Artist's impression by Masato Hattoriڈوینیچوس سوگٹ باٹری پودوں کو پکڑنے میں مہارت رکھتے تھے
منگولیا کے صحرائے گوبی میں سائنس دانوں نے دو پنجوں والے ڈائناسور کی ایک غیرمعمولی قسم کی دریافت کی ہے۔
سبزی خور ڈائنوساروں کا یہ گروہ کریٹیشیئس دور میں ایشیا اور شمالی امریکہ میں رہتا تھا۔ یہ دور 145 ملین سال پہلے شروع ہوا تھا اور 66 ملین سال پہلے ختم ہوا تھا۔
یونیورسٹی آف کیلگری کی اسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ڈارلا زیلنٹسکی کا کہنا ہے کہ ان کی مثال فلم جراسک ورلڈ ڈومینین میں دکھائے گئے طویل پنجوں والی تھیریزینوسورس ہے اور یہ ’عجیب و غریب‘ دکھائی دیتےہیں۔
یہ نمونہ منگولیا کے صحرائے گوبی میں بیانشائر کی تشکیل سے برآمد کیا گیا تھا، جو کریٹیشیئس دور کا آخری (100.5 سے 66 ملین سال قبل) حصہ ہے۔
اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو نے منگولیا کے صحرائے گوبی کو دنیا کا سب سے بڑا ڈائناسور فوسل ذخیرہ قرار دیا ہے۔
یہ خطہ بعد کے کریٹیشیئس دور کے فوسلز کا ایک خاص طور پر اہم ذریعہ ہے جو ڈائنوسار دور کے اہم تین ادوار میں سے آخری ہے اور یہ ڈائنوسار کے ارتقا کے آخری فیز یا مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے۔
ڈائنوسار کی دو نئی اقسام دریافت جو ساڑھے بارہ کروڑ سال پہلے گھوما پھرا کرتے تھےقطبی ڈائنوسار جن کی دریافت زمانہ قدیم کے نئے بھید کھول رہی ہےدنیا کے سب سے بڑے ڈائنوسار کی لندن آمد مگر کیا یہ میوزیم میں پورا آئے گا؟ سات کروڑ سال قبل ایک ڈائنوسار نے اپنے آخری کھانے میں کیا کھایا تھا؟Yoshi Kobayashi, Hokkaido Universityمحققین کا خیال ہے کہ ڈائنوسار کا وزن تقریبا 260 کلو گرام تھا۔
یہ نسل جس کا نام ڈوونیچوس سوگٹباٹری ہے، تھیریزینوسورس نامی ڈائنوساروں کے ایک گروپ میں انوکھا ہے۔ یہ اپنی پچھلی ٹانگوں پر کھڑے ہوتے ہیں اور عموماً ان کے تین پنجے ہوتے ہیں۔
ان کا سائز درمیانہ تھا اور ان کا وزن تقریباً 260 کلوگرام تھا۔
محققین کا خیال ہے کہ اس نسل کے لمبے، خم دار پنجے اور ان کو مضبوطی سے لچک دار کرنے کی صلاحیت نے اسے پودوں کو درست طریقے سے پکڑنے والا بنا دیا ہو گا۔
Kobayashi et alپنجوں کو طاقتور ہتھیاروں کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً ایک فٹ لمبے پنجے اس کی زیریں ہڈی سے کہیں زیادہ بڑے تھے۔
بہتر گرفت کے علاوہ، دو انگلیوں والے ہاتھوں کو نمائش، کھدائی، یا طاقتور ہتھیاروں کے طور پر استعمال کیے جاتے تھے۔
دو انگلیوں والے سب سے زیادہ مشہور تھیروپوڈ گروپ ٹیرانوسورائڈز کے اندر موجود اقسام ہیں۔
اس میں ٹرائنوسورس ریکس بھی شامل ہے، لیکن ڈوینیچوس نے اپنے دو انگلیوں والے ہاتھوں کو ان سے اور دیگر دو انگلیوں والے تھیروپوڈز میں ارتقائی عمل کے باعث مختلف رہا ہے۔
یہ نمونہ تھیریزینوسور کی پہلی کیراٹینیئس شیتھ کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔
یہ ایک ایسا عنصر ہے جو انسانی ناخنوں کی طرح پنجے کو ڈھانپتا ہے۔ یہ دفاع، نقل و حرکت، یا شکار پکڑنے میں مدد کرتا ہے۔
’مشن جوراسک ‘ ڈائنو سار کو تلاش کرنے کی مہم کا آغازشہابِ ثاقب جس نے کرۂ ارض کی تاریخ بدل دی’ڈائنوسارز کے فروغ میں آتش فشانی کا اہم کردار رہا‘سات کروڑ سال قبل ایک ڈائنوسار نے اپنے آخری کھانے میں کیا کھایا تھا؟دنیا کے سب سے بڑے ڈائنوسار کی لندن آمد مگر کیا یہ میوزیم میں پورا آئے گا؟