“میں نے دیکھا ہے کہ ماہرہ خان ہمیشہ اسکرین پر بالکل فلیٹ نظر آتی ہیں۔ یہ ان کی خوش قسمتی ہے جس نے انہیں اتنی شہرت اور اسٹارڈم دیا۔ فلم لَو گرو میں بھی ان کی پرفارمنس بالکل فلیٹ تھی۔ اسی طرح دی لیجنڈ آف مولا جٹ میں وہ صحیح پنجابی بھی نہیں بول سکیں۔ وہ ہر بار اسکرین پر یہی کرتی ہیں۔ اس بار بھی کوئی خاص اثر نہیں چھوڑا۔”
“اس کے علاوہ میں نے نوٹ کیا کہ فلم میں ماہرہ خان کا وزن بار بار بدلتا رہا۔ کچھ سینز میں وہ موٹی دکھائی دے رہی تھیں اور کچھ میں بہت دُبلی پتلی۔ انہیں اپنی ڈائیٹ کا خیال بالکل نہیں ہے جیسے عائشہ عمر یا عشنا شاہ رکھتی ہیں۔ اصل رول ماڈلز تو وہی ہیں جو اپنی فٹنس کو مسلسل برقرار رکھتے ہیں۔”
پاکستانی فلم انڈسٹری کی سب سے بڑی سپر اسٹار ماہرہ خان، جنہوں نے لَو گرو جیسی بلاک بسٹر فلم دے کر ایک بار پھر باکس آفس پر تاریخ رقم کی ہے، اس وقت شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ اگرچہ فلم نے شاندار ریکارڈ قائم کیے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ماہرہ خان اپنی کردار نگاری سے ہر کسی کو متاثر نہیں کر سکیں۔
اداکارہ اور تجزیہ کار نازیہ ملک نے کھل کر ماہرہ خان کی اداکاری پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق ماہرہ خان کا اسٹارڈم صرف قسمت کی دین ہے، ورنہ ان کی اسکرین پر پرفارمنس ہمیشہ کمزور رہتی ہے۔ لَو گرو میں بھی ان کے انداز میں جان نہیں تھی اور دی لیجنڈ آف مولا جٹ میں پنجابی بولنے کی کوشش بھی غیر فطری محسوس ہوئی۔
نازیہ ملک نے ماہرہ خان کے فٹنس مسائل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک بڑی اداکارہ کے لیے وزن میں اتنا فرق ہونا غیر پیشہ ورانہ رویہ ہے۔ انہوں نے عائشہ عمر اور اُشنا شاہ کو بطور مثال پیش کیا جو اپنی ڈائیٹ اور جسمانی توازن پر مکمل قابو رکھتی ہیں۔
یہ بیانات سامنے آتے ہی مداحوں کے درمیان ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ لوگ ماہرہ خان کے عالمی کامیابیوں کا حوالہ دے کر انہیں سپورٹ کر رہے ہیں، تو کچھ نازیہ ملک کی باتوں سے اتفاق کرتے ہیں کہ ماہرہ خان کو اب اپنی اداکاری اور فٹنس پر زیادہ محنت کرنی چاہیے۔