Getty Images
ہر سال کی طرح اس سال بھی ماہ رمضان میں دستر خوان رنگ رنگ کے کھانوں سے سجے رہے، کسی نے پکوڑے سموسے کھائے تو کہیں سے افطاری میں دہی بھلے اور فروٹ چاٹ کی تصاویر آئیں۔
لندن میں بی بی سی ارود کی ٹیم میں ہمارے زیادہ تر ساتھیوں کا تعلق یا تو پاکستان سے ہے یا پھر انڈیا سے اور ان دونوں ملکوں میں ہی پکوڑوں کے بغیر افطار کا تصور ہی نہیں۔
لیکن میرا تعلق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے ہے اور ہمارے ہاں روایتی طور پر پکوڑوں سموسوں کا کوئی کلچر نہیں۔
جہاں میرے پاکستانی اور انڈین ساتھی پکوڑوں کے بغیر رمضان کا تصور نہیں کر سکتے وہیں شربت کے بغیر میرے لیے افطار کا تصور کرنا مشکل ہے۔
اس شربت کا نام ’ببرِ بیول‘ ہے۔ کشمیری زبان میں ’ببرِ بیول‘ تخم ملنگے کو کہتے ہیں۔ انھیں پانی میں بھگویا جاتا ہے۔ پھر ان میں دودھ اور چینی ملا کرشربت تیار کیا جاتا ہے۔
خیر میں نے سوچا کہ جیسے پاکستان، انڈیا اور کشمیر میں رمضان سے جڑے خاص پکوان یا مشروب ہیں، تو ایسے ہی دنیا بھر میں جہاں جہاں مسلمان ہیں، وہاں ان کی اپنی ثقافت اور روایات کے مطابق مخصوص پکوان ہوں گے، جو ماہ رمضان سے جڑے ہیں۔
تو کیوں نہ ایسی ثقافتوں اور علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں سے بات کی جائے اور جانا جائے کہ وہ رمضان میں کیا کھاتے ہیں۔
میں نے اس سلسلے میں برطانوی، برازیلین، جاپانی اور سنیگلیز مسلمانوں سے بات کی اور ان سے یہی سوال پوچھا کہ ان کے لیے وہ کون سا پکوان ہے کہ جس کے بغیر رمضان ادھورا سا لگتا ہے۔
برطانیہ میں فش اینڈ چپس
کرِسٹوفر اور بین برطانیہ میں رہنے والے دو سفید فام برطانوی مسلمان ہیں۔ کرِسٹوفر نے 2010 میں اور بین نے 2019 میں اسلام قبول کیا۔
دونوں دوست ہیں اور اسلام وفوبیا کے خلاف اور برادریوں میں امن اور تعاون بڑھانے کی غرض سے سوشل میڈیا پر ویڈیوز بناتے ہیں۔ میں نے دونوں کی ویڈیوز انسٹاگرام پر دیکھی تھیں اور پھر انسٹاگرام پر ہی ان سے رابطہ کیا۔
کرِسٹوفر اور بین نے ہمارے لیے کچھ بنایا تو نہیں لیکن ہاں ایک بہت ہی برطانوی حرکت ضرور کی۔ انھوں نے افطار کے لیے فِش اینڈ چِپس منگوائے۔
ان دونوں نے بتایا کہ ’یہ جمعے کے روز ہماری ایک روایت ہے، ہم ہمیشہ فِش اینڈ چِپس نہیں کھاتے۔ کبھی چکن، گوشت اور سبزیاں، کوٹیج پائی وغیرہ بھی کھا لیتے ہیں یا پھلیاں بھی۔‘
کرِسٹوفر نے مزید بتایا کہ ’ہم ہر طرح کی چیزیں کھاتے ہیں لیکن یہاں برطانیہ میں ہمارے لیے افطاری کے لیے فِش اینڈ چِپس ایک خصوصی ٹریٹ ہوتی ہے۔ کئی بار ہم ساتھ مل کر افطار کرتے ہیں، کبھی الگ الگ لیکن بات برادری کے تعلق کی ہوتی ہے۔‘
رمضان میں کیا کھائیں اور کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے؟رمضان میں افطار دسترخوان کی شان سمجھے جانے والے پکوڑے کیا برصغیر سے مشہور ہوئے؟رمضان میں خود کو مذہبی، جسمانی اور مالی طور پر کیسے منظم کیا جائے؟رمضان کے دوران آپ اپنی صحت کا خیال کیسے رکھ سکتے ہیں؟برازیل کی ’آسان اور جلدی بن جانے والی ڈش‘
مریم پیشے سے ماہر غذائیت ہیں۔ ان کے مطابق انھیں اس شعبے میں کبھی نوکری نہیں ملی اور اب وہ سوشل میڈیا پر ویڈیوز بناتی ہیں۔ مریم شامی کا شمار شمالی امریکہ کی سب سے مقبول خاتون مسلمان انفلوئینسرز میں کیا جاتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’برازیل میں بہت سے مسلمان ہیں لیکن عرب ممالک یا یورپ کی طرح بہت زیادہ نہیں مگر ہماری تعداد بڑھ رہی ہے۔ میں برازیل میں پیدا ہوئی، میرے والد لبنانی تھے اور میری والدہ برازیلین ہیں۔‘
مریم کے مطابق انھیں رمضان میں سب سے زیادہ جو چیز پسند ہے وہ خاندانوں کا ایک ہونا اور افطار کی محفلیں ہیں۔
مریم نے افطار کے لیے ’پودیم دی لیٹے کونڈینسادو‘ (انگریزی میں کنڈینسڈ ملک فلان) بنایا۔
مریم نے بتایا کہ ’ایسے کئی پکوان ہیں جن کے بغیر میں رمضان کا تصور بھی نہیں کر سکتی، جیسے سوپ، فتّہ، قطائف اور کھجور۔ ان میں سے زیادہ تر عربی پکوان ہیں لیکن ایک برازیلی ڈِش بھی ہے جو ہر افطار میں شامل ہوتا ہے اور وہ ’پودیم دی لیٹے کونڈینسادو‘ ہے۔ یہ بہت ہی لذیذ ڈِش ہے اور ہر برازیلی اسے پسند کرتا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’یہ بہت آسان اور جلدی بننے والی ڈش ہے اور رمضان میں ہمیں بالکل اسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ سارا دن کچن میں نہ گزارنا پڑے۔‘
جاپان کا میسو سوپ
نور اریسہ مریم کا تعلق جاپان کے شہر ٹوکیو سے ہے۔ اپنی یونیورسٹی کے زمانے میں ان کی ملاقات ایک مسلمان ٹیچر سے ہوئی، جن سے وہ بہت متاثر ہوئیں۔ پھر ان کی یونیورسٹی میں کچھ مسلمان طالب علموں سے دوستی ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے کچھ دیر تک اسلام پر تحقیق کی اور سنہ 2015 میں اسلام قبول کر لیا۔
اس سے پہلے وہ شِنٹو دھرم سے منسلک تھیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ ان کا رمضان کا پہلا تجربہ اسلام قبول کرنے سے پہلے تھا۔ ’میں اپنے مسلمان دوستوں کے ساتھ مسجد گئی۔ مجھے تجسس ہوا اور میں نے روزہ رکھنے کی کوشش کی مگر میں صرف آدھا ہی دن گزار سکی۔ تب مجھے لگا کہ روزہ رکھنا بہت ہی مشکل اور تھکا دینے والا کام ہے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد مجھے کبھی ایسا نہیں لگا۔‘
اریسا نے افطار کے لیے جاپانی میسو سوپ تیار کیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ایک جاپانی ہونے کے ناطے میں یہ کہوں گی کہ رمضان میں میسو سوپ نہایت ہی ضروری پکوان ہے۔‘
’میں صحت افزا کھانوں کو ترجیح دیتی ہوں اور رمضان میں اس کا خاص خیال رکھتی ہوں۔ روزوں میں ہم پانی نہیں پیتے تو پانی کی کمی مسئلہ بن سکتا ہے اور روزہ رکھنے سے جسم کا درجہ حرارت بھی کم ہو سکتا ہے تو میسو سوپ کا ایک گرما گرم پیالہ ان دونوں مسئلوں کو حل کرتا ہے۔‘
سینیگال کی پڈنگ
امدو ایک پروفیشنل فُٹ بالر ہیں اور برطانیہ میں لیگ کے ساتھ ساتھ سینیگال کی قومی فُٹ بال ٹیم کے لیے بھی کھیل چکے ہیں۔
ان کی والدہ کا تعلق سینیگال سے اور ان کے والد کا تعلق آئیوری کوسٹ سے ہے۔ امدو کی پیدائش اور پرورش لندن میں ہوئی لیکن تین سے دس سال کی عمر تک وہ سینیگال میں اپنی نانی کے پاس تھے۔
امدو نے افطار میں چھیکری (ایک قسم کی پڈنگ) بنائی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ رمضان کی ان کی سب سے اچھی یاد تب کی ہے جب ان کی روزہ رکھنے کی عمر نہیں تھی۔
’میں سب بڑوں کو مل کر چھیکری کھاتے دیکھتا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ میں بھی روزہ رکھوں تاکہ میں بھی خاندان والوں اور اپنوں کے ساتھ وہ قربت محسوس کروں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہم اس وقت لندن میں ہیں لیکن چھیکری کا پہلا نوالہ مجھے گھر واپس لے جاتا ہے، اپنی نانی کے ساتھ اس گھر میں رشتہ داروں کے ساتھ فرش پر بیٹھے، روزہ افطار کرتے ہوئے۔اور وہ احساس کبھی ختم نہیں ہو گا۔‘
رمضان میں خود کو مذہبی، جسمانی اور مالی طور پر کیسے منظم کیا جائے؟رمضان میں اپنی جِلد کی حفاظت کیسے کی جائے؟رمضان میں کیا کھائیں اور کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے؟رمضان کے دوران آپ اپنی صحت کا خیال کیسے رکھ سکتے ہیں؟رمضان میں افطار دسترخوان کی شان سمجھے جانے والے پکوڑے کیا برصغیر سے مشہور ہوئے؟رمضان میں روزے کے ساتھ ورزش کیسے کی جا سکتی ہے؟