مصطفیٰ عامر قتل کیس: کمیٹی نے کام شروع کردیا، ’جلد حقائق سامنے لائیں گے‘

اردو نیوز  |  Feb 28, 2025

مصطفی عامر قتل کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی پولیس کی اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے اپنا کام شروع کردیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ملزمان کے کرائم ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے گا اور ملزمان کے بیانات کی روشنی میں کیس سے جڑے تمام کرداروں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔

کمیٹی کے ایک رکن نے اُردو نیوز کو بتایا کہ ’کام شروع کر دیا گیا ہے اور کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مختلف کیسز میں ملزمان نامزد ہیں، ہر کیس کو الگ الگ دیکھا جا رہا ہے۔ جلد ہی حقائق سامنے لانے کی کوشش کی جائے گی۔‘

کراچی پولیس نے گذشتہ روز کیس کی تحقیقات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی تھی جس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق اس ٹیم کا مقصد تحقیقات میں مزید گہرائی پیدا کرنا اور اس میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے۔

 

یہ کیس سندھ کے ایک سنگین مجرمانہ واقعے کے طور پر سامنے آیا، جس میں مصطفیٰ عامر کو اغوا کرکے بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اغوا کی ابتدائی اطلاعات کے بعد مصطفیٰ کے اہل خانہ نے پولیس سے مدد طلب کی، مگر ابتدائی تحقیقات میں کوئی خاص پیشرفت نہ ہو سکی۔ کچھ دنوں بعد مصطفیٰ کی لاش بلوچستان کے شہر حب کے ایک ویران علاقے سے برآمد ہوئی، جس کے بعد پولیس نے اس کیس کو ہائی پروفائل قرار دے دیا۔

پولیس کی تفتیش میں معلوم ہوا کہ اس واردات میں ملزم ارمغان مرکزی کردار ادا کر رہا تھا۔ ارمغان کو جلد ہی حراست میں لے لیا گیا، مگر دورانِ تفتیش ایک اور حیران کن انکشاف ہوا کہ اس کے گھر میں غیرقانونی طور پر ایک کال سینٹر اور سافٹ ویئر ہاؤس چل رہا تھا، جو ممکنہ طور پر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ اس انکشاف نے کیس کو مزید پیچیدہ بنا دیا اور تحقیقات کو وسیع کر دیا۔

تفتیشی ٹیم کی تشکیل

ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کی ہدایت پر بنائی گئی یہ ٹیم کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے گی اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے گی۔

تفتیشی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر ہوں گے جبکہ دیگر ممبران میں ایس ایس پی عرفان بہادر، ایس ایس پی انیل حیدر، ایس ایس پی قیص خان، ایس پی علینہ راجپر اور ایس ایس پی اظہر جاوید شامل ہیں۔

تفتیشی ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نہ صرف مرکزی ملزم ارمغان قریشی کے خلاف کارروائی کو تیز کرے بلکہ اس کے دیگر ساتھیوں اور مبینہ سہولت کاروں کو بھی گرفتار کرے۔

ابتدائی تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ مقتول اور ملزم کے درمیان کسی معاملے پر تنازع چل رہا تھا جو اس ہولناک قتل کا سبب بنا۔ پولیس کے مطابق قتل میں استعمال ہونے والا اسلحہ غیر قانونی تھا۔

پولیس نے مرکزی ملزم ارمغان قریشی کو جمعرات کے روز انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے ارمغان قریشی کے جسمانی ریمانڈ میں پانچ دن کی توسیع کرتے ہوئے انہیں پولیس کے حوالے کر دیا۔

عدالت نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملزم سے مزید تحقیقات کر کے مقدمے میں شفافیت پیدا کرے اور تمام شواہد اکٹھے کرے۔ پولیس تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا ملزم کے دیگر دوست یا خاندان کے افراد اس جرم میں کسی طرح ملوث تھے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More