بابر اعظم کو مڈل آرڈر پہ بھروسہ کرنا ہو گا

بی بی سی اردو  |  Oct 06, 2022

Getty Imagesپاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف سلیکٹر محمد وسیم

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف سلیکٹر محمد وسیم کا کہنا ہے کہ بسا اوقات انھیں بھی یہ محسوس ہوتا ہے گویا ٹاپ آرڈر کے ہاں مڈل آرڈر پہ اعتماد کا فقدان ہے۔ اور اسی کم اعتمادی کے سبب پاکستان ٹاپ کلاس ٹیموں سے ایک قدم پیچھے رہ جاتا ہے۔

مگر ورلڈ کپ جیسے ایونٹ میں کسی بھی ٹیم کے لیے ایک قدم پیچھے رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

ٹی ٹونٹی میں ٹیموں کی کئی اقسام ہیں۔ اپنی اپنی قوتوں پہ بھروسہ کرتے ہوئے ٹیمیں جیت کی حکمتِ عملی طے کرتی ہیں اور اس عمل کے دوران اپنے اپنے برانڈ کی کرکٹ متعارف کرواتی ہیں۔ ویسٹ انڈیز جیسی ٹیمیں بولنگ اور ٹاپ آرڈر بیٹنگ سے کہیں زیادہ اپنے ان آل راؤنڈرز پر تکیہ کرتی ہیں جو ڈیتھ اوورز میں زیادہ سے زیادہ چھکے جڑ سکیں۔ اگرچہ یہ اپروچ ہمیشہ قابلِ بحث رہی ہے مگر اس میں دو رائے نہیں کہ اسی اپروچ نے ویسٹ انڈیز کو دو ورلڈ کپ بھی جتوا دیے۔

Getty Images

انڈیا جیسی ٹیمیں اپنی اپروچ میں بولنگ اور لوئر آرڈر ہٹنگ سے زیادہ ٹاپ آرڈر بیٹنگ کو ترجیح دیتی ہیں۔ یہ اپنی جیت کے لیے ٹاپ فور بلے بازوں کے رنز پہ زیادہ انحصار کرتی ہے۔

مگر کچھ ٹیمیں تمام شعبوں سے بڑھ کر اپنی بولنگ پر انحصار کرتی ہیں۔ ان کی اپروچ جلد از جلد دس وکٹیں حاصل کرنے پر مرکوز رہتی ہے۔ پاکستان بھی انہی ٹیموں میں شمار ہوتا ہے جس کی اکثر فتوحات بولنگ کے مرہونِ منت ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے

’کہا کرتے تھے کہ اپنا ٹائم آئے گا، تو دیکھیں کرکٹ پر ہمارے راج کرنے کا ٹائم آ گیا‘

’جنھیں ہارٹ اٹیک نہیں ہوا، ان کے لیے خبر ہے کہ ہم جیت گئے‘

ہانگ کانگ 38 رنز پر ڈھیر: ’ایسا کرکٹ میچ تو ہم کزن بھی نہیں کھیلتے‘

یہ امر اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ٹی ٹونٹی رینکنگ کے ٹاپ تھری بلے بازوں میں سے دو پاکستان کے اوپنر ہیں اور پاکستان کی کئی ایک ریکارڈ فتوحات میں بھی کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں مگر پھر بھی پاکستان کو جہاں کہیں حریف ٹیموں پہ واضح برتری حاصل ہوتی ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ شاہین آفریدی اور حارث رؤف کی ایکسپریس پیس کے ساتھ ساتھ محمد نواز اور شاداب خان کی سپن بھی ہوتی ہے۔

سوال مگر یہ ہے کہ بابر اعظم اور محمد رضوان اپنے مڈل آرڈر پہ اعتماد کا اظہار کیوں نہیں کرتے؟

یہ بھی تو ممکن ہے کہ بابر اعظم اور محمد رضوان پاور پلے میں 10 کے رن ریٹ سے بیٹنگ کریں اور اس مقصد کے حصول کے لیے کسی قسم کا خطرہ مول لینے سے دریغ نہ کریں اور اپنے اچھے آغاز کی بدولت مڈل آرڈر پہ بھی دباؤ کم کر جائیں۔

اگرچہ سرفراز احمد کی قیادت میں بابر اعظم ہمیں زیادہ بے خوف کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر آیا کرتے تھے مگر یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ تب سرفراز احمد کو مڈل آرڈر میں شعیب ملک اور محمد حفیظ کی شکل میں دو آزمودہ کار بلے باز دستیاب تھے جن کی موجودگی ٹاپ آرڈر کو بھی آسرا فراہم کرتی تھی۔

Getty Images

کوئی بھی ٹیم جب اپنے مڈل آرڈر کے دو اہم ترین کھلاڑیوں کے تجربے سے محروم ہو جاتی ہے تو اسے واپس قدموں پہ کھڑے ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ سری لنکا کبھی ون ڈے کرکٹ کی ورلڈ کلاس ٹیم ہوا کرتی تھی مگر سنگاکارا اور جئے وردھنے کی اکٹھی ریٹائرمنٹ نے وہ خلا پیدا کیا جو ابھی تک پُر نہیں ہو سکا۔

پاکستان کے لیے بھی شعیب ملک اور محمد حفیظ کی موجودگی ایک ایسا ہی سائبان تھا اور مڈل آرڈر کے سر سے اٹھتے ہی مسائل کا ایک انبار کھڑا ہو چکا ہے۔ سال بھر گزرنے کے بعد بھی کوئی ان دونوں کی جگہ لینے کے لیے پوری طرح تیار نظر نہیں آتا۔

اس ٹرائی سیریز میں بابر اعظم کو نہ صرف اپنے مڈل آرڈر کو کام میں لانا ہو گا بلکہ بیٹنگ آرڈر طے کرتے وقت اپنی سوچ میں بھی لچک رکھنا ہو گی۔ اگر شاداب خان اور محمد نواز چوتھے پانچویں نمبر پہ آ کر مڈل آرڈر کا بوجھ کم کر پائیں تو بھلا اس میں کیا مضائقہ ہے؟

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More