فخر زمان نے خبروں کی تردید کردی

سچ ٹی وی  |  Feb 26, 2025

قومی کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بلے باز فخر زمان نے ریٹائرمنٹ ،کرکٹ سے بریک لینے اور دوسرے ملک منتقل ہونے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئےکہا ہےکہ وہ ایک مہینے میں کم بیک کریں گے۔

پی سی بی کی جانب سے جاری انٹرویو میں فخر زمان کا کہنا تھا کہ میری ریٹائرمنٹ کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، جلد مکمل فٹ ہوکر ٹیم کو جوائن کروں گا، تھائیرائڈکی وجہ سے سوچا تھا کچھ وقفہ لے لوں، ایک ہفتے میں میری انجری میں کافی فرق پڑا ہے، ڈاکٹرز نے تین ہفتے بعد ٹریننگ کرنےکا مشورہ دیا ہے، ایک مہینےکے اندرکم بیک کروں گا۔

فخر زمان کا کہنا تھا کہ چیمپئنز ٹرافی کےلیےکافی پلاننگ کی تھی، ڈاکٹرز نے آرام کا کہا تھا اس کے باوجود ٹریننگ شروع کردی تھی، دوبارہ درد ایسے وقت شروع ہوگیا جب ٹیم کو میری ضرورت تھی، جب مجھے درد ہوا تو اندازہ ہوگیا تھاکہ چیمپئنز ٹرافی میری ختم ہوگئی، مجھےاندازہ تھا کہ چیمپئنز ٹرافی میں ایک میچ بھی نکل جائے تو مشکل ہوجاتی ہے۔

فخر زمان نے کہا کہ میرا فیورٹ نمبر تو اوپن ہے لیکن جہاں ٹیم کو ضرورت ہو کھیلوں گا، چیمپئنز ٹرافی میں نیوزی لینڈ کے خلاف اوپن کرتا تو فرق پڑتا، نیوزی لینڈ کےخلاف میچ میں اوپن کرنا چاہتا تھا، امپائرز نےکہا کہ قوانین ایسے ہیں ہم کچھ نہیں کرسکتے، مجھے درد تھا پھر بھی فیلڈنگ کی کہ شائد اوپن کا موقع مل جائے۔

بھارت کے خلاف میچ کے حوالے سے پوچھےگئے سوال پر فخر زمان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے میں کچھ کہہ نہیں سکتا کیونکہ ہم ہار چکے ہیں، کرکٹ ایسی گیم ہے جب توقع رکھتے کچھ نہیں کرسکتے، اس حوالے سے میں کچھ کہہ نہیں سکتا کہ بھارت کے خلاف میچ میں میں کیا کرتا، ہوسکتا ہے میں بھارت کے خلاف بڑا اسکور کردیتا لیکن فی الحال کچھ نہیں بول سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں ون ڈے، ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ تینوں فارمیٹ کھیلنا چاہتا ہوں، ریڈ بال کرکٹ پر میرا فوکس ہے لیکن کوچ کا نہیں، میں تو چاہتا ہوں ٹیسٹ کرکٹ کھیلوں لیکن کوچ کپتان کی اپنی پلاننگ ہوتی ہے، میں سمجھتا ہوں مجھ سے اچھے کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ میں موجود ہیں۔

فخر زمان کا مزید کہنا تھا کہ میں بیٹر سے بولر زیادہ بہتر ہوں، میں شاداب خان کا فیورٹ بولر بھی ہوں، شاداب خان نےکہا تھا کہ میں جب کپتان ہوں گا تو آپ کے ون ڈے میں پانچ اور ٹی ٹوئنٹی میں سو اوور پکے ہیں، نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز کے ایک میچ میں شاداب کپتان تھے لیکن وہ میچ ہو نہیں سکا تھا۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More