چیمپیئنز ٹرافی کے میچ میں راولپنڈی کے بعد لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں بھی تماشائی گراؤنڈ میں گھس آیا ’افغانیوں کی خوشیاں اتنی کہ خندق بھی کراس کر ڈالی‘

بی بی سی اردو  |  Feb 26, 2025

Getty Images

لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں افغانستان اور انگلینڈ کے درمیان چیمپیئنز ٹرافی کے میچ کے اختتام پر ایک تماشائی گراؤنڈ میں گھس آیا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے اس تماشائی کو حراست میں لے کر وہاں سے لے گئے تھے۔ یہ چند گھنٹوں کے وقفے کے بعد دوسرا واقع ہے جب کوئی تماشائی ایسے گراؤنڈ میں داخل ہو گیا۔

دو دن قبل راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان گروپ اے کے اہم میچ کے دوران ابھی میچ ایک نازک موڑ پر تھا جب 29 ویں اوور کے اختتام پر ایک شخص دوڑتا ہوا پچ پر پہنچ گیا۔

سکیورٹی اہلکاروں نے اسے حراست میں لیا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

Getty Imagesایک صارف نے سوشل میڈیا پر اس پر تبصرہ کیا کہ 'افغانیوں کی خوشیاں اتنی کہ خندق بھی کراس کر ڈالی'

اس واقعے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ کہا تھا کہ اب ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں کہ کوئی تماشائی گراؤنڈ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ مگر لاہور میں کھودی جانے والی خندق کو بھی عبور کر کے ایک تماشائی گراؤنڈ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا۔ ابھی اس کا جواب تو پی سی بی اور انتظامیہ نے دینا ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ تمام تر انتظامات کے باوجود ایک تماشائی ایک بار پھر گراؤنڈ کے پلے ایریا تک پہنچ گیا۔

ایک صارف نے سوشل میڈیا پر اس پر تبصرہ کیا کہ ’افغانیوں کی خوشیاں اتنی کہ خندق بھی کراس کر ڈالی۔‘

جب تک پی سی بی اور انتظامیہ کا اس واقعے پر کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آتا اس وقت آئیے ایک بار پھر راولپنڈی کے کرکٹ سٹیڈیم میں پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات پر نظر دوڑاتے ہیں۔

سکیورٹی حصار توڑ کر پنڈی سٹیڈیم میں داخل ہونے والا نوجوان: ’دوست نے کہا مولوی کی تصویر لے جا، وائرل ہو جائے گا‘

گذشتہ روز بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان گروپ اے کے اہم میچ کے دوران ابھی میچ ایک نازک موڑ پر تھا جب 29 ویں اوور کے اختتام پر ایک شخص دوڑتا ہوا پچ پر پہنچ گیا۔

یاسر عرفات انکلوژر سے گراؤنڈ میں کودنے والے اس شخص نے سفید شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور اس کے ہاتھ میں پاکستان کی مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے رہنما سعد رضوی کی تصویر تھی۔

اسے اپنے قریب آتے دیکھ کر کیوی بلے باز رچن رویندرا دور بھاگنے لگے اور پھر سکیورٹی اہلکار اس شخص کو پکڑ کر واپس لے گئے۔

جس وقت عبدالقیوم سٹیڈیم میں کودے تو ٹام لیتھم 20 اور رچن رویندرا 69 رنز پر کھیل رہے تھے۔

راولپنڈی پولیس نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ اب اس شخص جس کی شناخت عبدالقیوم کے طور پر کی گئی ہے، انھیں مقامی عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔

Getty Images

راولپنڈی پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز کاشف ذوالفقار نے بی بی سی کی منزہ انوار کو بتایا کہ ’دورانِ تفتیش ملزم عبدالقیوم نے انھیں بتایا کہ وہ اٹک سے دوستوں کے ہمراہ میچ دیکھنے آئے تھے اور پچ پر اپنے فیورٹ کھلاڑی دیکھ کر وہ کچھ جذباتی ہو گئے اور انھیں شاباش دینے کے ارادے سے سٹیڈیم میں آ گئے۔‘

ایس ایس پی کاشف ذوالفقار کے مطابق ملزم نے جان بوجھ کر پی سی بی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور سکیورٹی حصار توڑا ہے جو کہ جرم ہے لہذا انھیں گرفتار کرکے ان پر ایف آئی آر درج کی گئی۔

انھوں نے بتایا کہ آج ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جج نے انھیں ریلیف دیتے ہوئے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

گراؤنڈ میں موجود ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کی منزہ انوار کو بتایا عبدالقیوم کی عمر 18 برس کے قریب ہے اور یہ ایک سٹوڈنٹ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’اسے یہ پوسٹر وہیں گراؤنڈ میں اس کے دوستوں میں سے کسی نے دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ مولوی کی تصویر گراؤنڈ میں لے جا، وائرل ہو جائے گا۔‘

ایس ایس پی کاشف ذوالفقار نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد ہم نے اپنے سکیورٹی پلان پر نظرِ ثانی کی ہے اور سکیورٹی کو مزید بڑھایا ہے۔

Getty Imagesایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے؟

ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ رات آٹھ بج کر 15 منٹ پر راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کے یاسر عرفات انکلوژر سے ایک شخص نے باؤنڈری کے پیچھے لگائی گئی گرل کو عبور کیا اور گراؤنڈ میں کود گیا۔ اس شخص نے ارادی طور پر سکیورٹی قواعد کی خلاف ورزی کی۔ انھیں سکیورٹی کی جانب سے پکڑ لیا گیا۔ انھوں نے اپنا نام عبدالقیوم بتایا اور ان کا تعلق ضلع اٹک سے تھا۔

عبدالقیوم پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 186، 447کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پی سی بی کا کیا مؤقف ہے؟

پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پی سی بی نے سکیورٹی کی خلاف ورزی کے اس عمل کا نوٹس لیا ہے اور کھلاڑیوں اور آفیشلز کی سکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے۔

پی سی بی کے اعلامیے کے مطابق ’ایک ذمہ دار ادارے کے طور پر ہم نے مقامی سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ بھی رابطہ کیا ہے اور ہم کرکٹ گراؤنڈز کے اندر سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھانے کا اعادہ کرتے ہیں اور گراؤنڈ میں داخلے کو روکنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں گے۔‘

پی سی بی کے مطابق ’اب سے اس شخص پر پاکستان بھر میں تمام کرکٹ گراؤنڈ میں داخلے پر پابندی ہو گی۔‘

لاہوریوں کی سٹیڈیم وارمنگ پارٹی: ’تجسس تھا کہ دیکھیں ہماری حکومت نے کیا بنایا ہے‘چیمپیئنز ٹرافی 2017: وہ میٹنگ جس نے پاکستان کے لیے ٹورنامنٹ کا رخ موڑ دیایہ پاکستان کرکٹ بورڈ ہے یا کوئی فرنچائز کمپنی؟ابرار احمد کے ایکشن پر ٹرولنگ اور دہلی پولیس کا طنز: ’پڑوسی ملک سے ابھی کچھ عجیب سی آواز سُننے میں آئی ہے‘گراؤنڈز میں داخل ہونے کا عمل متنازع کب بنا؟

سنہ 1999 کے ورلڈکپ کا وہ لمحہ شاید سب کے ہی ذہن میں ثبت ہو، جب اس وقت کے پاکستانی کپتان اور فاسٹ بولر وسیم اکرم آسٹریلیا کے آخری بلے باز کو بولڈ کرنے کے بعد ڈریسنگ روم کی جانب بھاگتے جا رہے ہیں اور تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد انھیں پکڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ اس وقت کا معمول تھا کہ میچ کے اختتام پر عموماً تماشائی گراؤنڈز میں داخل ہو جاتے تھے اور اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو گلے لگاتے یا ان سے آٹوگراف لینے کی کوشش کرتے۔

یہ روایت انگلینڈ، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا خاصی عام تھی کیونکہ یہاں کرکٹ گراؤنڈز میں داخل ہونے کے حوالے سے قواعد موجود نہیں تھے۔

Getty Images

اس کے برعکس ایشیائی ممالک میں اس حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے متعدد قواعد بنائے گئے تھے جس کی ایک وجہ یہاں سکیورٹی کے پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچوں کے دوران سکیورٹی کے خدشات اور تماشائیوں کے میچ ہارنے پر مختلف انداز میں برہمی کا اظہار بھی تھا۔

تاہم پھر سنہ 2001 میں آسٹریلیا، انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان انگلینڈ میں ہونے والی نیٹ ویسٹ سیریز کے ایک میچ کے بعد اس حوالے سے قواعد پر نظرِ ثانی کی گئی۔

یہ میچ انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان کھیلا جا رہا تھا، اور جب ایک موقع پر پاکستانی شائقین کو یہ محسوس ہوا کہ انگلینڈ کے آخری کھلاڑی ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہو گئے ہیں اور وہ فوراً گراؤنڈ میں داخل ہو گئے حالانکہ امپائر نے اپیل پر آوٹ ہی نہیں دیا تھا۔

Getty Images

انگلینڈ کے کپتان ایلک سٹوئرٹ کے مطابق اس دوران انگلش اوپنر نک نائٹ کو چوٹ بھی لگی تاہم انگلینڈ کیونکہ اس وقت ایک ایسی پوزیشن میں تھا کہ میچ جیتنا اس کے لیے ممکن نہیں تھا اس لیے کھلاڑی دوبارہ فیلڈ پر نہیں آئے اور ایلک سٹوئرٹ نے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ یہ میچ پاکستان نے جیت لیا ہے۔

اس حوالے سے آسٹریلیا کی جانب سے اپنے گراؤنڈز کے لیے تو پہلے ہی قواعد وضع کیے جا چکے تھے لیکن انگلینڈ کی جانب سے اس حوالے سے کارروائی کے بعد سے دیگر ممالک نے بھی اس حوالے سے قواعد سخت کرنا شروع کیے۔

سنہ 2009 میں جب چیمپیئنز ٹرافی کے دوران پاکستان نے انڈیا کو شکست دی تو اس میچ کے بعد بھی شائقین گراؤنڈ میں داخل ہو گئے تھے۔ یہ میچ جنوبی افریقہ میں کھیلا جا رہا تھا جہاں اس حوالے سے قواعد خاصے نرم تھے، تاہم اس کے بعد آئی سی سی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ گراؤنڈ میں داخل ہونے والے تماشائیوں کو اب سے گرفتار کر لیا جائے گا۔

اکا دکا شائقین اس کے بعد بھی گراؤنڈز میں داخل ہوتے رہے ہیں، جن میں انڈیا اور آسٹریلیا کے سنہ 2023 کے ورلڈ کپ فائنل کے دوران بھی ایک شخص شامل ہیں جنھیں بعد میں آئی سی سی کی جانب سے کوئی بھی میچ گراؤنڈ میں آ کر دیکھنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

پاکستان چیمپیئنز ٹرافی کے چھٹے روز ایونٹ سے باہر: ’اب اگر مگر سے بات بہت آگے بڑھ گئی ہے، بس اب آرام سے گھر بیٹھیں‘چیمپیئنز ٹرافی 2017: وہ میٹنگ جس نے پاکستان کے لیے ٹورنامنٹ کا رخ موڑ دیاساجد خان: فوجی کا بیٹا جو ’ہر بار پرفارم کرنے پر ٹیم سے باہر ہو جاتا ہے‘ابرار احمد کے ایکشن پر ٹرولنگ اور دہلی پولیس کا طنز: ’پڑوسی ملک سے ابھی کچھ عجیب سی آواز سُننے میں آئی ہے‘یہ پاکستان کرکٹ بورڈ ہے یا کوئی فرنچائز کمپنی؟دماغ ماؤف کر دینے والے روایتی ٹاکرے میں پاکستان کے لیے انڈیا کو ہرانا اتنا مشکل کیوں رہا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More