کراچی سرکلر ریلوے: وفاق اور سندھ حکومت میں منصوبے کے فریم ورک پر اتفاق ہو گیا: شیخ رشید

نوائے وقت  |  Feb 20, 2020

کراچی (خبر نگار) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ مارچ میں کوئی مارچ نہیں ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن دھرنا نہیں دیں گے، وہ اگر دھرنا دیں گے تو دھر لیے جائیں گے۔جو مرضی چاہیں مہم چلا لیں مگر وزیرِ اعظم عمران خان 5 سال پورے کرنے جا رہے ہیں۔ نہ تو سابق وزیر اعظم نواز شریف واپس آرہے ہیں اور نہ ہی ان کی صاحبزادی مریم نواز باہر روانہ ہو رہی ہیں۔کراچی سرکلر ریلوے2ارب ڈالرز کا منصوبہ ہے۔ وفاق اور سندھ حکومت میں فریم ورک منصوبے پر اتفاق ہو گیا ہے، سندھ حکومت کے سی آر عملی طور پر مکمل کرنا چاہتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے بدھ کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کے بعد ریلوے کیمپ آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوںنے کہا کہ وزیر اعلی سندھ سے تاریخی ملاقات ہوئی ہے۔سپریم کورٹ کی ہدایت پر30 روز میں تجاوزات خاتمہ کرینگے جبکہ متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کا طریقہ کار سندھ حکومت سے آئندہ ملاقات میں طے کریں گے۔انہوںنے کہا کہ کے یو ٹی سی کو دوبارہ بحال کردیا ہے۔ٹریک کے ایک سو پچاس فٹ زمین خالی کروارہے ہیں۔ساڑھے چار کلو میٹر کا ایریا باقی رہ گیا ہے۔سندھ حکومت اور ریلوے میں کوئی اختلاف نہیں اور ہم مل کر کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) بنائیں گے۔ وفاق اور سندھ حکومت میں فریم ورک منصوبے پر اتفاق ہو گیا ہے ۔کراچی کے منصوبے سندھ حکومت ریلوے سے زیادہ عملی طور پر مکمل کرنا چاہتی ہے'۔انہوں نے کہا کہ 'کے سی آر سی پیک کا معاہدہ ہے، کراچی سرکلر ریلوے سے متعلق جلد چین کے سفیر کراچی آئیں گے اور ان کے ساتھ ہم مل کر پریس کانفرنس بھی کریں گے'۔مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے اعلان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 'مارچ تک جو مرضی چاہے مہم چلالیں، عمران خان 5 سال پورے کریں گے، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن)کچھ نہیں کرنے جارہے۔ امید ہے کہ مولانا فضل الرحمن خود دھرنا نہیں دیں گے اور اگر انہوں نے دھرنا دیا تو وہ اب دھر لیے جائیں گے اس دفعہ ان کے ساتھ وی آئی پی سلوک نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ 'گندم کے بحران کے ذمہ داروں کو عمران خان سزا دیں گے وہ کسی کو ایسے جانے نہیں دیں گے'۔انہوں نے دعوی کیا کہ 'حیات ایجنسی سے لے کر جتنی ریلوے کی زمینیں ہیں اور جو اسٹاک ایکسچینج کے پلاٹ ہیں یہ سب کیس لے کر ہم عدالتوں میں جارہے ہیں اور اس سے جتنا پیسہ ملے گا وہ کے سی آر میں لگائیں گے اور سندھ حکومت کو بھی دیں گے'۔وزیر ریلوے نے کہا کہ 'اقتصادی رابطہ کمیٹی میں ریلوے کی پینشن کا معاملہ اٹھائیں گے اور اسے وفاق کے کھاتے میں ڈالنے کی منظوری دلوائیں گے'۔اس سے قبل وزیر ریلوے شیخ رشید نے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کی،جس میں چیف سیکریٹری ممتاز شاہ، وزیر ٹرانسپورٹ اویس شاہ، وزیر اعلی کے مشیر قانون مرتضی وہاب، ایڈووکیٹ جنرل سمیت دیگر اعلی حکام بھی شریک تھے ۔ملاقات میں بتایا گیا کہ کے سی آر 2 ارب روپے کا منصوبہ ہے اور اس کی بحالی میں 24 کراسنگز ہیں جنہیں ٹھیک کرنا ہے۔اس موقع پر وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت کے سی آر بنانے کے لیے پر عزم ہے اور اس منصوبے کا 15 فیصد ، 40 ارب روپے دینے کے لیے تیار ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More