Netflix
نیٹ فلیکس کی نئی سیریز (Adolescence) ایک انتہائی پریشان کن سوال کو جنم دیتی ہے: آخر ایک 13 سالہ لڑکے کو اپنی ہم جماعت لڑکی کو قتل کرنے پر کس چیز نے مجبور کیا؟
اس کا ایک جواب بظاہر ’مینو سفیئر‘ (manosphere) میں نظر آتا ہے۔
یہ اصطلاح پہلی بار سنہ 2009 میں سامنے آئی، جو مردوں کی آن لائن کمیونٹیز کے نیٹ ورک کے بارے میں بتاتی ہے۔ اس میں کئی نظریات کے حامل گروپس شامل ہوتے ہیں، جو یہ سمجھتے ہیں کہ مردوں کے پاس زیادہ اختیارات نہیں جبکہ کچھ عورتوں سے نفرت جیسے خیالات کے حامل ہوتے ہیں۔
تاہم اب یہ معاملہ انٹرنیٹ کی دنیا سے انفلوئنسرز کی دنیا میں آ گیا اور اس حوالے سے بات کرنے میں رومانیہ کے متنازع انفلوئنسر اینڈریو ٹیٹ جیسے انفلوئنسرز دنیا بھر میں مشہور ہیں۔
اس فلم کے رائٹر جیک تھرون اس بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے بہت گہرائی تک گئے۔
انھوں نے بی بی سی کے پروگرام ’نیوز نائٹ‘ میں بتایا کہ ’مجھے احساس ہوا کہ اس میں کچھ بہت پُرکشش تھا۔ یہ صرف اینڈریو ٹیٹ تک محدود نہیں بلکہ ایسے خیالات ہر جگہ موجود ہیں۔‘
ماہرین کہتے ہیں کہ انفلوئنسرز اور گروپس، ٹوٹ پھوٹ کی شکار کمیونٹی اور نوجوانوں کو درپیش سماجی اور معاشی چیلنجز کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلا کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
حقوق نسواں کے خلاف ردعمل
سنہ 1970 کی دہائی میں حقوقِ نسواں کی دوسری تحریک کے دوران، جس میں مساوی حقوق اور امتیازی سلوک کے مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی، امریکہ کے سماجی کارکن وارن فیرل مردوں کی ’مین لبریشن موومنٹ‘ کی ایک نمایاں آواز بن گئے۔
’مین لبریشن موومنٹ‘ حقوق نسواں کی حمایت کرنے والے مردوں کی تحریک تھی۔ وارن فیرل کا ماننا تھا کہ صنفی کردار اور پدرانہ نظام سے مردوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
’مینو سفیئر‘ پر تحقیق کرنے والے پروفیسر ڈیبی گنگ بتاتے ہیں کہ ’لیکن جب فیمینیسٹس نے مردوں کی طرف سے خواتین کے خلاف تشدد کی جانب توجہ دلائی، تو ان دونوں تحریکوں کا آپس میں ٹکراؤ ہوا۔‘
وارن فیرل کا اس بارے میں یہ خیال تھا کہ فیمینیسٹس دراصل برابری سے زیادہ طاقت کے حصول میں دلچسپی رکھتی ہیں، ایک ایسا خیال جو آج کل مردوں میں بڑھ رہا ہے۔
’مین لبریشن موومنٹ‘ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی کیونکہ وارن فیرل اور دیگر بہت سے لوگ فیمینزم سے مایوس ہو گئے۔
’مردانگی کا بحران اور سماجی بانجھ پن‘: مردوں میں بے اولادی کی وجوہات کیا ہیں؟ ’مسئلہ مجھ میں ہو سکتا ہے، یہ سوچا بھی نہ تھا‘: مردوں میں باپ بننے کی صلاحیت میں کمی کیوں ہو رہی ہے؟بچیوں میں قبل از وقت ماہواری کی وجوہات: ’مجھے 13 سال کی عمر میں ماہواری ہوئی، گمان تھا کہ میری بچی بھی اِسی عمر میں بالغ ہو گی‘جنسی تعلق کے نتیجے میں حمل ٹھہرنے سے متعلق سُنی سُنائی باتیں جن کا حقیقت سے کم ہی تعلق ہے
سنہ 1990 کی دہائی کے دوران وارن فیرل نے ایسی بہت سی کتابیں لکھیں جن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مردوں پر ظلم کیا جا رہا ہے، گھریلو تشدد دو طرفہ مسئلہ ہے اور یہ کہ غیر مساوی تنخواہ کی ذمہ دار خواتین ہیں۔
پروفیسر ڈیبی گنگ کہتے ہیں کہ ان خیالات کو ابتدائی آن لائن فورمز پر شیئر کیا گیا اور آج کل مردوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن اس دور کو اہم سنگ میل سمجھتے ہیں۔
1990 کے آن لائن فورمز
نوے کی دہائی میں انٹرنیٹ آیا تو مردوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکنوں نے آن لائن فورمز اور چیٹ رومز بنانے شروع کیے لیکن ابتدائی طور پر یہ گروپ اتنے برے نہیں تھے۔
Getty Images
رومانوی تعلقات بنانے میں مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد ایک ہم جنس پرست خاتون طالبہ نے ’انسیلز‘ (incels) کے لیے پہلا آن لائن فورم بنایا۔ ’انسیلز‘ کا مطلب ہے وہ لوگ جو غیر ارادی طور پر تنہا ہیں اور رومانوی تعلقات نہیں بنا پاتے۔
اس فورم کے بانی نے 2018 میں بی بی سی کو بتایا کہ یہ جگہ سب کے لیے تھی لیکن جیسے جیسے فورم بڑھتا گیا اس کی نگرانی کم ہوتی گئی۔ آہستہ آہستہ گفتگو میں خواتین کے خلاف تعصب شامل ہونے لگا اور کچھ نئے گروہ بننے لگے جو ’انسیل‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے۔
یہ فورم جس کا مقصد تعلقات کے مسائل پر بات کرنا تھا، ایسی جگہ بن گیا جہاں مرد اپنی تنہائی کا ذمہ دار عورتوں کو ٹھہرانے لگے۔
دوسری طرف ’پک اپ آرٹسٹ‘ (Pick Up Artist) فورمز وجود میں آئے جہاں مرد خواتین کو متوجہ کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرتے تھے۔ یہ لوگ خود کو ’ایلفا‘ (Alpha) کہتے تھے، جو مردانگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
سائبر کرائم کی ماہر ڈاکٹر لیزا سوگیورا نے ’مینوسفیئر‘ (Manosphere) کی تاریخ پر ایک کتاب لکھی ہے، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان فورمز میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ خواتین کے خلاف نفرت انگیز خیالات جڑ پکڑنے لگے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’شروع میں وہ عورتوں کو متاثر کرنے کے طریقے شیئر کرتے تھے لیکن جلد ہی ان کا نظریہ یہ بن گیا کہ عورتوں کی اپنی کوئی مرضی نہیں اور انھیں انکار کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔‘
Getty Images’انسیلز‘ کے نظریات عام ہونے لگے
مینوسفیئر کا رجحان سوشل میڈیا کے آنے کے بعد زیادہ عام ہونے لگا۔
’انسیلز‘ یعنی وہ لوگ جو غیر ارادی طور پر تنہا ہیں، فیس بک، یوٹیوب اور ریڈاٹ جیسے پلیٹ فارمز پر اکٹھے ہونے لگے اور انھیں بڑی تعداد میں لوگوں تک رسائی مل گئی۔ یہ گروہ آپس میں جُڑنے لگے اور ایک دوسرے کے خیالات کو اپنانے لگے تاکہ زیادہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکیں۔
ان کمیونٹیز کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ ڈیٹنگ میں مردوں کے خلاف ناانصافی ہو رہی ہے۔ ’ایڈولیسینس‘ میں پیش کیے گئے ’80/20 رول‘ کے مطابق 80 فیصد عورتیں صرف 20 فیصد مردوں کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔
یہ دعویٰ دراصل ایک ایسی سروے رپورٹ پر مبنی تھا جسے غلط سمجھا گیا۔
اگر کوئی مرد اس نظریے پر یقین کر لیتا تو کہا جاتا کہ وہ ’ریڈ پِلڈ‘ ہو گیا ہے جو فلم دی میٹرکس کے ایک منظر سے لیا گیا ہے جہاں ’سچائی‘ کو جاننا معاشرتی ناانصافیوں سے آگاہ ہونے کے مترادف ہوتا ہے۔
پروفیسر گِنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان نیٹ ورکس نے خواتین کے حقوق کے خلاف ایک نئی قسم کی سیاسی سرگرمی پیدا کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ایسے آن لائن حملے دیکھے جہاں عورتوں کو متنبہ کیا جاتا تھا کہ اگر انھوں نے کسی خاص حد کو عبور کیا تو انھیں اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔‘
سنہ 2014 میں مینوسفیئر سے جُڑے گروہوں نے گیمنگ کمیونٹی میں موجود خواتین کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی جس میں ان کی ذاتی معلومات عام کرنا (ڈوکسنگ) اور انھیں دھمکیاں دینا شامل تھا۔
اسی سال یہ تحریک صرف آن لائن تک محدود نہ رہی بلکہ حقیقی دنیا میں تشدد کی صورت میں ظاہر ہونے لگی۔ کیلیفورنیا کے علاقے آئلا وسٹا میں 22 سالہ ایلیٹ راجر جو خود کو ’انسیل‘ کہتا تھا نے عورتوں کی طرف سے مسترد کیے جانے کے ’بدلے‘ میں چھ افراد کو قتل اور چودہ کو زخمی کر دیا تھا۔ یہ اس نظریے سے جُڑے کئی بڑے حملوں میں سے پہلا تھا۔
ڈاکٹر سوگیورا کا کہنا ہے کہ ’ایسے حملے ان شدت پسند فورمز اور چیٹ رومز کے افراد کو مزید حوصلہ دیتے ہیں اور جہاں عورت کو قتل کرنے کی بات آئے تو وہ اس پر خوشی مناتے ہیں۔‘
اگرچہ ان گروہوں کو بدنامی ملی لیکن یہ اب بھی انٹرنیٹ کی دنیا کے ایک محدود حصے میں موجود ہیں۔
Netflixشدت پسند نظریات کی ترویج
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جہاں کم دورانیے کی ویڈیوز کو ترجیح دی جاتی ہے نے مینوسفیئر کے نظریات کو اینڈریو ٹیٹ جیسے انفلوئنسرز نے عام کرنے میں مدد دی۔ وہ خود کو ’خواتین سے نفرت کرنے والا‘ کہتے ہیں اور انھیں برطانیہ جنسی تشدد کے الزامات کا سامنا ہے۔
مینوسفیئر انفلوئنسرز شدت پسند نظریات شیئر کرتے ہیں اور انسیل اور پک اپ آرٹسٹ کمیونٹیز سے ان نظریات میں متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم اب یہ ان نظریات کو ذاتی بہتری، فٹنس اور مالی تجاویز کے ساتھ جوڑتے ہیں اور ایسے کورسز اور پراڈکٹس بیجتے ہیں جن میں پیچیدہ مسائل کے سادہ حل دیے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر سوگیورا کے مطابق اس طریقے سے انفلوئنسرز نے ان شدت پسند پیغامات کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’مینوسفیئر صرف خواتین کے خلاف نفرت کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اسے اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ آپ کیا ذاتی بہتری کے لیے ہے۔‘
ڈاکٹر سوگیورا کے مطابق یہ نوجوان مردوں کے لیے کمیونٹی کا حصہ بننے کے حوالے سے موجود خلا کو پُر کرتے ہیں جو ایک مردانہ خصوصیات والے مرد کے امیج میں خود کو رکھنے کے حوالے سے دباؤ محسوس کرتے ہیں اور ان کے پاس اپنے اکیلے پن، ڈپریشن اور اینگزائٹی کے بارے میں بات کرنے کے لیے کوئی نہیں ہوتا۔
اڈولیسنس کے لکھاری جیک تھورن نے بی بی سی کے دی ون شو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مردانگی پر بات کرنے والے انفلوئنسرز ان متعدد مسائل کا ایک حصہ ہیں جو اس نوعمر لڑکے کو اس سیریزمیں درپیش ہوتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ایک ایسے سکول کے نظام کے بارے میں بھی ہے جس نے اسے مایوس کیا، اس کے والدین جنھوں نے اس پر نظر نہیں رکھی اور ان نظریات کے بارے میں بھی جو یہ بچہ انٹرنیٹ پر دیکھتا رہا۔ یہ ایک عام خاندان ہے، یہ ایک عام سی دنیا ہے۔ یہ بہت پریشان کن ہے کہ آج کیا کچھ ممکن ہے۔‘
جنوبی کوریا میں ’خوشی کی فیکٹری‘ جہاں آدم بیزار نوجوانوں کے والدین اپنی مرضی سے قید تنہائی کاٹ رہے ہیںنوجوانوں میں تنہائی کا احساس: ’ایک وقت کے بعد فیملی بھی آپ کو نہیں سمجھ پاتی‘بچیوں میں قبل از وقت ماہواری کی وجوہات: ’مجھے 13 سال کی عمر میں ماہواری ہوئی، گمان تھا کہ میری بچی بھی اِسی عمر میں بالغ ہو گی‘’مردانگی کا بحران اور سماجی بانجھ پن‘: مردوں میں بے اولادی کی وجوہات کیا ہیں؟ ’مسئلہ مجھ میں ہو سکتا ہے، یہ سوچا بھی نہ تھا‘: مردوں میں باپ بننے کی صلاحیت میں کمی کیوں ہو رہی ہے؟’قید تنہائی:‘ آدم بیزار نوجوان جو کئی سال اپنے کمرے سے بھی باہر نہیں نکلتے