ وائی فائی سام سنگ کے دفتر میں انٹرنیٹ سروس کے لیے لگایا گیا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس سے ان سمیت دیگر مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروع ہوئے ہیں جس پر انھوں نے پولیس سے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

توہین مذہب کے الزام میں شہری کی ہلاکت: ’ظالموں نے بھائی کی تمام انگلیاں ٹوکے سے کاٹ دیں‘

توہین مذہب پر سزائے موت: ’میرا بھائی 2016 سے اپنے مکمل حواس میں نہیں‘

بی جے پی رہنما کا پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازع بیان، قطر کا انڈیا سے معافی مانگنے کا مطالبہ

صبح کو شروع ہونے والا سلسلہ نماز جمعہ کے بعد بھی جاری رہا اور ایسے میں سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں بھی پھیلتی نظر آئیں جس میں لوگوں کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ پاکستان تحریک لبیک (ٹی ایل پی) کے کارکنان مبینہ طور پر سام سنگ کے کسی کیو آر کوڈ کی وجہ سے ان پر توہین الزام لگا رہے ہیں۔ پولیس کے بیان سے اس کی تردید ہوتی ہے تاہم اس افواہ کو ابھی بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا رہا ہے۔

کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر رضوان عرفان کہتے ہیں کہ وائی فائی ڈیوائس کے معاملے پر پولیس کی جانب سے کی گئی کارروائی کے بعد صورتحال اب قابو میں ہے اور سنیچر کو مارکیٹ کھول دی جائے گی۔

ترجمان پولیس نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ صورتحال اس وقت قابو میں ہے اور احتجاج ختم ہوچکا ہے۔

https://twitter.com/SamsungPakistan/status/1542834440510083072

سام سنگ پاکستان کا تحقیقات کا اعلان

کراچی میں دفتر اور تشہیری املاک کی توڑ پھوڑ کے بعد سام سنگ پاکستان نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ کمپنی مذہبی جذبات کے حوالے سے غیر جانبدار ہے۔

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ سام سنگ پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ اپنے ویژن اور آپریشنز میں غیر جانبداری اور مذاہب کے لیے احترام یقینی بنائیں۔ ’کراچی میں ہونے والے واقعے پر سام سنگ الیکٹرانکس کمپنی کے اس مؤقف پر کھڑی ہے جس میں تمام مذاہب کے جذبات کے لیے احترام رکھا جاتا ہے اور دین اسلام کو عزت دی جاتی ہے۔‘

سام سنگ پاکستان کا کہنا ہے کہ بطور ایک ملٹی نیشنل کمپنی وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا معاشرے میں کردار ہے اور اسی لیے کمپنی نے ’فوراً معاملے پر اندرونی تحقیقات شروع کر دی ہے۔‘

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سام سنگ اس حوالے سے سخت قواعد و ضوابط رکھتا ہے جنھیں عالمی سطح پر اپنایا جاتا ہے۔

دوسری جانب سام سنگ نے اس مبینہ وائی فائی ڈیوائس کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے جس کے ساتھ اس کے عملے کو جوڑا گیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More