کئی دنوں کی اپیلوں کے بعد بالآخر امریکی سفارت خانے نے کیلی فورنیا میں کوما میں پڑی انڈین طالبہ کے خاندان کو ویزا جاری کر دیا ہے۔این ڈی ٹی وی کے مطابق نیلم کے والد، کزن اور چچا اگلی پرواز کے ذریعے امریکہ کے لیے روانہ ہوں گے۔ نیلم شِنڈے جو پوسٹ گریجویٹ کی طالبہ ہیں، 14 فروری کو کیلی فورنیا میں ایک ٹریفک حادثے کا شکار ہونے کے بعد کومے کی حالت میں ہیں۔ ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔حادثے کے نتیجے میں انہیں متعدد فریکچرز آئے ہیں اور سر و سینے میں شدید چوٹیں آئی ہیں۔نیلم کے اہل خانہ کو سفارت خانے کی جانب سے اگلے سال انٹرویو کا وقت دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے میڈیا کے ذریعے سیاستدانوں سے اپیلیں کیں۔ این سی پی کی رہنما سپریا سولے کی جانب سے معاملہ اٹھائے جانے کے بعد وزارت خارجہ نے مداخلت کی جس کے بعد ان کو ویزا انٹرویو کے لیے وقت ملا۔ نیلم کے کزن نے بتایا کہ ’جب ہم یہاں آئے، تو کسی نے ہماری مدد نہیں کی۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ اگر ہم یہاں انتظار کرتے رہے تو پولیس ہمیں لے جائے گی۔ اس کے بعد ہم گھر واپس چلے گئے۔ نیلم کی دوست نے مدد کی۔‘نیلم کے اہل خانہ امریکہ جانے کے لیے پانچ سے چھ لاکھ کا قرض لے رہے ہیں۔ ان کے کزن نے بتایا کہ ’اگر حکومت ہماری مدد کرے تو اچھا ہوگا۔ ہم ابھی تک اس کے ہسپتال کے بل کے بارے میں نہیں جانتے۔‘انہوں نے مرکزی حکومت سے ویزا کے عمل کو تبدیل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’کسی اور خاندان کو یہ سب کچھ نہیں جھیلنا چاہیے، جو ہم نے جھیلا۔ ایمرجنسی صورتحال کے لیے ان کو طریقہ کار تبدیل کرنا چاہیے۔‘نیلم کے والد نے کہا تھا کہ ان کو 16 فروری کو حادثے کے بارے میں پتا چلا تھا، اور اس کے بعد سے ہم ویزے کے حصول کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔اہل خانہ سے نیلم شنڈے کی آخری مرتبہ رابطہ 12 فروری کو ہوا تھا۔ ان کو حادثے کی اطلاع ہسپتال اور نیلم کی رومیٹ نے دی تھی۔ان کے چچا سنجے کدم نے بتایا تھا کہ پولیس نے نیلم کو ہسپتال میں داخل کرایا۔ اور اس کے رومیٹ نے ہمیں 16 فروری کو اطلاع دی۔ وہ بڑے حادثے کا شکار ہوئی ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ نے اس کے دماغ کے آپریشن کے لیے ہم سے رابطہ کیا۔ وہ اس وقت کومہ میں ہیں اور ہم اس کے پاس جانا چاہتے ہیں۔‘