ایران کا سلمان رشدی پر حملے سے کوئی تعلق نہیں، وہ خود اس کا ذمہ دار ہے: ایران

بی بی سی اردو  |  Aug 15, 2022

Getty Imagesایرانی رہنما آیت اللہ خمینی نے ایک فتویٰ جاری کیا جس میں رشدی کو واجب القتل قرار دیا گیا تھا

ایران نے سلمان رشدی پر قاتلانہ حملہ کرنے والے شخص سے کسی بھی قسم کے تعلق کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اس حملے کا ذمہ دار خود سلمان رشدی کو ہی قرار دیا ہے۔

نیویارک میں ایک تقریب کے دوران سٹیج پر چڑھ کر ایک شخص نے پچھتر سالہ مصنف سلمان رشدی کو چاقو کے وار کر کے شدید زخمی کر دیا تھا۔

سلمان رشدی کو گردن پر بھی زخم آیا تھا لیکن اب انھیں سانس لینے میں کوئی دشواری پیش نہیں آ رہی ہے۔

سلمان رشدی کو سنہ 1988 میں لکھی گئی کتاب 'سیٹنک ورسز' کی اشاعت کے بعد سے قتل کی دھمکیوں کا سامنا رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکننے سلمان رشدی پر حملےکے ایران میں سرکاری ذرائع ابلاغ پر اس حملے کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں میں خوشی کے اظہار پر تنقید کرتے ہوئے اس طرز عمل کو قابل نفرت قرار دیا۔

ایران میں ذرائع ابلاغ پر سلمان رشدی پر قاتلانہ حملے کی خبریں وسیع پیمانے پر شائع اور نشر کی گئیں تھیں اور اس حملے کو قدرت کی طرف سے ایک سزا قرار دیا گیا تھا۔

ایران میں سرکاری نشریاتی ادارے جام جمنے رشدی کی آنکھ ضائع ہو جانے کی خبر کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'شیطان ایک آنکھ سے اندھا ہو گیا ہے۔'

گزشتہ جمعہ کو جیسے ہی سلمان رشدی پر حملے کی خبریں آنا شروع ہوئیں دنیا بھر کی نظریں ایران پر لگ گئیں جہاں تین دہائیوں قبل سرکاری طور پر سلمان رشدی کو ایک فتوی کے ذریعے واجب القتل قرار دیا گیا تھا اور مبینہ طور پر توہین رسالت کے مرتکب ہونے والے مصنف کو قتل کرنے والے کو نقد انعام دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نصیر کینانی نے پہلی مرتبہ سرکاری طور پر اس قاتلانہ حملے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس حملے سے کسی بھی قسم کا تعلق ہونے کی تردید کرتا ہے۔ ایران کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران پر اس قسم کی بے بنیاد الزام تراشی کرے۔

Reuters

انہوں نےآزادی رائے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آزادی رائے کا حق سلمان رشدی کو مذہب کی توہین کرنے کا جواز مہیا نہیں کرتا۔

تہران میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ 'اس حملے کا ذمہ دار ہم کسی اور کو نہیں بلکہ رشدی اور اس کے حامیوں کوسمجھتے ہیں اور انھیں قابل مذمت قرار دیتے ہیں۔'

ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ 'مذہب اسلام کی توہین اور ڈیرھ ارب مسلمانوں کے لیے مقدس تصور کی جانے والی حدود عبور کر کے سلمان رشدی نے خود اس الہامی مذہب کے ماننے والوں کے غیض و غضب کو دعوت دی تھی۔'

انہوں نے کہا کہ ایران کو اس حملہ آوور کے بارے میں صرف اتنا ہی معلوم ہے جو اب تک ذرائع ابلاغ میں شائع ہوا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ یہ انتہائی احمقانہ بات ہے کہ قاتلانہ حملے کا ذمہ دار اسی شخص کو قرار دیا جائے جس پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ صرف ایک شخص پر حملہ نہیں تھا بلکہ یہ آزادی اظہار اور آزادی رائے پر حملہ تھا۔

قبل ازیں برطانیہ کی حزب اختلاف کی طرف سے 'شیڈو' یا وزارت خارجہ کے امیدوار ڈیویڈ لیمی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سفارتی ذرائع سے ایران کو یہ بیان واپس لینے پر مجبور کرئے۔

امریکی وزیر خارجہ نے اس سے قبل ایران کے سرکاری اداروں کو اس متنازع مصنف کے خلاف تشدد پر اکسانے کا الزام لگاتے ہوئے ان کی مذمت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 'اگرچہ قانون نافذ کرنے والےاس حملے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن مجھے ان منفی قوتوں کی یاد آ رہی ہے جو نفرت انگیز تقریر اور تشدد پر اکسانے سمیت ان حقوق کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ خاص طور پر ایرانی ریاستی اداروں نے کئی نسلوں سے رشدی کے خلاف تشدد پر اکسایا ہے اور حال ہی میں سرکاری ذرائع ابلاغ نے ان کی زندگی پر اس کوشش کے بارے میں مسرت کا اظہار کیا ہے جوقابل نفرت ہے۔

مسٹر بلنکن نے مزید کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی 'ان خطرات' کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے 'ہر مناسب حربہ' استعمال کریں گے۔

اتوار کے روز رشدی کے بیٹے نے کہا کہ مصنف کی حالت ابھی بھی تشویشناک ہے: 'اگرچہ ان کے زخم بہت شدید ہیں لیکن ان کی حس مزاح برقرار ہے۔'

ہفتہ کے روز جب سلمان رشدی کو وینٹی لیٹر سے اتارا گیا تو اہل خانہ کو تسلی ہوئی کہا کہ انہوں نے "چند الفاظ" ادا کیے۔

مصنف کے ایجنٹ اینڈریو وائلی نے کہا کہ سلمان رشدی کے ایک بازو، جگر پر زخم آئے ہیں اور ایک آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

جمعہ کے روز ہونے والے حملے کے الزام میں ملوث شخص جس کا نام ہادی ماتر ہے، جس کی عمر 24 سال ہے، نے قتل کی کوشش اور حملے کے الزامات سے انکار کیا ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اسٹیج پر دوڑ کر مسٹر رشدی کے چہرے، گردن اور پیٹ میں کم از کم 10 بار چھرا گھونپا تھا۔

ناول نگار کو 1988 میں سیٹنک ورسز کے عنوان سے کتاب کی اشاعت کے بعد تقریباً دس سال تک روپوش رہنا پڑا۔

سلمان رشدی کو جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا اور اس وقت کے ایرانی رہنما آیت اللہ خمینی نے ایک فتویٰ جاری کیا جس میں رشدی کو واجب قتل قرار دیا گیا اور مصنف کے سر پر 30 لاکھ ڈالرکا انعام رکھا گیا۔

یہ فتویٰ بدستور برقرار ہے اور اگرچہ ایران کی حکومت نے اس سے خود کو الگ کر لیا ہے لیکن ایک نیم سرکاری ایرانی مذہبی فاؤنڈیشن نے 2012 میں اس انعام میں مزید پانچ لاکھ ڈالر کا اضافہ کیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More