پاکستان میں وفاقی ملازمتوں میں خواتین کی کم نمائندگی، وجہ سماجی رکاوٹیں؟

اردو نیوز  |  Mar 26, 2025

پاکستان میں وفاقی ملازمتوں میں خواتین کی صنفی شمولیت کے لیے پالیسیوں، کوٹہ اور مخصوص مراعات کے باوجود کے باوجود اب بھی وفاقی اداروں، خاص طور پر قیادت اور فیصلہ سازی کے کردار میں اُن کی نمائندگی تناسب کم ہے۔

وفاقی اداروں میں ملازمین کی تعداد جہاں 7 لاکھ 14 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے وہاں خواتین کی نمائندگی صرف 49 ہزار ہے جو کہ کل ملازمین کا صرف پونے سات فیصد (6.86) فیصد ہیں۔ 

اعداد و شمار کے مطابق مختلف وفاقی سرکاری محکموں میں کم و بیش 30 ہزار خواتین ملازمت کر رہی ہیں۔ ان میں سے 6,715 خواتین بنیادی پے سکیل (بی ایس) 17 سے 22 کے عہدوں پر فائز ہیں، جو کل خواتین ملازمین کا 22.24 فیصد بنتی ہیں، جبکہ باقی 78 فیصد خواتین بی ایس 1 سے 16 میں کام کر رہی ہیں۔

دفاع ڈویژن میں سب سے زیادہ خواتین ملازمین ہیں، جو کل خواتین ملازمین کا 37.31 فیصد بنتی ہیں، اس کے بعد وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت ڈویژن 20.42 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ دیگر اہم ڈویژنز میں خواتین کی نمایاں نمائندگی میں داخلہ ڈویژن 7.10 فیصد، قومی صحت سروسز ریگولیشنز اور کوآرڈینیشن ڈویژن 6.52 فیصد، اور مواصلات ڈویژن 4.75 فیصد شامل ہیں۔

بی ایس 17 سے 22 میں کام کرنے والی خواتین ملازمین کی تقسیم سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے 63.01 فیصد بی ایس 17 میں، 24.10 فیصد بی ایس 18 میں، 9.81 فیصد بی ایس 19 میں، 2.37 فیصد بی ایس 20 میں، 0.60 فیصد بی ایس 21 میں، اور صرف 0.12 فیصد بی ایس 22 میں کام کر رہی ہیں۔ 

اس کے برعکس، بی ایس 1 سے 16 میں ملازمت کرنے والی خواتین میں 33.97 فیصد بی ایس 1-5 میں، 23.48 فیصد بی ایس 16 میں، 13.20 فیصد بی ایس 14 میں، 8.54 فیصد بی ایس 7 میں، 8.13 فیصد بی ایس 9 میں، 6.59 فیصد بی ایس 11 میں، اور 3.02 فیصد بی ایس 15 میں کام کر رہی ہیں۔ 

یہ اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ خواتین تمام پے سکیلز میں موجود ہیں، لیکن ان کی اکثریت نچلے اور درمیانے درجے کے عہدوں پر ہے، جبکہ اعلیٰ عہدوں پر ان کی تعداد انتہائی کم ہے۔

وفاقی سیکریٹریٹ میں خواتین کی ملازمتوں پر نظر ڈالی جائے تو اس شعبے میں کل 1076 خواتین کام کر رہی ہیں، جن میں سے 39.66 فیصد بی ایس 17 سے 22 میں اور 60.34 فیصد بی ایس 1 سے 16 میں تعینات ہیں۔ بی ایس 17 سے 22 میں شامل 391 خواتین میں سب سے زیادہ 47.31 فیصد بی ایس 18 میں، 27.62 فیصد بی ایس 17 میں، 12.79 فیصد بی ایس 19 میں، 7.93 فیصد بی ایس 20 میں، 3.32 فیصد بی ایس 21 میں، اور 1.02 فیصد بی ایس 22 میں موجود ہیں۔ 

وفاقی سیکریٹریٹ میں بی ایس 1 سے 16 میں خواتین کی تقسیم کے مطابق 28.57 فیصد بی ایس 15 میں، 17.98 فیصد بی ایس 16 میں، 17.48 فیصد بی ایس 1-4 میں، 14.29 فیصد بی ایس 9 میں، 11.93 فیصد بی ایس 14 میں، اور 8.57 فیصد بی ایس 11 میں تعینات ہیں۔ 

منسلک محکموں میں خواتین کی ملازمت کا جائزہ لیا جائے تو ان شعبوں میں 18 ہزار خواتین کام کر رہی ہیں، جن میں سے 26.45 فیصد بی ایس 17 سے 22 میں ہیں۔ ان میں سے 63.35 فیصد بی ایس 17 میں، 22.65 فیصد بی ایس 18 میں، 9.72 فیصد بی ایس 19 میں، 2.01 فیصد بی ایس 20 میں، 0.24 فیصد بی ایس 21 میں، اور صرف 0.03 فیصد بی ایس 22 میں تعینات ہیں۔ بی ایس 1 سے 16 میں کام کرنے والی خواتین میں 32.04 فیصد بی ایس 16 میں، 20.95 فیصد بی ایس 1-5 میں، 17.26 فیصد بی ایس 14 میں، 9.05 فیصد بی ایس 7 میں، 7.97 فیصد بی ایس 9 میں، اور 7.12 فیصد بی ایس 11 میں کام کر رہی ہیں۔ 

سکیورٹی خدمات میں بھی صنفی تفاوت نمایاں ہے۔ سول مسلح افواج (پولیس کے علاوہ) میں خواتین صرف 6 فیصد ہیں۔

سندھ (دیہی) میں خواتین کی نمائندگی 10 فیصد کے طے شدہ کوٹہ کے برعکس پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔ فائل فوٹو: بیلٹ اینڈ روڈ پورٹلاس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وفاقی سیکرٹریٹ، منسلک محکمے، ماتحت دفاتر، آئینی ادارے، اور خودمختار یا نیم خودمختار ادارے، وفاقی خدمات، بشمول مسی ایس ایس۔ میں خواتین کے لیے 10 فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا ہے تاکہ صنفی تنوع کو فروغ دیا جا سکے، لیکن مختلف محکموں میں اس پر عملدرآمد ممکن نہیں ہو پا رہا۔ 

اس حوالے سے وفاقی وزیر اسٹیبلشمنٹ احد چیمہ کا کہنا ہے کہ ’خواتین کی بھرتی کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت نے مختلف اقدامات کیے ہیں، جیسا کہ کوٹے کے سخت نفاذ کو یقینی بنانا اور میرٹ پر مبنی بھرتی کو فروغ دینا۔ 2023 میں ایک خصوصی سی ایس ایس امتحان متعارف کرایا گیا، جس میں چوتھی کوشش کی اجازت دی گئی اور عمر کی حد بڑھا کر 35 سال کر دی گئی تاکہ خواتین اور دیگر کوٹہ پر مبنی گروہوں کے لیے خالی آسامیوں کو پُر کیا جا سکے۔‘ 

حکومتی اقدامات کے باوجود ملازمت کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ یہ پالیسیاں موجود ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد مختلف محکموں میں نمایاں طور پر مختلف ہے۔

اگر ڈومیسائل کے مطابق وفاقی ملازمتوں کو دیکھا جائے تو بھی صوبائی سطح پر سرکاری ملازمتوں میں خواتین کی نمائندگی میں نمایاں تفاوت پایا جاتا ہے۔ پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے، پنجاب سے وفاقی عہدوں پر خواتین ملازمین کی سب سے زیادہ تعداد موجود ہے لیکن پھر بھی وہ مقررہ 10 فیصد کوٹے سے تھوڑا کم ہے۔

سندھ شہری میں خواتین کی نمائندگی مجموعی طور پر چھ فیصد ہے، سندھ (دیہی) میں یہ نمائندگی دس فیصد کے طے شدہ کوٹہ کے برعکس پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔ 

خیبر پختونخوا، بلوچستان، کشمیر، گلگت بلتستان، اور سابقہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات میں خواتین کی نمائندگی بھی پانچ سے سات فیصد کے درمیان ہے، جو کہ صرف 10 فیصد کی کم از کم حد کے قریب ہے۔ یہ اعداد و شمار ان ثقافتی اقدار، تعلیمی پابندیوں، اور نقل و حرکت کی مشکلات کو اجاگر کرتے ہیں جو ان علاقوں میں خواتین کی سرکاری ملازمتوں تک رسائی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ یہاں تک کہ اسلام آباد، جو کہ ملک کا دارالحکومت اور پالیسی سازی کا مرکز ہے، خواتین کی ملازمت کے حوالے سے نمایاں بہتری نہیں دکھاتا اور مجموعی طور پر 14 خواتین ہی وفاقی ملازمتوں میں شامل ہو سکی ہیں۔ 

حکام کے مطابق اگرچہ حکومت نے وفاقی ملازمتوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے پالیسیاں متعارف کرائی ہیں، لیکن ثقافتی رکاوٹیں خواتین کی ترقی کے مواقع محدود کر رہی ہیں۔ دیہی خواتین کو خاص طور پر چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں کم تعلیمی شرح، نقل و حرکت پر پابندیاں، اور سماجی توقعات شامل ہیں جو انہیں کیریئر بنانے سے روکتی ہیں۔ بہت سی خواتین کو سرکاری ملازمتوں کے مواقع کے بارے میں آگاہی نہیں ہوتی۔ ایک اور بڑا مسئلہ خواتین کی پالیسی سازی میں کم موجودگی ہے۔ کلیدی حکومتی عہدوں میں خواتین کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ مسائل نظرانداز ہو جاتے ہیں جو خاص طور پر خواتین کو متاثر کرتے ہیں، جیسے کام کی جگہ کی حفاظت، مساوی تنخواہ، اور ترقی کے مواقع وغیرہ شامل ہیں مزید یہ کہ خودمختار ادارے، جو سخت نگرانی کے تابع نہیں ہوتے، اکثر خواتین کے لیے مختص کوٹہ پورا نہیں کرتے، جس سے مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے سابق رکن نفیس ذکریا نے نشاندہی کی ہے کہ مسئلہ صرف پالیسی کے نفاذ کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی ماحول کا بھی ہے۔ اس کے علاوہ ہمارا نظام تعلیم اس قدر ناقص ہے کہ خواتین کی بڑی تعداد مسابقتی امتحانات میں کامیاب ہی نہیں ہو پاتیں۔ 

حکومت نے وفاقی ملازمتوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے پالیسیاں متعارف کرائی ہیں۔ فائل فوٹو: سندھ ایمرجنسی سروسانھوں نے بتایا کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے سال 2024 کے سی ایس ایس امتحانات میں13008امیدوار شریک ہوئے۔ 401 امیدواروں  نے تحریری امتحان پاس کیا، 386 امیدوار انٹرویو کے بعد کامیاب قرار پائے۔ 234 مرد، 152خواتین کامیاب امیدواروں میں شامل تھیں۔ ،210 امیدواروں کو تقرری کے لیےتجویز کیا گیا جن میں 126 مرد، 84 خواتین امیدواروں کی تقرری کی گئی۔ ان میں سے بھی کئی خواتین نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر جوائننگ نہیں دی۔ 

 خواتین کے حقوق کی کارکن ثوبیہ شاہ نے بھی انہی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ادارہ جاتی پدرشاہی، تعلیم تک ناکافی رسائی، اور کام کی جگہ پر عدم تحفظ خواتین بالخصوص دیہی خواتین کو ملازمتوں تک رسائی سے روکتا ہے۔ کوٹہ پالیسی تبھی مؤثر ہو سکتی ہے جب اس کے ساتھ معاون نظام بنایا جائے۔ صرف کوٹہ مختص کرنا کافی نہیں، بلکہ کام کے ماحول، کیریئر کے مواقع، اور خواتین کی قیادت کے حوالے سے مجموعی سوچ میں تبدیلی لانا بھی ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ مؤثر ترقی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کو صرف پالیسی کے اعلان سے آگے بڑھ کر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ 10 فیصد کوٹے کے سخت نفاذ کے لیے وقتاً فوقتاً جائزے ضروری ہیں تاکہ اس کی تکمیل کی تصدیق کی جا سکے، اور وہ وزارتیں یا محکمے جو اس ہدف کو پورا نہیں کرتے انہیں جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ بلوچستان، خیبرپختونخوا، اور گلگت بلتستان جیسے کم نمائندہ علاقوں میں خواتین کے لیے خصوصی بھرتی مہم چلائی جانی چاہئیں۔ جہاں سماجی و ثقافتی رکاوٹیں زیادہ ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے مالی اور پیشہ ورانہ مراعات ضروری ہیں۔ وظائف، پیشہ ورانہ رہنمائی، اور آگاہی پروگرام ہی پالیسیوں اور عمل درآمد کے درمیان فرق کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آئینی اداروں اور اعلیٰ انتظامی اور حکومتی عہدوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانا ترجیح ہونی چاہیے تاکہ ایسی قیادت تشکیل دی جا سکے جو خواتین کو اعلیٰ عہدوں کے لیے ترغیب دے۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More