لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کا مبینہ اغوا: ’ائیرپورٹ لے جاتے گاڑی ٹکرائی تو ہم نے چھلانگ لگا دی اور مدد کے لیے چیخنا شروع کر دیا‘ خاتون کا مجسٹریٹ کے سامنے بیان

بی بی سی اردو  |  Jul 04, 2026

Getty Images

جمعے کے روز لاہور کی کینٹ کچہری میں دو غیر ملکی خواتین کو مبینہ طور پر اغوا کرنے والے چاروں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود نے پولیس کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

پولیس نے عدالت سے ملزمان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے انھیں پانچ روز کے لیے پولیس کی تحویل میں دے دیا۔ فیصلے کے بعد پولیس ملزمان کو اپنے ساتھ لے کر روانہ ہو گئی۔

یہ مقدمہ تھانہ ڈیفنس سی پولیس نے درج کر رکھا ہے اور پولیس نے جمعرات کے روز ان خواتین کو بازیاب کروا کر چار ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔

اس مقدمے میں شامل تفتیشی ٹیم کے ایک پولیس اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی نیوز اردو کے ساتھ متاثرہ خاتون کا مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرایا گیا بیان شئیر کیا ہے۔

بیان کے مطابق متاثرہ خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ سنگاپور میں ایک کرپٹو کرنسی ایونٹ کے دوران لاہور کے ایک شخص سے ان کی ملاقات ہوئی۔

ان کا الزام ہے کہ مذکورہ شخص پاکستان کی اہم سیاسی شخصیات سے تعلق کے بھی دعویدار تھے جس کی وجہ سے انھوں نے ان پر اعتماد کیا اور ان کے لیے پوری محنت سے کام کیا۔

متاثرہ خاتون نے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ اس دوران وہاں موجود کچھ مسلح افراد نے انھیں کانچ دکھا کر ٹکڑے کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ ان کا الزام ہے کہ لاہور کے اس مذکورہ شخص نے ان کے نمبر سے ان کے تمام کانٹیکٹس کو رقم کے مطالبے کے پیغامات بھیجے، تاہم کسی نے جواب نہیں دیا۔

خاتون کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں ان کی والدہ نے ایک لاکھ ڈالر کا انتظام کر لیا۔ ان کے بیان کے مطابق آخری دن مذکورہ شخص نے کہا کہ ’تمام رقم حاصل ہو چکی ہے، اب تم آزاد ہو‘۔

خاتون کے مطابق مذکورہ شخص انھیں اور دوسری غیر خاتون کو کار میں بٹھا کر گھر سے باہر لے گئے اور راستے میں ان کے پاسپورٹس بھی واپس کر دیے۔ ان کے مطابق وہ انھیں ائرپورٹ لے جا رہے تھے اور مسلسل کسی سے فون پر رابطے میں تھے۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دوسری جانب سے مذکورہ شخص کو بتایا جا رہا تھا کہ ’باس کی ہدایات کچھ اور ہیں‘۔ اسی دوران گاڑی ایک اور گاڑی سے ٹکرا گئی، جس کے بعد دونوں خواتین نے موقع دیکھ کر گاڑی سے چھلانگ لگا دی اور مدد کے لیے چیخنا شروع کر دیا۔

خاتون کے مطابق وہاں موجود افراد نے ٹریفک پولیس اہلکار کو اطلاع دی، جس کے بعد پولیس اہلکار انھیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔ تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ راستے میں پولیس نے کہا کہ گاڑی خراب ہو گئی ہے۔

خاتون کے مطابق بعد میں وہ اور ان کی ساتھی دوسری خاتون گاڑی سے نکل کر فرار ہو گئیں۔ اسی دوران ایک اور پولیس گاڑی موقع پر پہنچی جس میں ایک خاتون اہلکار بھی موجود تھیں۔

خاتون کے مطابق اصل پولیس کی آمد کے بعد انھیں محفوظ ہونے کا احساس ہوا۔

لاہور پولیس نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا ہے کہ لڑکیوں کے اغوا کی اطلاع ایک لڑکی کے والد نے فون کر کے دی تھی اور بتایا تھا کہ ان سے 15 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

چار ملزمان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور ہو چکا ہے اور لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا تھا دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

مبینہ اغوا کا واقعہ 29 جون کو پیش آیا تھا، جبکہ پولیس کو اس واقعے کی اطلاع دو جولائی کو ملی، جس کے بعد تفتیش کاروں نے ہالینڈ اور سپین سے تعلق رکھنے والی خواتین کو بازیاب کروایا۔

ایف آئی آر میں کیا لکھا ہے؟

واقعے کا مقدمہ بازیاب ہونے والی ہالینڈ کی ایک خاتون کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے اور اس کے مطابق مبینہ اغوا کا واقعہ 29 جون کو پیش آیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ان کی ملاقات سنگاپور میں لاہور کے ایک شخص سے ہوئی تھی، جس نے نہ صرف دونوں خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دی بلکہ ان کے ویزے بھی جاری کروائے۔

ایف آئی آر کے مطابق 29 جون کو انھیں اس شخص، اس کے باس اور دیگر تین افراد نے اغوا کیا۔

درخواست گزار کے مطابق اغواکار’بہت جارحانہ‘ برتاؤ کر رہے تھے اور اس دوران انھیں پاکستان بُلانے والا شخص بھی متاثرہ شخص ہونے کا ڈرامہ کر رہا تھا۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس دوران انھیں ’آزاد‘ کرنے کے لیے ان سے تاوان کا مطالبہ کیا گیا اور ان کی ساتھی کا متعدد بار ریپ کیا گیا اور ان کا ریپ کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔

اس ایف آئی آر کا بڑا حصہ انگریزی زبان میں متاثرہ خاتون کے بیان کے مطابق لکھا گیا ہے۔

پولیس نے خواتین کو کیسے بازیاب کروایا؟

ڈی ائی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بازیاب ہونے والی ایک لڑکی کے والد نے سپین سے پولیس کی ہیلپ لائن ون فائیو پر کال کی تھی، جس میں انھوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی دو دن سے پاکستان آئی ہوئی ہے اور آخری مرتبہ جب ان کی اپنی بیٹی سے بات ہوئی تھی تو انھوں نے بتایا کہ اسے ایف آئی آر میں نامزد ملزمان نے اغوا کرلیا ہے اورپندرہ لاکھ ڈالر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سینیئر پولیس افسر کے مطابق جب کوئی ایسی کال بیرون ملک سے آتی ہے تو اس کی اطلاع اعلیٰ افسران اور چیف منسٹر ہاؤس کو دی جاتی ہے۔

’جیسے ہی یہ کال موصول ہوئی تو وزیر اعلیٰ کی کال آئی اور انھوں نے کہاکہ ’دو گھنٹے کے اندر اندر یہ لڑکیاں بازیاب کروائیں اور ان ملزمان کو گرفتار کریں۔‘

ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق سپین سے آنے والی کال میں یہ بھی بتایا گیا کہ لڑکی نے والد سے گفتگو کے دوران اس گاڑی کا نمبر بھی بتایا تھا، جس میں ملزمان انھیں سوار کرکے لے جا رہے تھے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ’یہ خواتین اپنی مرضی سے پاکستان آئیں تھیں اور اپنے کہیں بھی آنے جانے کی اطلاع اور تصاویر اپنے گھر والوں سے شئیر کر رہی تھیں۔‘

’ہم نے ان لڑکیوں کے گھر والوں سے فوراً تمام تصاوپر منگوائیں، جس میں اس گاڑی کی تصویر بھی شامل تھی جس پر وہ ان لڑکوں (مبینہ ملزمان) کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔ ہم نے اس گاڑی کی نمبر پلیٹ سے فوری سارا ڈیٹا نکال لیا اور اس کی ٹریسنگ شروع کر دی۔‘

ڈی آئی جی فیصل کامران کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ہی انھیں معلوم ہوا کہ یہ ’گاڑی کب شاہدرہ سےگزری، کب سرگودھا پہنچی، کب اسلام آباد گئی، وہاں کہاں کہاں رکی۔‘

’اس طرح ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم لاہور کے ڈیفینس کے علاقے تک جا پہنچے، جہاں ہم نے چھاپہ مارا اور ان لڑکیوں کو بازیاب کروایا۔‘

’ہم نے لڑکیوں کو بازیاب کروایا اور پکڑے جانے والے ملزمان کی مدد سے دیگر ملزمان کو پکڑا۔‘

Getty Images

سینیئر پولیس افسر کے مطابق ’ابتدائی تفتیش میں لڑکیوں نے پولیس کو بتایا کہ ان کے ساتھ ریپ بھی کیا گیا ہے۔‘

فیصل کامران کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کا میڈیکل معائنہ بھی کروالیا گیا ہے اور جلد ہی اس کی رپورٹ بھی مل جائے گی۔

مقامی پولیس کے مطابق اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے چار ملزمان کو کل متعلقہ عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ بازیاب ہونے والی ان غیر ملکیوں لڑکیوں کے سفارت خانوں سے رابطہ کیا گیا ہے اور انھیں جلد ہی ان کے ممالک واپس بھیج دیا جائے گا۔

معاملہ ہے کیا؟

لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق یہ سارا معاملہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے وعدے سے شروع ہوا تھا۔

ان کے مطابق یہ معاملہ پاکستان کے باہر سے شروع ہوا جب یہ دونوں غیر ملکی خواتین مرکزی ملزم سے سنگاپور میں کاروبار کے سلسلے میں ملیں۔ وہاں ان دونوں پارٹیوں کے درمیان کرپٹو میں سرمایہ کاری کے لیے بات چیت ہوئی۔

’مرکزی ملزم اور اس کے دوست نے مل کر ڈالرز میں لڑکیوں کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کی اور ان کے درمیان یہ طے پایا کہ اس سرمایہ کاری سے آنے والا منافع آپس میں تقسیم ہوگا، جس کے بعد یہ لڑکے پاکستان آگئے۔‘

تاہم فیصل کامران کے مطابق ان خواتین نے ملزمان کو منافع کی رقم نہیں دی اور ان کے ’فون کالز اور مسیجز کا جواب دینا بند کر دیا۔‘

سینیئر پولیس افسر کہتے ہیں کہ یہ خواتین مبینہ طور پر مزید سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت کرنے پاکستان آئی تھیں اور انھیں تین جولائی کو پاکستان سے واپس جانا تھا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’دو تین دن یہ خواتین اور ملزمان مختلف شہروں میں گھوتے پھرتے رہے۔ جس میں لاہور، اسلام آباد اور مری بھی شامل ہیں۔ وہاں انھوں نے مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کی کھانے وغیرہ کھائے۔‘

’ان خواتین کی واپسی تین جولائی کو تھی، اس لیے یہ لاہور واپس آگئیں۔ جیسے ہی یہ واپس لاہور پہنچیں تو ان میں سے ایک ملزم نے کہا ’میں تو اپنے پیسے واپس لیے بغیر ان لڑکیوں کو پاکستان سے نہیں جانے دوں گا۔‘

’جس کے بعد اس نے اپنے دوست کی مدد سے کرائے پر گھر لیا اور اس کے دوست نے دو غنڈے بلا کر لڑکیوں کو اغوا کروایا اور پھر ان کے باپ کو کال کرکے اغوا برائے تاوان کے لیے پیسے مانگے۔‘

ڈی آئی جی فیصل کامرن کہتے ہیں کہ ’بےشک یہ لین دین کا معاملہ ہو لیکن پیسوں کی واپسی کے لئے کسی کو اغوا تو نہیں کیا جا سکتا۔‘

’ایک وعدہ‘ اور ڈیلیٹ شدہ میسج: اپنی ہی نومولود بیٹی کو اغوا کرنے کے الزام میں گرفتار والد پر پولیس کو کیوں شک ہوا؟اسلام آباد میں پراپرٹی ڈیلر کے اغوا اور قتل کے بعد پولیس ملزمان تک کیسے پہنچی؟یوٹیوبر کے والد کا اغوا اور ’تاوان کی رقم کے ساتھ فرار‘ ہوتے ملزمان کی ہلاکت کا تنازع: پولیس ملزمان تک پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟22 کروڑ روپے کا قرض اور دوست کی مدد سے اغوا برائے تاوان کا ’ڈرامہ‘ جس کی ویڈیو کراچی کے ساحل پر بنی’زبردستی ویڈیو بیان ریکارڈ کرایا گیا‘: خضدار سے اغوا ہونے والی آسمہ بی بی کو پولیس نے کیسے بازیاب کروایا؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More