Getty Imagesکچھ لوگ آسانی سے اُکڑوں بیٹھ جاتے ہیں جبکہ دوسروں کے لیے سیدھا توازن برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے
پاکستان، انڈیا، چین اور ایشیا کے بیشتر حصوں میں اُکڑوں بیٹھنا (ایڑھیوں کے بل بیٹھنا) روزمرہ زندگی میں ایک معمول کی بات ہے۔
ٹرینوں کا انتظار کرتے ہوئے، دوستوں سے بات چیت کرتے ہوئے یا کھانا کھاتے ہوئے اکثر لوگ اپنی ایڑیاں زمین پر جمائے آسانی سے اُکڑوں بیٹھ کر یہ سب کام انجام دیتے ہیں۔
لیکن مغربی دنیا میں اس انداز میں بیٹھنے کی نقل کرنے کی کوشش کرنے والے لوگوں کی ویڈیوز آن لائن دلچسپی کا مرکز بن گئی ہیں۔ زیادہ تر لوگ پیچھے کی طرف گر جاتے ہیں، ایک جانب ڈھیر ہو جاتے ہیں یا سہارا لینے کے لیے دیوار کو پکڑ لیتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اندازِ نشست کے بارے میں دلچسپی دراصل ایک بڑے سوال سے جڑی ہے جو عمر بڑھنے کے ساتھ اچھی جسمانی لچک اور حرکت برقرار رکھنے کی اہمیت سے متعلق ہے۔
تو آخر ایسا کیوں ہے کہ کچھ لوگ آسانی سے اُکڑوں بیٹھ جاتے ہیں جبکہ دوسروں کے لیے سیدھا توازن برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے؟
اُکڑوں بیٹھنے کے فوائد
اُکڑوں بیٹھنا جسم کی بنیادی حرکات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
امریکہ کی یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا میں انسانی حرکات کے ماہر پروفیسر کرسٹوفر پاورز کا کہنا ہے کہ ’آپ اُکڑوں بیٹھے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔‘
’آپ کرسی پر بیٹھتے ہیں، اپنی گاڑی سے باہر نکلتے ہیں، بیت الخلا استعمال کرتے ہیں، یا زمین سے کوئی چیز اٹھانے کے لیے جھکتے ہیں۔‘
بہت سے لوگ عام اُکڑوں بیٹھنے کے اس انداز سے واقف ہیں جو جم میں ورزش کے معمول کا ایک عام حصہ ہوتا ہے۔ اس میں ایسے بیٹھنا شامل ہے جیسے آپ کرسی پر بیٹھ رہے ہوں، یہاں تک کہ رانیں زمین کے متوازی ہو جائیں۔
لیکن ایشیائی انداز میں مکمل اُکڑوں بیٹھنا اس سے قطعاً مختلف ہے۔ اس میں اس حد تک اُکڑوں بیٹھا جاتا ہے کہ گھٹنے مکمل طور پر مڑ جائیں اور باہر کی جانب نکلے ہوں، پاؤں مناسب فاصلے پر رکھے جائیں، سینہ سیدھا رہے اور ران کا پچھلا حصہ پنڈلی کے پٹھوں سے لگا ہوا ہو۔
ایشیائی نژاد امریکی کوچ میٹ سو لوگوں کی جسمانی حرکت اور طاقت بہتر بنانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ وہ ایشیائی انداز میں اُکڑوں بیٹھنے سے متعلق سوشل میڈیا ویڈیوز پوسٹ کر چکے ہیں جنھیں لاکھوں بار دیکھا گیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اسے ’ایشیئن سکواٹ‘ کہنا گمراہ کن ہو سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’آپ افریقی لوگوں کو دیکھیں گے جو اسے اپنی چیز قرار دیتے ہیں، سلاوی ممالک، مشرقی یورپ میں کوئی بھی شخص کہے گا کہ یہ ہمارا انداز ہے حالانکہ یہ اندازِ نشست سب کا ہے۔‘
فزیوتھیراپسٹ کے مطابق مکمل اُکڑوں میں کولہوں، گھٹنوں اور ٹخنوں میں زیادہ حرکت پذیری درکار ہوتی ہے اور عام اُکڑوں بیٹھنے کے مقابلے میں اس کا اثر جسم کے زیادہ حصوں میں محسوس ہوتا ہے۔
مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ اس کھنچاؤ کے باعث یہ اندازِ نشست حرکت پذیری اور لچک میں اضافہ کرنے، کمر کے درد میں کمی لانے اور پوری زندگی کے دوران مجموعی خودمختاری برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
Getty Imagesاُکڑوں بیٹھنے کی پوزیشن ایک ایسی جسمانی حرکت ہے جو زیادہ تر لوگ بچپن میں فطری طور پر کر سکتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ اس صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔
بچے عموماً بہت کم کوشش کے ساتھ فطری طور پر اس انداز میں اُکڑوں بیٹھ سکتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کے جوڑ زیادہ لچک دار ہوتے ہیں اور ان کے جسمانی تناسب بھی مختلف ہوتے ہیں۔
لیکن جسمانی ساخت میں آنے والی تبدیلیاں ہی واحد وجہ نہیں جس کے باعث بہت سے بالغ افراد گہرے اُکڑوں بیٹھنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔
ایسا طرزِ زندگی جو بیٹھنے کے گرد گھومتا ہو مثلاً کرسیوں پر بیٹھنا یا بیت الخلا کے استعمال کے لیے انگلش کموڈ کا استعمال، جس کے باعث بہت سے بالغ افراد کو روزمرہ زندگی میں شاذ و نادر ہی گہرے اُکڑوں بیٹھنے کی ضرورت پیش آتی ہے جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ حرکت پذیری اور قوت میں کمی آتی ہے۔
پروفیسر پاورز کی تحقیق اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ جسمانی حرکات میں تبدیلیاں گھٹنے کی چوٹوں میں کس طرح کردار ادا کرتی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ کسی صلاحیت کو استعمال نہیں کریں گے تو اسے کھو بیٹھیں گے۔‘
ایشیائی لوگوں کا اکڑوں بیٹھنا معمول کی بات کیوں؟Matt Hsuایشیائی نژاد امریکی میٹ سو کو چوٹوں کے باعث کئی بار یہ صلاحیت کھونے کے بعد دوبارہاُکڑوں بیٹھنے کی مشق کرنی پڑی
اس طرزِ زندگی میں تبدیلیاں ایشیا کے بعض علاقوں، جیسے جاپان، میں ابھی بھی اتنی عام نہیں ہیں جہاں روزمرہ کے کاموں میں اب بھی اُکڑوں بیٹھنا شامل ہے۔
حرکت اور فٹنس کی تربیت فراہم کرنے والی کمپنی اپ رائٹ ہیلتھ کے بانی میٹ سو کہتے ہیں کہ ’'آپ کو گھر یا ریسٹورنٹ میں داخل ہو کر جوتے اتارنے، چٹائی کے پاس اُکڑوں بیٹھنے اور پھر بیٹھ کر کھانا کھانے کے قابل ہونا پڑتا ہے۔‘
کولہوں اور ٹانگوں کی یہی طاقت دیگر بنیادی کاموں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ایشیا کے بعض علاقوں میں اب بھی اُکڑوں بیٹھ کر استعمال ہونے والے بیت الخلا ہیں۔ اگر آپ کو ہر روز اسی طرح رفع حاجت کرنی ہو تو یہ صلاحیت آسانی سے ختم نہیں ہوتی۔‘
میٹ سو نے بی بی سی سے 40 منٹ تک بات کی اور اس دوران وہ زیادہ تر وقت اُکڑوں بیٹھے رہے۔ صرف چند بار انھوں نے مختصر وقفہ لیا۔
ان کا کہنا ہے کہ اُکڑوں بیٹھنے جیسی حرکات کی اہمیت انھیں اپنے خاندان کے تجربے سے سمجھ آئی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میرے والد ایک بار گر گئے تھے اور انھیں فٹ پاتھ سے اٹھانے کے لیے ایمبولینس بلانی پڑی، کیونکہ وہ خود زمین سے نہیں اٹھ سکے تھے۔‘
میٹ سو کا کہنا ہے کہ ایشیائی پس منظر رکھنے کے باوجود وہ اپنی 20 کی دہائی میں دیر تک اُکڑوں بیٹھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کھیلوں میں لگنے والی چوٹوں سے صحت یاب ہونے کے دوران انھیں طویل عرصے تک بیٹھے رہنا پڑا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے یاد ہے کہ میرا جسم اتنا اکڑا ہوا تھا کہ میں اپنے ٹخنوں کو بھی نہیں چھو سکتا تھا۔‘
سو کو دوبارہ یہ صلاحیت حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ مشق کرنا پڑی۔ ان کا کہنا ہے کہ مکمل اُکڑوں بیٹھنے کی مہارت بھی دوسری جسمانی صلاحیتوں کی طرح سیکھی جا سکتی ہے۔
’یہ طریقہ غیر منطقی ہے‘: خواتین میں پیٹھ کے بل زچگی کا ’خطرناک‘ رجحان کیسے شروع ہوا؟اٹھنے بیٹھنے کے وہ غلط انداز جو ہمارے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیںہفتے میں صرف دو گھنٹے ورزش جو آپ کی زندگی بدل سکتی ہےکل سے پکا جم جاؤں گی؟ لوگ اپنی فٹنس بہتر کرنے کے لیے ہمیشہ یکم جنوری کا انتظار ہی کیوں کرتے ہیں؟ایشیائی انداز میں اُکڑوں کیسے بیٹھیں؟
جو لوگ مکمل اُکڑوں بیٹھنے کا انداز سیکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے میٹ سو خبردار کرتے ہیں کہ جسم کو اس کا عادی ہونے سے پہلے بہت زیادہ زور نہیں لگانا چاہیے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’آپ کو جلد بازی نہیں کرنی چاہیے اور فوراً مکمل طور پر نیچے نہیں بیٹھنا چاہیے کیونکہ اس سے چوٹ لگ سکتی ہے۔‘
اس کے بجائے وہ مشورہ دیتے ہیں کہ اس حرکت کی مشق آہستہ آہستہ کی جائے۔ اس کے لیے کرسی یا کچن کاؤنٹر جیسی کسی مضبوط چیز کا سہارا لیا جا سکتا ہے، اور صرف اتنا نیچے بیٹھا جائے جتنا آرام دہ محسوس ہو۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ چند ہفتوں تک ہر روز چند بار یہ مشق کریں گے تو آپ محسوس کریں گے کہ 'اب میں خود کو محفوظ محسوس کر رہا ہوں، اور میں پہلے سے تھوڑا زیادہ نیچے بیٹھ سکتا ہوں۔‘
Getty Imagesماہرین کے مطابق مکمل اُکڑوں بیٹھنا ہر شخص کے لیے حتمی مقصد نہیں ہونا چاہی، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو پہلے سے گھٹنوں، کولہوں یا کمر کے درد کا شکار ہیں
تاہم عمر بڑھنے کے ساتھ یہ سوال زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے کہ کیا بالغ افراد کو دوبارہ مکمل اُکڑوں بیٹھنا سیکھنا چاہیے۔
پروفیسر پاورز کہتے ہیں کہ ’جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی ہے، ہمارے جوڑوں، ریڑھ کی ہڈی، کولہوں اور خاص طور پر ٹخنوں کی حرکت پذیری کم ہو جاتی ہے۔‘
ان کے مطابق یہی بات اس طرح اُکڑوں بیٹھنے کی صلاحیت کو مزید محدود کر دیتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ کسی بھی حد تک اُکڑوں بیٹھنے کی ورزش فائدہ مند ہو سکتی ہے لیکن پروفیسر پاورز خبردار کرتے ہیں کہ مکمل اُکڑوں بیٹھنے کو ہر شخص کے لیے ایک لازمی ہدف نہیں سمجھنا چاہیے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو پہلے سے گھٹنوں، کولہوں یا کمر کے درد کا شکار ہیں۔
طبی مراکز میں اُکڑوں بیٹھنے کی مشقیں عموماً مریض کی جسمانی ساخت، چوٹ، طبی تاریخ اور مقاصد کے مطابق تبدیل کی جاتی ہیں۔
پروفیسر پاورز کے مطابق آن لائن بحث میں اکثر اس پیچیدگی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ 'ہر شخص کے لیے ایک ہی بہترین طریقہ نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان مختلف ہوتا ہے۔‘
جن لوگوں کی ران کی ہڈیاں نسبتاً لمبی ہوں، ٹخنوں کی حرکت محدود ہو یا کولہوں کی ساخت مختلف ہو، انھیں توازن برقرار رکھنے اور دیر تک اکڑوں بیٹھنے میں زیادہ مشکل پیش آ سکتی ہے، چاہے وہ کتنے ہی فِٹ کیوں نہ ہوں۔
بعض فزیوتھیراپسٹ کہتے ہیں کہ اصل سوال یہ نہیں کہ کوئی شخص اپنے کولہوں کو زمین کے بہت قریب جا کر بیٹھ سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ عمر بڑھنے کے ساتھ اپنی روزمرہ کی حرکات خود انجام دینے کے قابل رہتا ہے۔
فی الحال ایسی کوئی تحقیق موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ طویل عرصے تک روزانہ مکمل اُکڑوں بیٹھنے کی مشق کرنے سے طویل مدتی طور پر کیا اثرات یا فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
میٹ سو کہتے ہیں کہ ان کے لیے مقصد مکمل مہارت حاصل کرنا نہیں، بلکہ ایسی حرکت کو دوبارہ حاصل کرنا ہے جسے جدید طرزِ زندگی نے آہستہ آہستہ لوگوں کی زندگیوں سے کم کر دیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر میں یہ ضرور کہوں گا کہ آپ کے لیے اپنے جسم پر قابو رکھنا ضروری ہے، تاکہ آپ خود اٹھ سکیں اور کششِ ثقل کے اثرات سے نمٹ سکیں۔‘
’یہ طریقہ غیر منطقی ہے‘: خواتین میں پیٹھ کے بل زچگی کا ’خطرناک‘ رجحان کیسے شروع ہوا؟اٹھنے بیٹھنے کے وہ غلط انداز جو ہمارے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیںہفتے میں صرف دو گھنٹے ورزش جو آپ کی زندگی بدل سکتی ہےکل سے پکا جم جاؤں گی؟ لوگ اپنی فٹنس بہتر کرنے کے لیے ہمیشہ یکم جنوری کا انتظار ہی کیوں کرتے ہیں؟آنکھوں کا یوگا: کیا ورزش بینائی کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہے؟بڑھتی عمر کے ساتھ دماغی صلاحیت میں کمی کو روکنے کا راز