کیلیفورنیا میں چار انڈینز کی لاشیں برآمد، ہلاک ہونے والوں میں ایک آٹھ ماہ کی بچی بھی شامل ہے

بی بی سی اردو  |  Oct 06, 2022

امریکی ریاست کیلیفورنیا کی مرسڈ کاؤنٹی پولیس نے بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ انھیں ایک پنجابی خاندان کے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں چند روز قبل اغوا کیا گیا تھا۔

پولیس پچھلے کچھ دنوں سے اس خاندان کی تلاش کر رہی تھی۔ ان میں 27 سالہ جسلین کور، 36 سالہ جسدیپ سنگھ، 39 سالہ امن دیپ سنگھ اور ایک آٹھ ماہ کی بچی شامل تھی۔

پولیس نے کہا ہے کہ اس معاملے میں ان کے پاس مشتبہ ملزمان سے متعلق معلومات ہیں، لیکن اس بارے میں وہ مزید تفصیل نہیں بتا سکتے۔

پولیس نےبتایا ’شام ساڑھے پانچ بجے ہمیں ایک کسان نے اس بارے میں فون کر کے اطلاع دی تھی، جس کے بعد ان چاروں کی لاشوں کو برآمد کیا گیا۔‘

پولیس نے اس معاملے میں ایک مشتبہ شخص کو بھی گرفتار کیا تھا، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اس کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں۔ منگل کو پولیس نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ ملزم کو پکڑنے میں پولیس کی مدد کریں۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق اس خاندان کا تعلق انڈیا کے شہر ہوشیار پور سے تھا۔

پولیس نے کہا ہے کہ اس خاندان کو گذشتہ پیر کو مرسڈ کے ایک کاروباری ادارے سے بندوق کی نوک پر اغوا کیا گیا تھا۔

وزیر اعلیٰ نے اپیل کی

اس بارے میں انڈین ریاست پنجاب کے وزیر اعلیٰ سمیت بعض رہنماؤں کے بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے امریکہ میں انڈین شہریوں کی حفاظت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعلی بھگونت مان نے ٹوئٹ کیا، ’کیلیفورنیا میں چار انڈینز کے اغوا اور قتل کی خبر آئی ہے، قتل ہونے والوں میں ایک آٹھ سالہ بچی بھی شامل ہے۔ مجھے اس خبر سے بہت دکھ ہوا ہے اور میں سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانے کی اپیل کرتا ہوں۔‘

اکالی دل کے صدر سکھبیر سنگھ بادل نے بھی اس بارے میں ٹوئٹ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا، ’آٹھ سالہ آروہی، اس کے والدین اور چچا امن دیپ سنگھ کا وحشیانہ اغوا اور قتل دنیا بھر کے پنجابیوں کے لیے ایک صدمہ اور تشویش کا باعث ہے۔ میں ڈاکٹر جے شنکر سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ انڈینز کی سلامتی کا معاملہ اٹھائیں ۔ میری ہمدردیاں متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں۔

https://twitter.com/officeofssbadal/status/1577891817022173184

قتل ہونے والے خاندان کا تعلق ہوشیار پور سے ہے

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق امریکہ میں رہنے والے اس خاندان کا تعلق پنجاب کے ضلع ہوشیار پور سے تھا۔

ہوشیار پور میں اس خاندان کے رشتہ داروں اور اہل خانہ نے بتایا کہ ’ان کی گاڑی ان کے دفتر سے 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر جلی ہوئی پائی گئی۔ ان کے موبائل بھی ملے ہیں۔تاوان کے لیے کوئی فون نہیں آیا۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق امن دیپ سنگھ اور جسدیپ سنگھ کے والد رندھیر سنگھ محکمہ صحت سے اور والدہ کرپال محکمہ تعلیم سے ریٹائرڈ ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے

’شوہر کو کیسے قتل کریں‘ کی مصنفہ اپنے ہی شوہر کے قتل کی مجرم

’فیکٹری میں کچھ لوگ خاموش تماشائی بن گئے، باقی انھیں قتل کرنا چاہتے تھے‘

برطانیہ میں گذشتہ ایک سال میں 177 خواتین قتل

دونوں 29 ستمبر کو امریکہ سے واپس آئے تھے اور واپس آنے کے بعد رندھیر سنگھ یاترا کے لیے اتراکھنڈ گئے۔

جب وہ رشیکیش پہنچے تو انکے بڑے بیٹے کی بیوی جسپریت کور کا فون آیا اور انھوں نے انھیں اغوا کے بارے میں بتایا۔

اس کے بعد رندھیر سنگھ فوراً گاؤں واپس آئے اور امریکہ جانے کی تیاری شروع کر دی۔

Reutersمقتولین کے خاندان کے رشتہ دار

ان کے ایک پڑوسی نے بتایا کہ بچوں کے اغوا کی خبر سن کر والدین شدید صدمے میں تھے اور بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔

متوفی خاندان کے ایک رشتہ دار نے بدھ کو کہا: ’میں اپنے پورے خاندان کی جانب سے بات کر رہا ہوں۔ جو بھی مجھے دیکھ رہا ہے، وہ اپنی دکان، گیس سٹیشن پر یا جس کے پاس کیمرہ ہے، براہ کرم اپنا کیمرہ چیک کریں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ کے پاس کوئی ایسی معلومات یا ویڈیو ہے جس سے مدد مل سکتی ہے، تو براہ کرم پولیس کو اس کے بارے میں بتائیں۔ وہ اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں، لیکن ہمیں لوگوں کی مدد کی ضرورت ہے۔‘

پولیس کو اغوا کی اطلاع کیسے ملی؟

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس کو اغوا کی اطلاع اس وقت موصول ہوئی جب انھیں پیر کو امن دیپ سنگھ کا جلتا ہوا ٹرک ملا۔

پولیس نے جب ٹرک کو چیک کیا تو انھیں مقتولین کے بارے میں کچھ نہیں ملا۔ اس سے پولیس کو اندازہ ہوا کہ اُنھیں اغوا کیا گیا ہے۔

مرسڈ کاؤنٹی شیرف کے دفتر کے افسر ورن ویرنیکے نے کہا کہ ہمیں ابھی تک اغوا کی وجہ کے بارے میں کچھ نہیں معلوم، ہم صرف اتنا جانتے تھے کہ وہ لاپتہ ہیں'۔

مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More