Getty Imagesاندرا گاندھی اور فیروز گاندھی کی شادی کی تصویر
جواہر لعل نہرو کا خیال تھا کہ فیروز ان کی بیٹی اندرا کے لیے موزوں دولھا نہیں تھے۔ فیروز نہ ہندو تھے اور نہ کشمیری، لیکن اس سے نہرو کو کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ ان کی اپنی بہنوں وجے لکشمی اور کرشنا کے شوہر بھی کشمیری نہیں تھے۔
نہرو نے اپنی بہنوں کی شادی کی بالکل بھی مخالفت نہیں کی کیونکہ دونوں بہنوں کے شوہر آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ تھے اور وہ اشرافیہ، امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ رنجیت پنڈت بیرسٹر تھے اور سنسکرت کے بہت بڑے سکالر بھی تھے۔
دوسری طرف فیروز گاندھی بہت سادہ پس منظر سے آئے تھے۔ ان کے پاس نہ تو یونیورسٹی کی ڈگری تھی، نہ نوکری اور نہ ہی باقاعدہ آمدنی کا کوئی ذریعہ۔
کیتھرین فرینک اندرا گاندھی کی سوانح عمری 'اندرا، دی لائف آف اندرا نہرو گاندھی' میں لکھتی ہیں: 'فیروز اونچی آواز میں بولنے والے، گالیاں دینے والے منھ پھٹ شخص تھے۔ ان کے برعکس نہرو بہت مہذب، باادب اور ناپ تول کر بولنے ولاے شخص تھے۔'
کیتھرین نے لکھا: دوسرے والد کی طرح نہرو بھی اپنی بیٹی کو کھونا نہیں چاہتے تھے۔ ساتھ ہی اندرا کی خراب صحت کا مسئلہ بھی تھا۔ ان کی اہلیہ کملا نہرو نے بھی بستر مرگ پر اندرا اور فیروز کی شادی پر گہری توشویش کا اظہار کیا تھا۔ کملا کی نظر میں فیروز ایک غیر مستحکم اور قابل اعتماد شخص نہیں تھے۔
Getty Imagesوجے لکشمی پنڈت اور اندرا گاندھی نوعمری میںپھوپھیوں کا شدید اعتراض
جب اندرا نے فیروز سے شادی کرنے کی اپنی خواہش کا اظہار اپنی پھوپھی کرشنا سے کیا تو انھوں نے انھیں تھوڑا انتظار کرنے اور کچھ اور لڑکوں سے ملنے کا مشورہ دیا۔
کرشنا ہٹھی سنگھ اپنی کتاب 'وی نہروز' میں لکھتی ہیں: 'اس بات پر اندرا تنک کر بولیں، 'کیوں؟ آپ نے تو راجہ بھائی سے دس دن کے اندر شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ میں فیروز کو برسوں سے جانتی ہوں، میں مزید کیوں انتظار کروں اور دوسرے لڑکوں سے کیوں ملوں؟'
جب اندرا نے اپنی دوسری پھوپھی وجے لکشمی سے اس بارے میں بات کی تو ان کا رویہ بھی اس کے حق میں نہیں تھا۔
پوپل جیکر اندرا کی سوانح عمری میں لکھتی ہیں: 'نان (وجئے لکشمی) نے منھ پھٹانداز میں کہا کہ فیروز کے ساتھ محبت کا رشتہ بناؤ لیکن اس سے شادی کے بارے میں نہ سوچو۔ اندرا نے اس مشورے کو بہت بری طرح لیا، انھیں لگا کہ یہ ان کی اور فیروز کی توہین ہے۔'
نہرو خاندان کے اندر یہ بحث ابھی جاری ہی تھی کہ الہ آباد کے اخبار 'دی لیڈر' نے اپنے صفحہ اول پر 'مس اندرا نہرو کی منگنی' کی خبر شائع کر دی۔ جب لیڈر نے یہ خبر بریک کی تو نہرو کلکتے میں تھے۔ واپس آنے کے بعد انھوں نے ایک بیان جاری کیا جو 'بابمبے کرانیکل' اور دیگر اخبارات میں شائع ہوا۔
نہرو نے اپنے بیان میں کہا: 'میں اندرا اور فیروز کی شادی کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں کی تصدیق کرتا ہوں۔ میرا ہمیشہ سے یہ ماننا ہے کہ شادی کے حوالے سے والدین ہی مشورہ دے سکتے ہیں لیکن حتمی فیصلہ لڑکے اور لڑکی کو کرنا ہوتا ہے۔'
انھوں نے مزید کہا 'جب مجھے اندرا اور فیروز کے اس فیصلے کا علم ہوا تو میں نے اسے دل سے قبول کیا۔ مہاتما گاندھی نے بھی انھیں اپنا آشیرواد دیا ہے۔ فیروز گاندھی ایک نوجوان پارسی ہیں جو سالوں سے ہمارے خاندان کے دوست اور ساتھی رہے ہیں۔'
شادی رام نوامی کے دن ہوئی
مہاتما گاندھی نے اپنے اخبار 'ہریجن' میں ایک مضمون لکھ کر اس شادی کی حمایت کی تھی۔ لیکن گاندھی کی حمایت کے باوجود اس شادی کے متعلق لوگوں کا غصہ کم نہیں ہوا۔
کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ شادی ہندوستان کی صدیوں پرانی روایت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اول یہ کہ یہ شادی والدین کی طرف سے نہیں کی گئی تھی اور دوسری یہ کہ دونوں نے اپنے مذہب سے ہٹ کر شادی کی تھی۔
احتجاج کے طور پر الہ آباد کے آنند بھون (نہرو کا گھر) میں ٹیلی گرام کا سیلاب آگیا۔ کچھ مبارک بادوں کے ٹیلی گرام بھی آئے۔ اس شادی کا پریس میں ہر جگہ چرچا ہوا۔
کئی سال بعد اندرا گاندھی نے آرنلڈ مائیکلز کے ساتھ ایک انٹرویو میں یاد کرتے ہوئے کہا کہ 'ایسا لگتا تھا کہ پورا انڈیا ہماری شادی کے خلاف تھا۔'
پنڈتوں سے صلاح مشورے کے بعد شادی کے لیے 26 مارچ کا انتخاب کیا گیا۔ یہ ایک اچھا دن تھا کیونکہ یہ رام نومی کا دن تھا۔
کرشنا ہٹھی سنگھ لکھتی ہیں: 'ٹھیک نو بجے دلہن اپنے کمرے سے باہر آئی۔ اس نے اپنے والد کے ہاتھوں چرخے پر جیل میں کاتی ہوئی گلابی رنگ کی ساڑھی پہن رکھی تھی۔ اس کی کناریوں پر روپہلے رنگ کی کڑھائی کی گئی تھی۔ اندرا نے پھولوں کا ہار اور کانچ کی چوڑیا پہن رکھی تھیں۔ وہ پہلے کبھی انتی خوبصورت نظر نہیں آئی تھیں۔ ان کا چہرہ ایسا لگ رہا تھا جیسے یونانی سکوں پر بنی خوبصورت تصویر۔'
فیروز نے روایتی سفید کھادی کی شیروانی اور چوڑی دار پائجامہ پہن رکھا تھا۔
ہندو رسومات کے مطابق شادی
شادی کی تقریب آنند بھون کے باہر باغ میں بنائے گئے ایک منڈپ (شامیانے) تلے ہو رہی تھی۔ اندرا اور فیروز آگ کے سامنے ایک چبوترے پر بیٹھے تھے۔ نہرو کے ساتھ ایک نشست تھی جو ان کی بیوی کملا نہرو کی یاد میں خالی رکھی گئی تھی۔
مدعو مہمان برآمدے میں کرسیوں اور قالینوں پر بیٹھے تھے۔ آنند بھون کے باہر ہزاروں بن بلائے لوگوں کا ہجوم یہ منظر دیکھ رہا تھا۔
امریکی فیشن میگزین کے فوٹوگرافر نورون ہین بھی اس ہجوم میں شامل تھے۔ وہ اس وقت مقامی ایونگ کرسچن کالج میں پڑھا رہے تھے اور اپنے 8 ایم ایم مووی کیمرے سے اس منظر کو فلمانے کی کوشش کر رہے تھے۔
کیتھرین فرینک لکھتی ہیں: 'اندرا اور فیروز کی شادی نہ تو روایتی تھی اور نہ ہی قانونی۔ اس وقت کے برطانوی قانون کے مطابق دو مختلف مذاہب کے لوگ صرف اسی صورت میں شادی کر سکتے ہیں جب وہ اپنا مذہب ترک کر دیں۔ سات سال قبل اندرا کے کزن بی کے نہرو نے بھی تقریباً اسی طریقے سے ہنگری کی ایک یہودی لڑکی فاری سے شادی کی تھی۔'
بی کے نہرو کی شادی کے وقت بھی مہاتما گاندھی سے مشورہ کیا گیا تھا۔ ان کے مشورے پر دونوں کی شادی ہندو رسم و رواج کے مطابق ہوئی لیکن اس شادی کو نہ تو ہندو قانون نے تسلیم کیا اور نہ ہی برطانوی قانون نے۔
برسوں بعد جب اندرا کی ایک اور سوانح نگار اوما واسودیو نے اندرا گاندھی سے اس بارے میں سوال کیا تو ان کا جواب تھا: 'مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ شادی قانونی تھی یا غیر قانونی۔'
جب اندرا گاندھی کے گھر حاضری نہ دینے پر انڈین وزیراعظم کو گھر جانا پڑااندرا گاندھی کو ’بدصورت اور احمق‘ کہنے والی پھوپھی وجے لکشمی پنڈت جن کی ان سے کبھی بنی ہی نہیںکیا پریانکا گاندھی کا انتخابی سیاست میں اترنا وزیر اعظم نریندر مودی کی مشکلات مزید بڑھا دے گا؟’دلوں پر راج کرنے والے بادشاہ‘ نہرو جن کے درزی نے کراچی میں اپنی دکان کا نام ’وزیر اعظم کا درزی رکھا‘Getty Imagesاندرا گاندھی بعد میں انڈیا کی وزیر اعظم بنیںفیروز نے مقدس پارسی دھاگہ پہنا
شادی کی پوری تقریب دو گھنٹے تک جاری رہی۔ اس دوران شادی کرانے والا پنڈت چاندی کے چمچے سے آگ میں دیسی گھی ڈالتا رہا۔ سب سے پہلے اندرا برآمدے میں جواہر لال نہرو کے پاس بیٹھیں۔ پھر وہ دوسری طرف گئیں اور فیروز گاندھی کے پاس بیٹھ گئیں۔
فیروز نے اندرا کو کچھ کپڑے تحفے میں دیے۔ اندرا نے اپنے ہاتھوں سے فیروز کو کچھ کھلایا۔
اندرا کی بھتیجی نینتارا سہگل اپنی کتاب 'پریزن اینڈ چاکلیٹ کیک' میں لکھتی ہیں: 'اس کے بعد دونوں کی کلائیاں پھولوں سے بندھ گئیں، پنڈت نے گھی ڈال کر شعلے کو مزید تیز کر دیا۔ اس کے بعد اندرا اور فیروز نے کھڑے ہو کر اس آگ کے گرد سات چکر لگائے اور وہاں موجود لوگوں نے ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔'
برٹل فالک فیروز گاندھی کی سوانح عمری 'فیروز دی فارگوٹن گاندھی' میں لکھتے ہیں: 'جب فیروز اپنی شادی کے کپڑے پہن رہے تھے، تو رتیمائی گاندھی نے خاص طور پر ان سے کہا کہ وہ اپنی شیروانی کے نیچے پارسی مقدس دھاگہ پہن لیں۔ اس دن فیروز اندرا سے بھی زیادہ گورے لگ رہے تھے۔
شادی کی تقریب میں پارسی برادری کے لوگ بھی شامل ہوئے تھے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو ان کی شادی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ جواہر لال نہرو نے رتیمائی گاندھی سے درخواست کی کہ وہ انھیں ایسا نہ کرنے پر راضی کریں۔
شادی میں شرکت کرنے والوں میں نیشنل ہیرالڈ کے ایڈیٹر راما راؤ بھی شامل تھے۔ انھوں نے ہاتھ میں پنسل اور نوٹ بک لے کر شادی میں شرکت کی تاکہ وہ اپنے اخبار میں اس کی اطلاع دے سکیں۔
شادی میں کانگریس کے کئی سینیئر لیڈروں کی شرکت
شام کو آنند بھون کے باغ میں دی گئی ضیافت میں روٹی اور ہری سبزیوں کا سادہ کھانا پیش کیا گیا۔ شادی میں شرکت کرنے والوں میں سروجنی نائیڈو، ان کی بیٹی پدمجا نائیڈو اور معروف سائنسدان میری کیوری کی بیٹی حوا کیوری شامل تھیں۔
پوپل جےکر لکھتی ہیں: 'عام طور پر ہندوستانی شادیوں میں لڑکیاں گھر سے نکلتے ہوئے روتی ہیں لیکن اندرا گاندھی بالکل نہیں رو رہی تھیں۔ جواہر لعل نہرو کی آنکھیں ضرور نم تھیں۔ اس شادی میں بہت سے اہم لوگ نہیں آسکے تھے۔ مہاتما گاندھی بھی اس شادی میں اس لیے نہیں آسکے تھے کہ وہ 26 مارچ کو برطانیہ سے آنے والے سر سٹیفورڈ کرپس سے ملنے کے لیے دہلی روانہ ہو گئے تھے۔ شادی کے دن سٹیفورڈ تو وہاں نہ پہنچ سکے لیکن بعد میں نوبیاہتا جوڑے کو مبارکباد دینے الہ آباد پہنچے۔'
کانگریس کے اس وقت کے صدر مولانا ابوالکلام آزاد بھی شادی میں شرکت نہیں کر سکے کیونکہ ان کی ٹرین لیٹ ہو گئی تاہم وہ شام کو دی گئی ضیافت میں شریک ہوئے۔
اندرا کی شادی کے دن بھی سیاسی سرگرمیاں نہیں روکی گئیں۔ عشائیہ سے ٹھیک پہلے آنند بھون کے ڈرائنگ روم میں کانگریس کی اعلیٰ قیادت کی میٹنگ ہوئی تاکہ کرپس مشن پر اپنا موقف طے کیا جا سکے۔
دو دن بعد کانگریس کے تمام سرکردہ رہنما جن میں جواہر لعل نہرو، ڈاکٹر راجیندر پرساد، آچاریہ کرپلانی، بھولا بھائی ڈیسائی اور سید محمود الہ آباد سے دہلی کے لیے روانہ ہوئے۔
Getty Imagesاندرا گاندھیکشمیر میں ہنی مون
شادی کے فوراً بعد اندرا اور فیروز فائیو فورٹ روڈ پر کرائے کے مکان میں شفٹ ہو گئے۔ اس وقت فیروز کے پاس کوئی نوکری نہیں تھی لیکن وہ اخبارات میں مضامین لکھ کر کچھ پیسے کما لیتے تھے۔
انھوں نے کچھ انشورنس پالیسیاں بھی فروخت کیں جس سے انھیں کچھ اضافی آمدنی ہوئی۔ شادی کے دو دن بعد، فیروز کی والدہ رتیمائی گاندھی نے جارج ٹاؤن میں اپنی رہائش گاہ پر ایک چائے پارٹی کا اہتمام کیا جس میں الہ آباد کی اشرافیہ نے شرکت کی۔
دو ماہ بعد اندرا اور فیروز اپنے ہنی مون کے لیے کشمیر چلے گئے۔
وہاں سے اندرا نے نہرو کو ٹیلی گرام بھیجا تھا۔
'کاش ہم آپ کو یہاں سے کچھ ٹھنڈی ہوا بھیج سکتے!'
نہرو کا فوراً جواب آیا: 'شکریہ، لیکن آپ کے پاس وہاں آم نہیں ہیں!'
جب اندرا گاندھی کے گھر حاضری نہ دینے پر انڈین وزیراعظم کو گھر جانا پڑااندرا گاندھی کو ’بدصورت اور احمق‘ کہنے والی پھوپھی وجے لکشمی پنڈت جن کی ان سے کبھی بنی ہی نہیںاندرا گاندھی کا روپ اور آواز کی نقل کر کے بینک سے 60 لاکھ روپے کیسے نکلوائے گئےقریبی عزیزوں کی موت، نالائق جانشینی کا سوال اور قلعوں پر قبضے کی ضد: اورنگزیب کی زندگی کے آخری 27 سالانڈیا میں انشورنس کا وہ سکینڈل، جس نے محمد علی جناح کے تاجر دوست کو جیل پہنچا دیاقتل اور ڈکیتی کا ملزم جو شناخت بدل کر 34 سال تک مختلف تھانوں میں نوکری کرتا رہا