بچوں میں ایڈز کے بڑھتے کیسز انتہائی تشویشناک ہیں: وزیراعظم شہباز شریف

اردو نیوز  |  Dec 01, 2022

وزیراعظم شہباز شریف نے ایچ آئی وی ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’بچوں اور نوجوانوں میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے بڑھتے ہوئے کیسز انتہائی تشویشناک ہیں۔‘

جمعرات کو اپنی ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’میں وزارتِ صحت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس مرض سے لڑنے کے لیے جانچ، روک تھام اور علاج کے بارے میں آگاہی  پر توجہ مرکوز کرے۔‘

وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’آج ایڈز کے عالمی دن پر، آئیے ہم سب ایچ آئی وی سے جڑی منفی سوچ کو ختم کرنے کا عہد کریں۔‘

پاکستان کے نیشنل ایچ آئی وی انفارمیشن سسٹم کے مطابق ملک میں گذشتہ کچھ برسوں میں ایچ آئی وی پازیٹو کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ 10 ماہ (جنوری سے اکتوبر 2022 تک) کے دوران اسلام آباد میں ایچ آئی وی کیسز میں اضافے کے حوالے سے ایچ آئی وی انفرامیشن سسٹم کے ڈیٹا کے مطابق پمز ہسپتال میں 496 افراد میں ایڈز کی تشخیص ہوئی۔

ان میں 95 فیصد پندرہ سے 49 سالہ بالغ افراد اور 4.9 فیصد بچے شامل ہیں۔

The increasing incidence of HIV & Aids among the children & adolescents is deeply worrying. I urge Ministry of Health to focus on awareness about testing, prevention & treatment to fight scourge. On World Aids Day today, let us all vow to end the stigma attached with HIV.

— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) December 1, 2022

نئے تشخیص شدہ مریضوں میں  17 فیصد (85) نوجوان ہیں جن کی عمریں 15 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔

ان مریضوں میں 21 فیصد (18) ٹرانسجینڈرز اور 17 فیصد (14) خواتین شامل ہیں۔

پمز سے علاج کرانے والے مریضوں میں سے صرف 23 فیصد (118) کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ باقی 77 فیصد (378) کا تعلق ملحقہ اضلاع راولپنڈی، ایبٹ آباد، مانسہرہ، اٹک وغیرہ سے ہے۔

ایڈز کا مرض ایچ آئی وی  نامی ایک وائرس کے ذریعے پھیلتا ہے جو انسانی مدافعتی نظام کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے۔ اس کے حملے کے بعد جو بھی بیماری انسانی جسم میں داخل ہوتی ہے نہایت سنگین اور مہلک صورت حال اختیار کر لیتی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More