ہار کی ذمہ داری قبول، کوئی کھلاڑی بغیر پرفارمنس ٹیم میں نہیں آیا، عاقب جاوید

اردو نیوز  |  Feb 26, 2025

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے کہا کہ کسی ایک کھلاڑی کو بھی بغیر پرفارمنس کے شامل نہیں کیا گیا تھا، بہترین پلیئنگ الیون بنانا چاہتے تھے۔

بدھ کو راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا کہ انڈین ٹیم سب سے زیادہ تجربہ کار تھی، ان کے کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر 1500 میچ کھیلے ہوئے ہیں جبکہ پاکستانی کھلاڑیوں نے 400 میچ کھیلے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’کھلاڑی افسردہ ہیں۔ ٹیم جب توقعات کے مطابق نہیں کھیلتی تو سب سے زیادہ دکھ کھلاڑیوں کو ہوتا ہے۔‘

عاقب جاوید نے ٹیم پر جاری تنقید کے جواب میں کہا کہ ’آپ پھر سے ایک ٹیم بنائیں تو آپ کیا ٹیم بنائیں گے۔ ہر بندہ اس پر بات کر رہا ہے کہ یہ پلیئر کیوں آگیا۔ ہمارا کام بطور سلیکٹر یہ ہے کہ جس نے پرفارمنس دی ہے اسے ٹیم میں شامل کریں۔‘

’آپ کو کوئی ایک بھی کھلاڑی ایسا نظر نہیں آئے گا جو بغیر پرفارمنس کے آیا ہو۔‘

سینیئر کھلاڑیوں کے متعلق عاقب جاوید نے کہا ’جہاں تک آپ بات کر رہے ہیں بابر کی، رضوان کی، شاہین کی، حارث کی اس ٹیم کو بنانے میں ہماری سوچ یہی تھی کہ ہم اپنی بہترین ممکنہ الیون بنائیں۔‘

’اگر آپ بابر کو دیکھیں کہ بابر کے علاوہ کون سی ایسی آپشن ہے جو ٹیم میں شامل کریں۔ اس ٹیم کے مجموعی طور پر 400 ون ڈے میچز نہیں بنتے۔ نسیم شاہ کے 25 ون ڈے میچز ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ بات حقیقت ہے کہ ٹرائی سیریز سے لے اب تک ہماری وہ پرفارمنس نہیں آ رہی۔ بابر اعظم، حارث رؤف، شاہین آفریدی، محمد رضوان اور نسیم شاہ نے امید کے مطابق پرفارم نہیں کیا۔‘

عاقب جاوید نے مزید کہا کہ ’ہم انڈیا سے اس وجہ سے نہیں ہارے کہ انہیں ایک ہی سٹیڈیم (دبئی) کا تجربہ تھا، یہ وجہ نہیں تھی کہ وہ ہم سے پہلے وہاں 40 میچ کھیلے ہوئے تھے۔‘

’ہم لوگوں کو انڈیا سے ہارنے کا افسوس ہے لیکن اس سے کئی گنا افسوس پلیئرز کو ہوگا۔ میری اپنی سوچ ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں جتنے میچز ہو رہے ہیں وہ ہائی سکورنگ ہیں۔ ہم سوچ رہے تھے 280 یا 300 کے درمیان ہدف دیتے تو پھر اچھی فائٹ ہوتی۔‘

عاقب جاوید نے مزید کہا کہ ’اگر انڈیا سے نہ ہارتے تو شاید آج انتا افسوس نہ ہو رہا ۔‘

خیال رہے کہ انڈیا سے شکست کھانے کے بعد پاکستانی ٹیم آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہو چکی ہے۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More