ڈاکٹر لی ونلیانگ: ’کووِڈ کے شہید‘ کے لیے لوگوں نے دل نچھاور کر دیے

بی بی سی اردو  |  Dec 09, 2022

EPA

حکام نے جب یہ اعلان کیا کہ وہ ’زیرو کووِڈ‘کی حکمت عملی کی بڑی بڑی پابندیوں کا خاتمہ کرنے جا رہے ہیں، تو اس کے چند منٹ بعد ہی لوگوں نے لی ونلیانگ کے سوشل میڈیا پیج پر پیغامات کی بھرمار کر دی۔

ہزاروں صارفین چینی سوشل میڈیا پر اپنے ملک کے اس ہیرو ڈاکٹر کے اکاؤنٹ کی جانب دوڑ پڑے۔ ایسے دکھائی دے رہا تھا جیسے ہر کوئی اپنے خاندان کے کسی بڑے کی قبر پر کھڑا اپنا دل کھول کے جذبات کا اظہار کر رہا ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’میں ریل گاڑی میں سفر کر رہا تھا کہ اچانک مجھے آپ کی یاد آ گئی اور میں پھوٹ پھوٹ کے رونے لگا۔ ڈاکٹر لی، رات ختم ہو گئی ہے، نئی صبح طلوع ہو گئی ہے۔ آپ کا بہت شکریہ۔‘ایک اور صارف نے اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ ’میں یہاں آپ سے ملنے اور یہ بتانے آئی ہوں کہ کہ اب گرد بیٹھ چکی ہے۔ ہم لاک ڈاؤن ختم کر رہے ہیں۔‘ امراض چشم کے ماہر 33 سالہڈاکٹر لی ان ماہرین میں شامل تھے جنھوں نے سنہ 2019 میں ووہان میں سب سے پہلے لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ شہر میں ایک نئی قسم کا وائرس آ چکا ہے۔ یہ وہی دن تھے جب وسطی چین کے اس شہر میں کووِڈ کے پہلے مریض کی نشاندہی ہوئی تھی۔

چینی حکام نے انھیں ’جھوٹی خبریں‘ پھیلانے پر سزا دے دی تھی اور پھر وہ کووڈ کے مریضوں کو بچانے کی جدوجہد میں خود اس وائرس کا شکار ہوگئے اور جان دے دی۔ ان کی موت نے لوگوں میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔

اس کے فوراً بعد ہی صدر شی جنگ پنگ نے ’زیرو کووِڈ‘ کے نام سے ایک مہم کا آغاز کر دیا جس کا مقصد اس وبا کو جڑ سے اکھاڑنا تھا۔ چینی رہنما اپنی اس حکمت عملی کو فخریہ انداز میں پیش کر رہے تھے کیونکہ ان دنوں میں کئی ممالک میں ہسپتالوں میں کووِڈ کے مریضوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب باقی ممالک نے ویکسین لگانے کی کامیاب مہم کے بعد کاروبارِ زندگی بحال کرنے شروع کر دیے اورچین نے شدید پابندیوں میں کوئی نرمی نہ کی، تو زیرو کووِڈ کی حکمت عملی لوگوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن گئی۔

اسی لیے جب بدھ 8 دسمبر کو یہ اعلان کیا گیا کہ اس حکمت عملی کے تحت لگائی جانے والی شدید پابندیوں میں سے کچھ کو ختم کیا جا رہا ہے، تو سوشل میڈیا پر ڈاکٹر لی کا پیج ایک ’دیوارِ گریہ‘ کا منظر پیش کرنے لگا جہاں پابندیوں سے چُور لوگ اپنے اس ہیرو کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ اس عرصے میں انھوں نے کیا کھویا کیا پایا۔

ڈاکٹر لی کے سوشل میڈیا پیجکے علاوہ چین کے شمالی صوبے سے جنوبی انتہا تک صارفین جہاں سکھاور امید کا اظہار کر رہے ہیں وہیں لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں گزرنے والی تلخ زندگی پر ملال کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

ایک صارف نے لکھا ’میری جوانی اور کالج کی زندگی کے بہترین سال اس وبا میں گُم ہو گئے ہیں۔ اس عرصے کے دوران میں ایک خوش باش نوجوان سے، ذہنی طور پر پریشان شخص اور پھر بیچارگی کی تصویر بن گیا ہوں۔‘

’یہ کہنا بالکل جھوٹ ہے کہ تین سال تک ان پابندیوں کے کوئی اثرات نہیں ہوئے۔ یہ کہنا بھی جھوٹ ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور کسی کو پرواہ ہی نہیں۔‘

چین کی زیرو کووِڈ کی پالیسی کی وجہ سے باقی ممالک کے مقابلے میں یہاں شرح اموات کم رہی۔ سرکاری سطح پر چین نے اموات کی تعداد تقریباً پانچ ہزار دو سو بتائی ہے، جبکہ امریکہ میں کووِڈ سے دس لاکھ سے زیادہ اموات کا اندراج کیا گیا۔

تاہم یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ زیرو کووِڈ کی وجہ سے چین میں لوگوں کی زندگی اجیرن ہو گئی تھی۔ اس دوران کئی شہروں میںاچانک ہی لاک ڈاؤن لگا دیا گیا اور لوگوں کے لیے کھانے پینے کی اشیاء خریدنا بھی مسئلہ بن گیا۔ کووِڈ کی نشاندہی ہونے پر ان افراد کو خاندان والوں سے زبردستی الگ کرکے خصوصی مراکز میں بند رہنے پر مجبور کیا گیا۔ ان پابندیوں کی وجہ سے سفر کرنا ممکن نہ رہا، نہ لوگ آپس میں مل پا رہے تھے اور سب سے بڑھ کے یہ کہ کئی لوگوں کے روزگار بری طرح متاثر ہوئے۔

ُڈاکٹر لی کی وال پر کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ ان کی قربانیاں کس لیے تھیں۔  سچوان سے ایک صارف نے لکھا ’آج صبح جب میں ٹرین میں  سوار ہوا تو پہلی بار ہیلتھ کوڈ کی طرف نہیں دیکھنا پڑا۔"

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ تین سال کی محنت کے بعد کووڈ تو ابھی شروع ہوا ہے۔ لہذا یہ وقت کا ضیاع تھا

ان کا کیا ہو گا جنہوں نے اس کی بھاری قیمت ادا کی، حتیٰ کہ اپنی جانیں بھی دیں۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ پچھلے ہفتے تک اگر اس نے کووڈ ضابطے کی خلاف ورزی کی ہوتی تو اسے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جاتا۔

 ’اگر کسی نے ایک ماہ پہلے یہ کہا ہوتا کہ پابندیاں نرم کرو، تو انھیں سزا دی جانی تھی۔‘

چین میں عشروں بعد ہونے والےاحتجاج کے بعد کووڈ پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔

ایک صارف نے ڈاکٹر لی کے پیچ پر لکھا: ’ہم نے شور مچایا اور لڑے۔ خوش قسمتی سے اب سب کچھ ختم ہو گا۔‘

 ایک شخص نے ملک کی ایسی عمر رسیدہ آبادی کے لیے پریشانی کا اظہار جنہوں نے ویکیسین نہیں لگوا رکھی ہے۔

 ایک شخص نے لکھا:’ڈاکٹر لی تین سالہ وبا کا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ وبا ایسی شدید نہیں ہے جیسی آپ کی تھی لیکن میں تھک چکا ہوں۔‘

ایک اور شخص نےلکھا: ’ ڈاکٹر لی میں ایک بار پھر آپ کے پاس آیا ہوں۔ ہمارے شہر میں لاک ڈاون ختم کر دیئے گئے۔ ‘

ایک اور شخص نےڈاکٹر لی سے پوچھا:’ ڈاکٹر لی بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں  کہ تین سال بعد وبا ختم ہو گئی ہے۔کیا واقعی  ایسا ہے؟ ‘

ڈاکٹر لی کون تھے؟

ڈاکٹر لی ووہان کے مرکزی ہسپتال میں آنکھوں کے ڈاکٹر کے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور انھوں نے 30 دسمبر کو اپنے ساتھی ڈاکٹروں کو کورونا وائرس سے خبردار کیا تھا۔اپنے ساتھی عملے سے یہ بات کرنے کے بعد مقامی پولیس ڈاکٹر لی کے پاس آئی اور انھیں تنبیہ کی کہ وہ کورونا کے پھیلنے سے متعلق باتیں کرنا بند کر دیں۔

مگر ایک ہی ماہ بعد فروری 2020 میں جب اس ڈاکٹر نے مقامی ہسپتال کے بستر پر لیٹ کر یہ کہانی سوشل میڈیا پر شیئر کی تو چین میں ان کا خیر مقدم ایک ہیرو کی طرح کیا گیا۔

سوشل میڈیا سائٹ پر انھوں نے اپنی کہانی یوں شروع کی تھی کہ ’تمام احباب کو خوش آمدید، میں لِی وینلیانگ ہوں اور ووہان سینٹرل ہسپتال میں ماہرِ امراض چشم کے طور پر کام کر رہا ہوں۔‘اس وقت تک 34 سالہ ڈاکٹر لی کے بقول وہ ایسے سات مریضوں کو دیکھ چکے تھے اور ان کا خیال تھا کہ ان مریضوں پر سارس جیسے کسی وائرس نے حملہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ سارس وائرس کی عالمی وبا سنہ 2003 میں پھیلی تھی۔انہوں نے 30 دسمبر کو اپنے ساتھی ڈاکٹروں کو ایک مشترکہ گروپ میں پیغام بھیجا تھا جس میں انہوں نے ساتھیوں کو وائرس سے متعلق متنبہ کیا تھا اور مشورہ دیا تھا کہ وہ متاثرہ مریضوں کا علاج کرتے ہوئے حفاظتی دستانے اور کپڑے پہنیں تاکہ وائرس انھیں متاثر نہ کر سکے۔

اس پیغام کے چار دن بعد انہیں پبلک سکیورٹی بیورو کے دفتر میں طلب کیا گیا جہاں انہیں ایک تحریر پر دستخط کرنے کو کہا گیا۔ اس خط میں ڈاکٹر لی پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ’غلط قسم کے دعوے‘ کر کے ’شدید نقض امن‘ کے مرتکب ہوئے ہیں۔

 ڈاکٹر لی وینلینگ جنوری میں اپنے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے اس وائرس کا نشانہ بنے تھے اور فروری کے شروع میں 34 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا تھا۔

ان کی موت سے ملک گیر سطح پر غم و غصہ پھیل گیا تھا اور حکام کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ چین کی قیادت نے ابتدا میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی تھی اور وائرس کی شدت کو بھی کم بتایا تھا۔

ڈاکٹرلی کی وفات کے بعد ووہان کی پولیس نے ڈاکٹر لی کے اہلخانہ سے ان کو سزا دینے پر معذرت کر لی تھی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More