طارق فتح صاحب، یہ ویڈیوپولیو ورکرزکی نہیں ہے

سماء نیوز  |  Jan 15, 2020

پاکستانی نژاد کینیڈین مصنف طارق فتح پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کے باعث اکثر ہی خبروں کی زد میں رہتے ہیں، حال ہی میں انہوں نے ٹوئٹرپرایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ایک پاکستانی خاتون اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کیلئے آنے والی خواتین پر چیخنے چلانے کے بعد دھاڑ سے دروازہ بند کردیتی ہیں۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خاتون دروازے پر آنے والی پولیو ورکرز کو نہیں پلاؤں گی کی گردان کے ساتھ کہتی ہیں کہ ان سے میرے بچوں کا پیٹ خراب ہوجاتا ہے، ساتھ ہی پولیو ورکرز کو پاکستان کے نمایاں سیاستدانوں کے نام لیتے ہوئے یہ مشورہ بھی دیتی ہیں کہ جاؤ یہ قطرے ان کو پلا دو۔

طارق فتح کی یہ ٹویٹ اداکارہ مہوش حیات تک بھی پہنچی جنہوں نے واضح کیا کہ یہ ویڈیو نہیں بلکہ ان کی فلم لوڈ ویڈنگ کا ’’فلمی منظر‘‘ تھا اور پولیو ورکرکوئی اور نہیں خود مہوش حیات ہیں ۔

مہوش حیات نے طارق فتح کو آئندہ کوئی بھی ویڈیو پوسٹ کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کر لینے کی ہدایت کے علاوہ یہ بھی واضح کیا کہ اس فلم کے ذریعے ہم اس مسئلے سے متعلق آگہی پیدا کررہے تھے ، یہ دیکھ کرخوشی ہوئی کہ ہماری پرفارمنس قائل کرنے والی ہے۔

طارق فتح کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیو کا یہ منظر بھلے سے فلم ’’لوڈ ویڈنگ ‘‘ کا تھا لیکن اس میں بولے جانے والے ڈائیلاگز کچھ سنے سنائے لگے۔ یہ مکالمے دراصل 2016 میں وائرل ہونے والی ایک حقیقی ویڈیو سے لیے گئے جس میں کراچی کی رہائشی ایک خاتون پولیو ورکرزکو ڈانٹتے ہوئے غصے میں کھری کھری سنا رہی ہیں۔

فلم بنانے والوں نے خاتون کی جانب سے بولے گئے تمام جملے معمولی سی ترمیم کے ساتھ اپنے اسکرپٹ کی زینت بنائے۔

رہے طارق فتح تو ُان کی پاکستان اور مسلمانوں کے حوالے سے نفرت انگیزی کی ایک پرانی تاریخ ہے، اور یہ پہلا موقع نہیں کہ انہیں غلط معلومات پھیلانے کے حوالے سے شرمندہ کیا گیا ہو۔

اس سے قبل ورلڈ کپ 2019 کے دوران طارق فتح نے چیف سلیکٹرانضمام الحق کی داڑھی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ اپنا مذاق صرف پاکستان ہی بنوا سکتا ہے، پاکستانی کپتان سرفراز احمد بھارت کے خلاف اہم میچ سے قبل اچھی پِچ کیلئے ایک ملا کو ساتھ لے آئے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More