انگلینڈ بمقابلہ پاکستان چوتھا ٹی ٹوئنٹی: سوشل میڈیا پر پاکستان کی سنسنی خیز فتح پر تبصرے، حارث رؤف کی تعریفیں

بی بی سی اردو  |  Sep 25, 2022

Getty Images

پاکستانی ٹیم بیک وقت حریف ٹیم کے ساتھ کھیلنے کے علاوہ پاکستانی مداحوں کے دلوں سے بھی کھیلتی ہے اور اس بات کا اعتراف پاکستان ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے میچ کے اختتام پر بات کرتے ہوئے کیا۔

انھوں نے کہا کہ 'جیسے شاداب نے کہا تھا کہ لوگوں کو ہارٹ اٹیک کروائیں گے، آج بھی کافی دلچسپ میچ ہوا۔'

یقیناً یہ میچ دلوں کی دھڑکنیں روکنے والا تھا، کبھی میچ کا پانسہ ایک ٹیم، تو کبھی دوسری کی جانب پلٹ جاتا۔ سابق ویسٹ انڈین فاسٹ بولر اور کمنٹیٹر ایئن بشپ نے ٹویٹ کیا کہ وہ میچ کے 18ویں اوور کے بعد ٹی وی بند کر چکے تھے، کیونکہ انھوں نے یہ مان لیا تھا کہ اب انگلینڈ جیت جائے گا۔

بشپ ایسا کرنے والے شاید اکیلے نہیں ہوں گے، لیکن اکثر پاکستانی مداح جو اس ٹیم سے بے حد لگاؤ رکھتے ہیں آخری گیند تک میچ دیکھتے ہیں، کیونکہ انھیں اب اچانک میچ کے آخر میں کسی معجزے کی عادت سی ہو گئی ہے۔

حارث رؤف جب 19واں اوور کرنے کے لیے اپنے بولنگ رن اپ پر کھڑے ہوئے، تو انگلینڈ کو جیت کے لیے صرف نو رنز درکار تھے۔ لائم ڈاسن 30 رنز بنا کر سٹرائک پر موجود تھے اور انگلینڈ کے پاس تین وکٹیں تھیں۔

منطق عام طور پر ایسی صورتحال میں پاکستان کی شکست کو ہی سب سے یقینی نتیجہ قرار دے گی۔ حارث رؤف کی دوسری گیند پر لائم ڈاسن نے چوکا لگایا تو انگلینڈ کے لیے فتح صرف ایک چھکے کی مار تھی۔

تاہم پھر حارث رؤف نے وہ کیا جو تاریخی طور پر بھی کوئی پاکستانی فاسٹ بولر ہی کر سکتا ہے۔ پہلے باؤنسر کروا کر لائم ڈاسن کی وکٹ حاصل کی، اور پھر اگلی گیند پر اولی سٹون کو بولڈ کر کے پاکستان کو فتح کے بہت قریب لے آئے۔

آخری اوور میں انگلینڈ کو ان چار رنز درکار تھے، لیکن اب پاکستان حاوی اور انگلینڈ بوکھلاہٹ کا شکار تھا، اور اسی بوکھلاہٹ میں ریس ٹوپلی رن آؤٹ ہوئے اور پاکستان نے یہ میچ صرف تین رنز سے جیت لیا۔

شاداب جو اس وقت انجری کے باعث ٹیم کا حصہ نہیں ہیں نے میچ کے بعد ٹویٹ کیا کہ 'باہر بیٹھ کر دیکھنا زیادہ مشکل ہے۔'

تاہم اس میچ میں صرف حارث رؤف ہی نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ یہ بہت حد تک ایک ٹیم ایفرٹ تھی۔ پاکستان کے سابق کوچ مکی آرتھر نے آصف علی کی جانب سے تین گیندوں پر 13 رنز کی اننگز کو سراہتے ہوئے کہا کہ انھیں مزید گیندیں کھیلنی چاہییں، آصف علی فیصلہ کن ثابت ہوئے۔

آصف علی کے دیر سے کریز پر آنے کے بارے میں ٹیم مینیجمنٹ کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’کیا اب بھی کسی کو آصف علی کی ٹیم میں شمولیت پر شک ہے۔ کیونکہ اس ٹیم میں وہی واحد بلے باز ہیں جو پہلی گیند سے چھکا لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

آصف علی کے علاوہ آج پاکستان بولنگ میں محمد نواز نے حارث کی طرح تین اہم وکٹیں حاصل کیں جن میں بین ڈکٹ کی وکٹ شامل تھی۔ اسی طرح محمد وسیم جونیئر جو انجری کے بعد ٹیم میں واپسی کر رہے تھے، نے ہیری بروک کی اہم وکٹ حاصل کی۔ اسی طرح محمد رضوان نے 67 گیندوں پر 88 رنز کی اچھی اننگز کھیلی۔

آج پاکستان نے عثمان قادر سے بولنگ نہیں کروائی، جس کی ایک وجہ انگلینڈ کے مڈل آرڈر میں بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کی موجودگی تھی جنھیں افتخار احمد کی آف سپن نے جکڑے رکھا۔

اسی طرح آج پاکستان کی جانب سے 10ویں اوور کے بعد سے خاصی سست بیٹنگ دیکھنے کو ملی اور شان مسعود انگلش بولرز کی گیندوں کو باؤنڈری کے پار پہنچانے سے قاصر رہے جس پر انھیں اور ٹیم مینجیمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

مارک ووڈ نے سیریز میں جان ڈال دی: سمیع چوہدری کا کالم

شان مسعود یہ بوجھ کس حد تک اٹھا پائیں گے؟

صائم ایوب کا سعید انور سے موازنہ: ’دادا دیکھنا یہ لڑکا بڑا پلیئر بنے گا‘

’مگر ہیری بروک میلہ لوٹ گئے‘

تاہم شان مسعود ہی نے آخری انگلش بلے باز کو رن آوٹ کیا، جس پر ایک صارف نے لکھا کہ ’شان میں معذرت خواہ ہوں آپ نے اس وقت کارکردگی دکھائی جب ضرورت تھی۔‘

صارفین نے حارث رؤف کی بھی خوب تعریف کی جنھیں بعد میں پلیئر آف دی میچ دیا گیا۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’حارث رؤف کی جتنا تعریف کریں اتنی کم ہے جہاں سب کی اُمیدیں ختم ہو گئیں، کپتان بابر اعظم مایوس ہو گئے وہاں حارث رؤف نے انگلینڈ کی دو مسلسل وکٹیں گرا کر پاکستان کو واپس جیتنے کے پوزیشن میں لا کھڑا کیا۔‘

دل کا دورہ پڑنے کے بارے میں صرف بابر اعظم نے ہی بات نہیں کی بلکہ سوشل میڈیا پر صارفین بھی اس بارے میں بات کرتے نظر آئے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ پاکستان کرکٹ کا بہترین روپ ہے، یہی بات سنتے سنتے جانے کتنے لوگ ہارٹ اٹیک سے مر چکے ہیں۔‘

اسی طرح ایک اور صارف نے لکھا کہ 'جنھیں ہارٹ اٹیک نہیں ہوا، ان کے لیے خبر ہے کہ ہم جیت گئے۔'

مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More