وہ پانچ وجوہات جو چین جیسی معیشت سے سرمایہ کاروں کو ہاتھ کھینچنے پر مجبور کر رہی ہیں

بی بی سی اردو  |  Oct 06, 2022

Getty Images

چین کی معیشت کی رفتار سست ہو رہی ہے۔ حکومت کی زیرو کووڈ پالیسی پر سختی سے عمل درآمد اور عالمی طلب میں کمی کی وجہ سے چینی معیشت سست روی کا شکار نظر آتی ہے۔

چینی معیشت کی دوسری سہ ماہی کی ترقی کے اعداد و شمار جلد آنے والے ہیں۔ اگر دنیا کی دوسری بڑی معیشت گراوٹ کا شکار ہوتی ہے تو عالمی کساد بازاری کا خدشہ مزید بڑھ جائے گا۔

چین نے 5.5 فیصد سالانہ اقتصادی ترقی کا ہدف مقرر کیا ہے لیکن اب یہ ممکن نظر نہیں آتا۔

تاہم چین کے اقتصادی امور سے وابستہ سینیئر حکام اس مقصد کو حاصل کرنے پر زیادہ توجہ نہیں دے رہے ہیں تاہم پہلی سہ ماہی کے دوران چین کی معیشت کو زوال سے بچایا گیا ہے۔

چین برطانیہ اور امریکہ کی طرح مہنگائی سے تو نہیں لڑ رہا لیکن اس کے سامنے کچھ اور مسائل موجود ہیں۔ چین میں بنی اشیا کی مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں مانگ میں کمی آئی ہے۔

امریکہ جیسی دوسری بڑی معیشتوں کے ساتھ اس کی تجارتی جنگ بھی چین کی ترقی کو سست کر رہی ہے۔چینی کرنسی یوآن کئی دہائیوں میں اپنی بدترین قدر کی طرف بڑھ رہی ہے۔

کمزور کرنسی کے باعث بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے، سرمایہ کار منہ موڑ لیتے ہیں اور عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہونے کے علاوہ اس سے مرکزی بینک کے لیے معیشت میں سرمایہ کاری کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صدر شی جن پنگ کا قد بہت بڑھ چکا ہے۔

16 اکتوبر کو چینی کمیونسٹ پارٹی کے اجلاس میں انھیں تیسری بار صدر قرار دیا جا سکتا ہے۔ آئیے غور کرتے ہیں کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جنھوں نے چینی معیشت میں اس قدر تنزلی کو ہوا دی ہے؟

Getty Imagesزیرو کووڈ پالیسی

کووڈ چین کے مینوفیکچرنگ ہب جیسے شینزین اور تیانجن سمیت کئی شہروں میں پھیلا ہوا ہے اور حکومت نے اس پر قابو پانے کے لیے بہت سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

لوگ کھانے پینے پر کم خرچ کر رہے ہیں۔ ریٹیل، سیاحت اور دیگر شعبوں پر مبنی صنعتوں پر بھی مسلسل دباؤ ہے۔

مینوفیکچرنگ سیکٹر کی حالت بھی اچھی نہیں ہے۔ قومی ادارہ شماریات کے مطابق ستمبر میں مینوفیکچرنگ دوبارہ پٹری پر آ رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت انفراسٹرکچر پر زیادہ خرچ کر رہی ہے۔

تاہم یہ قدم مینوفیکچرنگ کی رفتار سست ہونے کے دو ماہ بعد اٹھایا گیا ہے اور حکومت پر اس حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

نجی سروے کے مطابق ستمبر میں فیکٹریوں کی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ طلب کی کمی نے پیداوار، نئے آرڈرز اور روزگار کو متاثر کیا ہے۔ بلند شرح سود، مہنگائی اور یوکرین جنگ کی وجہ سے امریکہ جیسے ملک میں مانگ کم ہو رہی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ چین اپنی معیشت کو تیز کرنے کے لیے مزید اقدامات کر سکتا ہے لیکن جب تک کہ صفر کووڈ پالیسی ختم نہیں ہو جاتی، ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے چیف ایشیا اکانومسٹ لوئس کوئز کہتے ہیں کہ ’اس وقت معیشت میں پیسہ لگانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اگر کمپنیاں نہیں پھیل سکتیں اور لوگ خرچ کرنے کے قابل نہیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔‘

Getty Images

چین کے ’ناکافی اقدامات‘

چین نے چھوٹے کاروباروں، انفراسٹرکچر اور ریئل اسٹیٹ کو تیز کرنے کے لیے ایک ٹریلین یوآن کے پیکج کا اعلان کیا تھا۔ ترقی کے ہدف اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے درکار اخراجات کو بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ان میں بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری میں اضافہ، گھر خریدنے والوں، پراپرٹی ڈویلپرز اور مقامی حکومتوں کے لیے قرض کی شرائط میں نرمی اور خاندانوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ جیسے اقدامات شامل ہیں۔

کوئز کا کہنا ہے کہ ’معاشی کمزوری کے حالیہ ادوار میں حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کمزور رہے ہیں۔‘

Getty Imagesریئل اسٹیٹ مارکیٹ گراوٹ کا شکار

ریئل اسٹیٹ کی سرگرمیوں اور ہاؤسنگ سیکٹر میں منفی رجحان کی وجہ سے ترقی کی رفتار میں کمی کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے۔ ریئل اسٹیٹ سے منسلک دیگر صنعتیں چین کی جی ڈی پی کا ایک تہائی حصہ ہیں۔

کوئز کہتے ہیں کہ ’جب ہاؤسنگ سیکٹر میں اعتماد کمزور ہو جاتا ہے، تو لوگ معاشی صورتحال سے اعتماد کھو دیتے ہیں۔‘

چین میں گھر خریدنے والے نامکمل عمارتوں پر قرض کی قسطیں ادا نہیں کر رہے اور بہت سے لوگوں کو شک ہے کہ ان کے گھر مکمل بھی ہو سکیں گے یا نہیں۔

نئے گھروں کی مانگ میں کمی آئی ہے اور اس کی وجہ سے تعمیراتی شعبے میں استعمال ہونے والے خام مال کی درآمد میں بھی کمی آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

چینی معیشت کا پہیہ خواتین کی وجہ سے گھومتا ہے!

چینی معیشت 2028 میں کیوں امریکہ سے آگے نکل جائے گی؟

کیا لائیو سٹریمنگ چینی معیشت کو بچا سکے گی؟

چین کی ترقی کے کیا معانی، دیکھیں ان چارٹس میں؟

چینی حکومت ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود پراپرٹی کی قیمتیں گر رہی ہیں۔ اس سال کئی شہروں میں جائیداد کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔

پراپرٹی ڈویلپرز دباؤ میں ہیں اور بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حکومت کو ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں اعتماد بحال کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔

Getty Imagesماحولیاتی تبدیلی مسائل کو بڑھا رہی ہے

ماحولیات تبدیلی کا اثر چین کی صنعت پر نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔

اگست میں ملک کے جنوب مغربی صوبے سیچوان اور اس کے وسطی شہر جونگ کنگ کو شدید گرمی کے بعد خشک سالی کا سامنا تھا۔

جیسے جیسے ایئر کنڈیشنرز کی مانگ میں اضافہ ہوا، اس خطے کی پاور گرڈ، جو صرف ہائیڈرو پاور پر منحصر تھی، زبردست دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔

بڑی فیکٹریوں کو یا تو اپنی کام کے اوقات کار میں کمی کرنا پڑی یا فیکٹریوں کو مکمل طور پر بند کرنا پڑ رہا ہے۔

چین کے ادارہ شماریات کے مطابق اگست میں لوہے اور سٹیل کی صنعت کے منافع میں سنہ 2022 کے پہلے سات مہینوں میں پچھلے سال کے مقابلے میں 80 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

یہاں بھی آخر کار چینی حکومت کو مدد کے لیے آگے آنا پڑا اور حکومت نے مقامی کسانوں اور توانائی کی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کا ریلیف پیکج دیا۔

سرمایہ کار چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے ہاتھ کھینچ رہے ہیں

چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر ریگولیٹری ایجنسیوں کے اقدامات کا اثر ظاہر ہونا شروع ہو گیا ہے۔ دو سال تک جاری رہنے والی ان کارروائیوں کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

ٹیکنالوجی کمپنی ٹین سینٹ نے پچھلی سہ ماہی میں پہلی بار اپنے منافع میں کمی دیکھی ہے۔ ٹین سینٹ اور علی بابا کے منافع میں 50 فیصد کمی آئی ہے جبکہ علی بابا کی خالص آمدنی نصف سے زیادہ گر گئی ہے۔

حالیہ مہینوں میں دسیوں ہزار افراد اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جو پہلے سے جاری ملازمتوں کے بحران کو مزید نمایاں کر رہا ہے۔ اس وقت چین میں 16 سے 24 سال کی عمر کا ہر پانچواں نوجوان بے روزگار ہے۔ طویل مدت میں اس کا اثر چین کی پیداواری صلاحیت اور ترقی پر پڑ سکتا ہے۔

سرمایہ کار بھی حکومت کے رویے میں تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔ جیسے جیسے ژی جن پنگ کی اقتدار پر گرفت مضبوط ہو رہی ہے، چین کی کچھ کامیاب کمپنیوں کی مشکلات میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

ان کی نسبت سرکاری کمپنیوں کو زیادہ فائدہ ہوتا نظر آ رہا ہے اور ایسے میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کار چین سے اپنا پیسہ نکال رہے ہیں۔

جاپان کے سافٹ بینک نے علی بابا سے بڑی رقم نکال لی ہے جبکہ وارن بفیٹ کی برکشائر ہیتھ وے چینی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی بی وائے ڈی میں اپنا حصہ بیچ رہی ہے۔

اس سال کی دوسری ششماہی میں ہی ٹین سینٹ سے 7 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری نکل چکی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکہ بھی امریکی سٹاک مارکیٹ میں درج چینی کمپنیوں پر شکنجہ کس رہا ہے۔

ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے ایک حالیہ نوٹ میں کہا ہے کہ ’سرمایہ کاری کے کچھ فیصلے ملتوی کیے جا رہے ہیں اور کچھ غیر ملکی کمپنیاں دوسرے ممالک میں اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا چاہتی ہیں۔‘

دنیا بھی اب یہ سمجھ رہی ہے کہ چین صنعتیں لگانے کے لیے اتنا موزوں ملک نہیں رہا جتنا پہلے تھا۔ پچھلی چند دہائیوں کے دوران چین کو جس اقتصادی ترقی نے آگے بڑھایا ہے وہ اب تنزلی کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More