اس مرتبہ عید بہت مختلف اور خاموش مگر پرسکون ہے، علی رحمان

ہم نیوز  |  May 24, 2020

اسلام آباد: پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار علی رحمان نے کہا ہے لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس مرتبہ عید بہت مختلف اور خاموش تو ہے ہی مگر پرسکون بھی ہے۔

ہم نیوز کے انٹرٹینمنٹ بیسڈ پروگرام ’کور پیج‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ عام طور پر ان کی عید ملاقاتوں سے بھر پور ہوتی ہے اور ان کی پوری فیملی ان کی دادو کے گھر اکٹھے ہو کر عید کی خوشیوں سے محظوظ ہوتی ہے مگر اس بار سب نے اپنے اپنے گھروں میں رہنے کو ترجیح دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 

ہم ٹی وی کے بلاک بسٹر ڈرامہ سیریل خاص‘ میں مرکزی کردار نبھانے والے علی رحمان نے کہا کہ یہ عید ایسے بھی پرسکون ہے کہ فیملی کے ساتھ اچھا وقت گزار رہا ہوں اور گھر میں خوش ہوں۔

میزبان شاداب خان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنی نیچر کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن مجھ پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوا، میں زیادہ تر لوگوں سے نہیں ملتا بلکہ گھر میں رہنے کو ہی ترجیح دیتا ہوں۔

علی رحمان نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں  کرنے بلکہ مجھے اس سے یہ احساس ہوا ہے کہ ہم ویک اینڈ پر بھی اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ ہمارا دماغ کی نہ کسی چیز کی پلاننگ کر رہا ہوتا ہے مگر اب ذہنی سکون نصیب ہوا ہے کیونکہ ہر وقت کی پلاننگ نہیں کرنی پڑتی۔اب ہم چیزوں کی قدر کرنا سیکھیں گے کیونکہ گھر میں بیٹھ کے یہ احساس ہوا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کو کچھ  ہمیں عطا کردہ ہے وہ کتنی بڑی نعمت ہے۔

سماجی دوری اختیار کیے ہوئے سالگرہ منانے سے متعلق انہوں نے بتایا کہ پہلی بار میری سالگرہ پر دوست ساتھ نہیں تھے اس لیے بہت عجیب محسوس کیا۔

اپنے آنے والے پراجیکٹس کے متعلق علی رحمان نے بتایا کہ میری آنے والی فلم ’پردے میں رہنے دو‘ کا اسکرپٹ بہت اچھا ہے جسے بہت پیارے طریقے سے لکھا گیا ہے مگر کورونا وائرس کی وجہ سے شاید رواں برس فلم ریلیز نہ ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں: 

ترک ڈراموں سے متعلق علی رحمان کا کہنا تھا کہ انہیں دیکھنے اور چلانے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ آرٹ ہیں اور ہم آرٹسٹ ہیں اس لیے ہمیں اس سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

گفتگو کا اختتام پر انہوں نے یہ پیغام دے کر کیا کہ نہ صرف اپنا بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کا بھی خیال رکھیں۔ سماجی دوری اختیار کریں تاکہ آپ اور آپ کے بزرگ محفوظ رہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More