صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع اَپر چترال کے سیاحتی مقام قاقلشٹ میڈوز کو چاروں طرف سے برف پوش پہاڑوں نے گھیرا ہوا ہے۔ سرسبز میڈوز بہار کی آمد کے ساتھ ہی سیاحوں کو اپنی طرف دعوتِ نظارہ دیتی ہیں مگر عید کے دنوں میں یہاں آنے والوں کے رَش میں اضافہ ہو جاتا ہے۔مختلف علاقوں سے اس عید پر بھی یہاں آئے سیاح ان علاقوں میں کیمپنگ کر کے فطری حسن سے خوب لطف اندوز ہوئے مگر کچھ منچلوں نے ون ویلنگ، کار ریسنگ اور ڈرفٹنگ کر کے اس علاقے کی خوبصورتی کو نقصان پہنچایا۔
عید کے تین دن مسلسل سرسبز گراونڈ پر کار ریسنگ اور ڈرفٹنگ کے مظاہرے کیے گئے جس کی وجہ سے قدرتی گھاس کو نقصان پہنچا۔ کھلے میدان میں کار ریسنگ اور ون ویلنگ کے شور کی وجہ سے دیگر سیاحوں کو پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
قاقلشت میڈوز پر کار ڈرفٹنگ اور ریسنگ کی ویڈیوز کی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز پر خوب تنقید کی گئی جس کے بعد اَپر چترال کی ضلعی انتظامیہ حرکت میں آ گئی اور نہ صرف وہاں پر کھڑی گاڑیوں کو میڈوز سے نکالا بلکہ بیسیوں شہریوں کو جرمانہ بھی کیا۔ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر تورکہو مولکہوہ عیسیٰ محمد نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ڈپٹی کمشنر اَپر چترال کی ہدایت کے مطابق گراونڈ کو خالی کروایا گیا جبکہ ٹریفک پولیس نے ڈرفٹنگ کرنے والے نوجوانوں کو جرمانہ کیا۔‘اُن کا کہنا تھا کہ ’قاقلشٹ میں صرف اُس مقام کو گاڑیوں کے لیے بند کیا گیا ہے جہاں ہر برس فیسٹول کا انعقاد کیا جاتا ہے۔‘’گاڑیوں کے داخلی اور خارجی راستوں کے لیے پوائنٹ بنایا گیا ہے تاکہ کوئی بھی گاڑی میڈوز کی طرف نہ لے جائے۔‘عیسیٰ محمد کا کہنا تھا کہ ’قاقلشٹ میں ایک مہینے کے لیے سیاحوں کی رونق لگتی ہے جس کے باعث یہاں جانے پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ ڈرفٹنگ اور ریسنگ کر کے گراؤنڈ کے قدرتی حسن کو متاثر کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں اور ایسے افراد کے داخلے پر پابندی لگا رہے ہیں۔‘ضلعی انتظامیہ اَپر چترال کے مطابق لیویز اور پولیس کے اہلکار سیاحتی مقام کی سکیورٹی پر تعینات کیے گئے ہیں۔ (فوٹو: ڈی سی اپر چترال)ضلعی انتظامیہ اَپر چترال کے مطابق لیویز اور پولیس کے اہلکار سیاحتی مقام کی سکیورٹی پر تعینات کیے گئے ہیں جو سیاحوں کو گرائونڈ ایریا میں گھومنے پھرنے اور ہریالی کو نقصان پہنچانے سے روک رہے ہیں۔لیویز فورس کے صوبیدار عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ ’قاقلشٹ کی خوبصورتی ایک ماہ کے لیے ہے یہاں کے حسن اور صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔ ہم نے اگر اس کی حفاظت نہ کی تو آلودگی اور گندگی کی وجہ سے یہاں کی خوبصورتی ماند پڑ سکتی ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’بارش سے بنے تالاب میں گاڑی چلا کر پانی کو گدلا کر دیا گیا ہے جبکہ گھاس کے اوپر ڈرائیونگ کرکے ہریالی کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔‘مقامی شہری نجیب اللہ نے ضلعی انتظامیہ کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’قاقلشٹ ضلع کا وہ واحد سپاٹ ہے جہاں سیاح کیمپنگ کے لیے آتے ہیں۔ یہ مقام بلندی پر ہونے کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے، اس علاقے میں دور دور تک آبادی نہیں اس لیے خاموشی یہاں کے حسن میں مزید اضافہ کر دیتی ہے۔‘واضح ریے کہ ہر برس اپریل میں قاقلشٹ کے مقام پر تین روزہ فیسٹول منعقد کیا جاتا ہے جس میں روایتی کھیلوں پولو، بزکشی، فٹ بال، کرکٹ، والی بال سمیت دیگر کھیلوں کے مقابلے ہوتے ہیں۔ محکمہ سیاحت کی جانب سے منعقدہ فیسٹول کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد یہاں کا رُخ کرتی ہے۔