راولپنڈی: خاتون کا اپنے بچے کے اغوا کا ڈرامہ، ’شوہر سے 15 لاکھ تاوان مانگا‘

اردو نیوز  |  Feb 28, 2025

19 فروری کو دن 12 بجے کے قریب راولپنڈی پولیس کو 15 پر ایک کال موصول ہوئی جس میں صوفیہ نامی ایک خاتون نے بتایا کہ میرا 9 ماہ کا بچہ اغوا ہو گیا ہے اور  ملزم 15 لاکھ روپے کا تاوان مانگ رہا ہے۔

کال موصول ہوتے ہی روالپنڈی پولیس متحرک ہو گئی اور سی پی او راولپنڈی سمیت پولیس کے اعلیٰ افسران نے بچے کو فوری تلاش کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

راولپنڈی پولیس کے سٹی سرکل کے متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز نفری سمیت ہزارہ کالونی پہنچ گئے اور بچے کی ماں سے بچے کے اغواء سے متعلق مزید معلومات اکھٹی کرنا شروع کر دیں۔

ایس ڈی پی او سٹی راولپنڈی اظہر شاہ کے مطابق پولیس جب موقعے پر پہنچی تو بچے کی والدہ نے بتایا کہ اغوا کاروں کی جانب سے فون کال پر بتایا گیا ہے کہ ترنول کے علاقے میں 15 لاکھ روپے پہنچائیں اور بچے کو ساتھ لے جائیں۔

پولیس نے بچے کی والدہ کے کہنے پر ایک ٹیم ترنول بھی بھیج دی اور ساتھ میں فون نمبر کی لوکیشن بھی ٹریس کرنا شروع کر دیا۔ 

اس دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ متعلقہ نمبر کی آخری لوکیشن تو اسی محلے کی معلوم ہو رہی ہے۔

پولیس نے اپنی تفتیش جاری رکھی اور محلے کے مختلف گھروں اور مساجد کے باہر لگے سی سی ٹی وی کیمروں سے فوٹیجز نکالنے کی بھی کوشش شروع کر دی۔

اسی دوران بچے کی والدہ نے پولیس کو بتایا کہ وہ خود بھی پڑوسیوں کے گھروں میں بچے کو تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہیں، شاید بچہ کسی کے گھر میں ہو۔

تھوڑی دیر کے بعد بچے کی والدہ نے پولیس کو دوبارہ فون کال کی اور بتایا کہ بچہ ایک پڑوسی کے گھر میں تھا جو اب مل گیا ہے۔

جب ملزمہ نے دیکھا کہ پولیس اس کیس کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے تو وہ گھبرا گئی (فائل فوٹو: اے ایف پی)ایس ڈی پی او اظہر شاہ نے اُردو نیوز کو بتایا کہ ’بچے کی ماں نے اپنی ایک رشتہ دار کی مدد سے اپنے شوہر سے 15 لاکھ وصول کرنے کے لیے بچے کے اغواء کا ڈرامہ کیا لیکن پولیس کی تفتیش کے دوران گھبرا کر خود ہی بچہ واپس اپنے گھر پہنچا دیا۔‘

تاہم  یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ والدہ نے اپنے بچے کے اغواء کا ڈرامہ کیوں رچایا اور شوہر سے 15 لاکھ روپے کیوں لینا چاہے؟

اظہر شاہ کا کہنا تھا کہ ’ملزمہ کا شوہر دیہاڑی دار مزدور ہے۔ ملزمہ نے اپنے محلے میں ایک کمیٹی ڈالی ہوئی تھی۔ کمیٹی میں رقم کے کچھ اوپر نیچے ہوئی تو اُس نے اپنی رشتہ دار (جس کے ہاں کمیٹی ڈالی ہوئی تھی) کی مدد سے بچے کے اغواء کا منصوبہ بنایا اور اپنے شوہر سے 15 لاکھ روپے حاصل کرنا چاہے۔‘

پولیس کے مطابق ’جب ملزمہ نے دیکھا کہ پولیس اس کیس کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے تو وہ گھبرا گئی، پھروہ اپنی رشتہ دار خاتون کے پاس گئی اور اُسے کہا کہ اب یہ معاملہ الٹ پڑ گیا ہے، آپ بچہ واپس لا کر گھر چھوڑ دو۔‘

صوفیہ نامی ایک خاتون نے فون کال پر پولیس کو بتایا کہ ان کا 9 ماہ کا بچہ اغوا ہو گیا ہے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)اس صورت حال میں ملزمہ کی ساتھی بھی ڈر گئی اور بچے کو خود جا کر اُس کے گھر چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ پھر دونوں نے مل کر یہ طے کیا کہ ہم چھوٹی بچی (ملزمہ کی ساتھی کی بیٹی) کے ذریعے بچہ گھر پہنچا دیتے ہیں۔

اظہر شاہ کے مطابق جب بچہ واپس گھر آ  گیا تو ملزمہ نے پولیس کو آگاہ کیا کہ اُن کا بچہ مل گیا ہے، آپ تلاش ختم کر دیں تاہم جب پولیس نے گھر پہنچ کر چھوٹی بچی سے دریافت کیا کہ اُسے بچہ کہاں سے ملا ہے تو اُس نے بتا دیا کہ مجھے مما نے کہا تھا کہ بچہ خالہ کے گھر چھوڑ دو۔

’پولیس جب ملزمہ کی ساتھی کے گھر پہنچی تو تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ اُسے بچے کی والدہ صوفیہ نے ہی کہا تھا میں تمہارے گھر آؤں گی تو تم اس دوران بچے کو غائب کر دینا اور میں شوہر سے 15 لاکھ روپے نکلواؤں گی۔‘

پولیس نے 19 فروری کے دن تین گھنٹے کے اندر کیس کی گتھی سلجھاتے ہوئے مرکزی ملزمہ یعنی بچے کی والدہ کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کرتے اُسے گرفتار کر لیا تاہم بعدازاں ملزمہ ضمانت پر رہا ہو چکی ہے۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More