امریکہ میں چار طلبا کا پراسرار قتل: ’میرے بچوں نے محفوظ سمجھ کر یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا‘

بی بی سی اردو  |  Dec 01, 2022

امریکہ کی شمال مشرقی ریاست اوڈاہو میں چار یونیورسٹی طلبا کے قتل کے واقعے کو دو ہفتے سے زائد گزر چکے ہیں۔

بدھ کو ان کی یاد میں منعقدہ تقریب میں شمعیں روشن کی گئیں اور شرکا نے جذباتی تعزیتی پیغامات کے ساتھ ساتھ انھیں ’بھرپور زندگی جینے والے‘ اور ’پرعزم نوجوانوں‘ کے طور پر یاد کیا۔

امریکی ریاست اوڈاہو کے ایک چھوٹے شہر ماسکو میں چار نوجوان یونیورسٹی طلبا کے قتل کے بعد شہر میں خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں، کیونکہ پولیس اب تک ان کے قتل کے ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی ہے۔

 چاروں طلبا کو 13 نومبر کو ان کے کرائے کے اپارٹمنٹ میں چاقو کے وار کر کے قتل کیا گیا تھا۔  

قتل ہونے والوں میں 20 سالہ ایتھان چیپن، 21 سالہ کیلی گونکلیوز، 20 سالہ ژاناکرنوڈل اور 21 سالہ میڈیسن موگن شامل ہیں۔

ان کی یاد میں منعقدہ تعزیتی تقریب میں ایتھان چیپن کی والدہ کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے اپنے بیٹے اور اس کے دونوں بہن بھائیوں کا داخلہ یونیورسٹی آف اڈاہو میں اس لیے کروایا تھا کیونکہ انھیں کیمپس بہت پسند آیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے تینوں بچوں نے ایک ساتھ اس لیے یہاں داخلے لیا تھا کیونکہ انھیں یہ چھوٹا قصبہ محفوط اور یونیورسٹی کا کیمپس بہت خوبصورت لگا تھا۔‘

قتل ہونے والے چاروں نوجوان یونیورسٹی کی مختلف تنظیموں اور سوسائٹیز کے رکن تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ چاروں طلبا کا قتل ایک ٹارگٹ تھا، تاہم پولیس نے علاقے کی عوام کو محتاط رہنے کا کہا ہے۔

واشنگٹن سے 130 کلومیٹر مسافت پر واقع یہ سرسبز اور کم آباد شہر کی آبادی 25 ہزار افراد پر مشتمل ہے اور یہاں گذشتہ پانچ برسوں کے دوران قتل کی کوئی واردات نہیں ہوئی۔

قصبے میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر یونیورسٹی انتظامیہ نے گذشتہ ہفتے طلبا سے کہا تھا کہ جو طلبا ابھی کیمپس واپس نہیں آنا چاہتے یونیورسٹی ان کے لیے آن لائن کلاسز کا اجرا کرے گی۔

قتل کی رات کیا ہوا تھا؟

پولیس کا کہنا ہے کہ 13 نومبر کی رات چار طلبا اپنے کرائے کے فلیٹ میں مردہ پائے گئے تھے۔ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے انکشاف ہوا تھا کہ انھیں سوتے ہوئے چاقو کے وار کر کے قتل کیا گیا تھا۔

اس واقعے کی رات قتل کی واردات سے قبل دونوں خاتون طلبا گونکلیوز اور موگن ماسکو شہر کی ایک بار میں موجود تھیں۔  

انھیں قتل کی رات ایک بج کر 56 منٹ پر گھر پہنچنے سے قبل ایک کھانے کے ٹھیلے پر لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج میں دیکھا گیا ہے۔  

جبکہ حملے میں ہلاک ہونے والے دو دیگر طالب علم، مس کرنوڈل اور ان کے بوائے فرینڈ چیپین،  یونیورسٹی کیمپس سے کچھ دیر پہلے ہی گھر پہنچے تھے۔

قتل کی واردات کے وقت دیگر دو طالب علم بھی اس وقت گھر پر ہی تھے مگر پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں نہیں لگتا کہ وہ اس جرم میں ملوث تھے۔

پولیس نے اس ڈرائیور کے جو کھانے کے ٹھیلے سے گونکلیوز اور موگن کو گھر لے کر آیا تھا اور ایک شخص جس نے ان دونوں خواتین کو مارے جانے کے دن صبح سویرے کئی بار فون کیا تھا، سمیت متعدد افراد کو مشتبہ قرار دینے سے انکار کیا ہے۔

ایف بی آئی اور اوڈاہو سٹیٹ پولیس کے 25 سے زیادہ تفتیش کار قتل کے اس واقعے کی تفتیش کر رہے ہیں۔

ریاست کے گورنر براڈ لٹل نے اس کیس کی تحقیقات کے لیے ریاست کے ایمرجنسی فنڈز میں سے دس لاکھ ڈالرز کی رقم کی منظوری دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ: شوہر کو کیسے قتل کریں کی مصنفہ 27 سالہ شادی کے بعد اپنے ہی شوہر کو قتل کرنے کی مجرم قرار

ٹلسا قتل عام: امریکہ میں ایک ایسے قتلِ عام کے متاثرین کی تلاش جنھیں سب بھلا چکے ہیں

جیمز فولی: اغوا کے بعد قتل ہونے والے امریکی صحافی کی والدہ اور قاتل کی ملاقات

طلبا کی یاد میں منعقدہ تقریب میں کیا کہا گیا؟

مس گونکلیوز کے والد سٹیو نے ان کی یاد میں منعقدہ تعزیتی تقریب میں کہا کہ ان کی بیٹی اور موگن چھٹی جماعت سے بہترین دوست تھیں، اور انھوں نے ہائی سکول میں بھی ایک ساتھ پڑھائی کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے ایک ساتھ کالج میں داخلے لینے کا سوچا اور وہ ایک ساتھ یہاں آئی تھیں۔۔۔اور آخر میں ان کی موت بھی ایک ساتھ ہی ہوئی، ایک ہی کمرے اور بستر پر۔‘ 

مقتول طالبہ موگن کے والد بین نے انھیں محنتی لڑکی کے طور پر یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بہترین طالب علم تھی جسے لائیو میوزک بہت پسند تھا۔  

چاروں قتل ہونے والے طلبا کی یاد میں منعقدہ تقریب میں بڑی تعداد میں شہریوں سمیت یونیورسٹی طلبا و عملے اور اوڈاہو کے گورنر براڈ لٹل نے شرکت کی۔

ان کی یاد میں شمعیں روشن کرنے کی اسی طرح کی متعدد تقریبات ریاست کے دیگر علاقوں میں بھی ہوئیں۔

یونیورسٹی میں چوتھے سال میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبہ میگن لولی نے کہا کہ حملے اور مجرم کے ارد گرد ہونے کی غیر یقینی صورتحال نے ان کی ’ذہنی و جسمانی صحت‘ کو متاثر کیا ہے۔

وہ قریبی قصبے لیوسٹن میں رہ رہی ہے کیونکہ وہ واقعے کے بعد ماسکو میں اپنے اپارٹمنٹ میں محفوظ محسوس نہیں کرتیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اب ایک ایسی جگہ پر خود کو محفوظ نہ محسوس کرنے کا اضافی تناؤ ہے جو ہمیشہ میرے لیے محفوظ رہا ہے۔‘

ان کے کچھ دوستوں نے تھینکس گیونگ کی چھٹی کے بعد گھر رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماسکو قصبہ اور یونیورسٹی کیمپس ’بہت خالی‘ہیں۔

اس موقع پر یونیورسٹی کے ڈین بلین ایکلز نے طلبا کے خطرات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسی صورتحال میں دکھ، پریشانی، نفسیاتی دباؤ اور اضطراب ہونا جائز ہے، مجھے بھی ان تمام مسائل کا سامنا ہے۔‘  

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More