سرگودھا میں لڑاکا طیارے کا فیول ٹینک گرنے کا واقعہ: ’فیول ڈمپنگ‘ کیا ہے اور پائلٹ کِن حالات میں ٹینک زمین پر گِراتے ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Feb 28, 2025

Getty Imagesڈراپ ٹینک لگانے کا مقصد جنگی طیاروں کی رینج بڑھانا ہے

’یہ دیکھیں اس بھینس کا کچھ بھی نہیں بچا، مگر شکر ہے انسان محفوظ رہے۔ یہ دیکھیں یہ سب اُس وقت ہوا جب یہاں اوپر سے جہاز گزرے اور اُن سے تیل والی ٹینکی گری، اُس کے بعد یہ سب ہوا ہے۔‘

پاکستان کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں اس آواز کے ساتھ دکھائے گئے منظر میں بظاہر جانوروں کا ایک باڑا دکھائی دے رہا ہے۔ باڑے میں متعدد بھینیس کھونٹے سے بندھی ہیں جبکہ کچھ مقامی افراد وہاں کھڑے باڑے کے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ویڈیو میں ایک مردہ بھینس بھی نظر آ رہی ہے جس کے جسم کے جزوی طور پر پرخچے اڑے ہوئے ہیں۔

یہ ویڈیو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا کے علاقے چک 100 جنوبی کی ہے۔

ویڈیو بنانے والا شخص دعویٰ کرتا ہے کہ تین لڑاکا طیارے اس علاقے کے اوپر سے گزرے تھے۔ ’تین جنگی جہاز تھے، ایک کی تیل کی ٹینکی گری ہے۔ جانور مر گئے ہیں۔ پورے ڈیرے میں تیل ہی تیل پھیلا ہوا ہے، کوئی حال نہیں ہے۔‘

بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سرگودھا کے چک 100 میں اصل میں ہوا کیا تھا اور مقامی افراد کے دعوؤں میں کس حد تک صداقت ہے۔

واضح رہے کہ سرگودھا میں پاکستان کی فضائیہ کا ایک بڑا ایئر بیس ’پی اے ایف بیس مصحف‘ موجود ہے اور یہاں لڑاکا طیاروں کی پروازیں معمول کی بات ہے اور شاید اسی وجہ سے اس شہر کو ’شاہینوں کا شہر‘ بھی کہا جاتا ہے۔

بی بی سی نے اس واقعے سے متعلق معلومات جاننے کے لیے جب سرگودھا پولیس سے رابطہ کیا تو سرگودھا کے کرانہ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او اعجاز احمد نے بی بی سی کو اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہے بدھ (26 فروری) کو اُس وقت پیش آیا تھا ’جب فضائیہ کے تین لڑاکا طیاروں کی پرواز کے دوران ٹینک ڈراپ کیا گیا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’انھیں بدھ کی صبح پولیس کنٹرول روم سے اس واقعے کی اطلاع موصول ہوئی تھی جس کے بعد وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے۔‘

اعجاز احمد کے مطابق ’وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوہے کا ایک فیول ٹینک پڑا ہوا تھا اور ہر طرف تیل پھیلا ہوا تھا۔ ’کیونکہ ہر طرف تیل پھیلا ہوا تھا تو ہمیں ڈر تھا کہ کہیں کوئی شخص سگریٹ نہ سلگا لے اور اس سے آگ لگ جائے۔‘

پولیس نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ طیارے سے زمین پر گرنے والے فیول ٹینک کے باعث باڑے میں موجود ایک بھینس بھی ماری گئی ہے جبکہ کچھ دیگر جانور معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

ایس ایچ او اعجاز نے بتایا کہ ’پاکستان ایئر فورس کے عملے کو بھی اس واقعے کی اطلاع مل چکی تھی اور ہمارے پہنچتے ہی اُن کی اہلکار بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور اُن کی ٹیم اپنا فیول ٹینک گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔‘

اس حوالے سے پاکستان فضائیہ کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن اُن کی جانب سے تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

مگر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض اوقات جنگی طیارے دوران پرواز اپنا فیول ٹینک زمین پر کیوں اور کِن حالات میں گراتے ہیں؟

’فیول ڈمپنگ‘: طیارے سے منسلک اضافی ایندھن ٹینکس کی تاریخGetty Imagesڈراپ ٹینک کا پہلی مرتبہ طیاروں میں استعمال 1923 میں امریکی فوج نے کیا تھا

جنگی طیارے اپنی تیز رفتاری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

تاہم اس تیز رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے یہ جہاز دیگر عام طیاروں کی نسبت زیادہ ایندھن استعمال کرتے ہیں جس سے اُن کا فیول ٹینک بہت جلد خالی ہو جاتا ہے، جو کسی بھی مشن میں ناکامی کی وجہ بن سکتا ہے۔

اس مسئلے کا ایک حل ڈراپ یا بیرونی فیول ٹینک ہیں۔ یہ ایسے ٹینک ہوتے ہیں جنھیں طیارے کے پروں کے نیچے لگایا جاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر انھیں پائلٹ باآسانی طیارے سے الگ بھی کر سکتے ہیں۔ اس سے جہاز کا وزن کم ہو جاتا ہے اور اس کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔

جنگی طیاروں میں ڈراپ ٹینک یا بیرونی ایندھن ٹینک کا استعمال اب کافی عام ہے لیکن پہلی مرتبہ اس کا استعمال سنہ 1923 میں امریکی فوج نے کیا۔

امریکی فضائیہ کے 127 ونگ کی ویب سائٹ کے مطابق سنہ 1922 میں سیلفریج فیلڈ سے منسلک ’فرسٹ پرسوٹ گروپ‘ کو جنوری 1922 میں بوئنگ MB-3As طیارے ملے تھے۔ ان طیاروں نے پہلی عالمی جنگ میں استعمال ہونے والے پرانے طیاروں کی جگہ لی تھی۔ امریکی فضائیہ نے اِن طیاروں کی رفتار اور پرواز کا دورانیہ بڑھانے کے لیے اُن کے ساتھ بیرونی فیول ٹینک منسلک کیے تھے۔

یہ ٹینک طیارے کے پروں کے نیچے لگائے گئے جس کی مدد سے طیاروں کی زیادہ فاصلے تک پرواز کرنے کی صلاحیتمیں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

’ڈاگ فائٹ کا چیمپیئن‘ ایف 16 پاکستان سمیت دنیا بھر کی فضائی افواج میں آج بھی اتنا مقبول کیوں ہے؟بالاکوٹ میں انڈین طیارے پاکستانی طیاروں سے کیسے بچے؟ابھینندن ورتھمان: پاکستان کی تحویل میں انڈین پائلٹ کی موجودگی کے دوران پسِ پردہ کیا ہوتا رہا؟پی کے 8303 کی تباہی: ’کپتان چیخا مے ڈے، مے ڈے، طیارہ مڑا مگر پائلٹس کو اندازہ ہو چکا تھا کہ رن وے تک پہنچنا ممکن نہیں‘جنگی طیارے اپنا فیول ٹینک کیوں گراتے ہیں؟

پاکستان فضائیہ کے ایئر کموڈور (ریٹائرڈ) شبیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جہاں یہ ڈراپ ٹینک ان جنگی طیاروں کو اضافی رینج فراہم کرتے ہیں وہیں یہ ان کے وزن میں اضافے اور ان کی رفتار اور پینترے بازی می٘ں رکاوٹ کا بھی سبب بنتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے اگر جہاز میں کسی قسم کی خرابی آ جائے تو اکثر پائلٹ جہاز کو قریبی ہوائی اڈے تک لے جانے کے لیے جہاز کا اضافی وزن کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیے وہ اپنا بیرونی فیول ٹینک گرا دیتے ہیں۔

ان کے مطابق ایسا کرنے سے طیارے کا وزن کم ہو جاتا ہے اور اسے نزدیک ترین ہوائی اڈے تک لے جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

تاہم ایئر کموڈور شبیر کے مطابق اگر خرابی اتنی زیادہ ہو کہ پائلٹ کو جہاز چھوڑنا پڑے تو ایسے میں ایندھن گرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

انھوں نے بتایا کہ ایندھن گراتے وقت پائلٹ اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ یہ کام آبادی سے دور کیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے جانی نقصان سے بچایا جا سکے۔

خیال رہے کہ عموماً یہ فیول ٹینک صحراؤں، سمندروں اور ایسے علاقوں میں گرائے جاتے ہیں جہاں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہو کہ یہاں کوئی آبادی نہیں ہے۔

ویب سائٹ ’سمپل فلائنگ‘ میں درج قواعد وضوابط کے مطابق اس حوالے سے پائلٹ کے پاس تفصیلات موجود ہوتی ہیں کہ وہ یہ فیول ٹینک کہاں گرا سکتے ہیں اور یہ صرف اس صورت میں کیا جاتا ہے جب پائلٹ کی جانب سے تمام آپشنز کا جائزہ لیا جا چکا ہو اور بس یہی آپشن موجود ہو۔

لڑاکا طیاروں کے فیول ٹینک گرانے کی تاریخ

ان فیول ٹینکس کا بڑے پیمانے پر استعمال دوسری عالمی جنگ کے دوران شروع ہوا جب نازی فوج نے اپنے فائٹر اور بمبار طیاروں کی رینج بڑھانے کے لیے ڈراپ ٹینک تیار کیے۔

لڑاکا طیاروں کے پائلٹ کی جانب سے فیول ٹینک گرانے جانے کے واقعات عام ہیں۔

حال ہی میں امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک ایف 16 طیارے کا فیول ٹینک گرنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

انگلن ایئر فورس بیس کے مطابق سات جنوری 2025 کو 96ویں ٹیسٹ ونگ کے ایک ایف 16 فائٹر فیلکن کا 300 گیلن کا فیول ٹینک نائس ول کے رہائشی علاقے میں گرا لیکن اس واقعے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اس سے قبل اگست 2024 میں مشیگن میں دورانِ پرواز امریکی فضائیہ کے ایک ایف 16 طیارے کو ایمرجنسی پیش آئی جس کے بعد پائلٹ نے دو فیول ٹینک گرا دیے۔ ان میں سے ایک ٹینک مشیگن کی ہیورن جھیل میں گر کر پھٹ گیا لیکن اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اپریل 2023 میں پاکستان فضائیہ کے ایک طیارے کو کوہاٹ کے علاقے میں اپنا فیول ٹینک گرانا پڑا تھا تاہم اس میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

سنہ 2013 میں پاکستانی اخبارات میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان ایئرفورس کے ایک طیارے نے اٹک اور مانسہرہ کے قریب دریائے سندھ میں فیول ٹینک گرایا تھا۔

’ڈاگ فائٹ کا چیمپیئن‘ ایف 16 پاکستان سمیت دنیا بھر کی فضائی افواج میں آج بھی اتنا مقبول کیوں ہے؟پی کے 8303 کی تباہی: ’کپتان چیخا مے ڈے، مے ڈے، طیارہ مڑا مگر پائلٹس کو اندازہ ہو چکا تھا کہ رن وے تک پہنچنا ممکن نہیں‘پاکستانی جے ایف 17 یا انڈین تیجس، کون سا طیارہ زیادہ خطرناکابھینندن ورتھمان: پاکستان کی تحویل میں انڈین پائلٹ کی موجودگی کے دوران پسِ پردہ کیا ہوتا رہا؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More