مہوش حیات نے غلط اشعار علامہ اقبال سے منسوب کر دیے

ہم نیوز  |  May 05, 2020

اسلام آباد: صدارتی تمغہ امتیاز یافتہ پاکستانی اداکارہ مہوش حیات اکثر کچھ نہ کچھ نیا کرتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف مداح ان کو سراہتے ہیں بلکہ ان کی خبریں سوشل میڈیا کی زینت بھی بنی رہتی ہیں۔

سماجی و سیاسی موضوعات پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرنے والی اداکارہ مہوش حیات نے اس مرتبہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ایک تصویر چند اشعار کے ساتھ شیئر کی۔

تصویر تو دلنشیں تھی ہی تاہم ایک خاص وجہ کے باعث یہ تصویر کچھ زیادہ ہی عوام کی توجہ کا مرکز بن گئی۔

ہر شیشہ ٹوٹ جاتا ہے پتھر ک چوٹ سے پتھر ہی ٹوٹ جاۓ ، وہ شیشہ تلاش کر ۔۔

ہر شخص جل رہا ہے عداوت کی آگ میں اُس آگ کو بجھادے، وہ پانی تلاش کر ۔۔

سجدوں سے تیرے کیا ہوا صدیاں گذر گئیں دنیا تری بدل دے ، وہ سجدہ تلاش کر !

– علامہ اقبال 🌺

— Mehwish Hayat TI (@MehwishHayat)

ہوا کچھ یوں کہ مہوش حیات نے اپنی تصویر کے ساتھ جو اشعار لکھے ان کا لکھاری علامہ اقبال کو بتایا مگر دراصل وہ اشعار محمد اسماعیل الکرخی ندوی نے تحریر کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مہوش حیات کا پیغام، ہاتھوں کے ساتھ دل بھی صاف رکھیں

مہوش حیات کے مداحوں نے ان کی تصویر کے لیے پسندیدگی کو اظہار تو کیا ہی مگر ساتھ ہی ان کی توجہ شاعر کے نام کی طرف بھی مبذول کرائی۔

اللّٰه کی بندی یہ شعر علامہ اقبال کا نہیں کسی اور اقبال کا ہوگا۔

— MANS🙂🙂R (@mc160402882) May 4, 2020

ایک صارف نے لکھا کہ یہ علامہ اقبال کا نہیں کسی اور شاعر کا کلام ہے۔

پیاری مس یہ اشعار محمد اسماعیل کے ہیں ۔ آپ اقبال کے فکر کی پرواز دیکھیں زرا

تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئنہ ہے وہ آئنہ کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئنہ ساز میں

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں

تصحیح pic.twitter.com/FYm7rBkmht

— Uswa e Zainab (@UswaeZainab3) May 5, 2020

اسوہ زینب نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ یہ اشعار اقبال کے نہیں ہیں بلکہ کسی اور شاعر کے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے اقبال کا کلام بھی شیئر کیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More