انڈیا: ہتھنی کی ہلاکت میں ملوث شخص گرفتار، دو کی تلاش جاری

اردو نیوز  |  Jun 06, 2020

انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں ایک ہتھنی کی ہلاکت میں ملوث شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر دو کی تلاش جاری ہے۔

کیرالہ کے محکمہ جنگلات کے سربراہ نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے جنگلی حیات بالخصوص جنگلی سوروں کو اپنی زمین سے دور رکھنے کے لیے پٹاخوں سے بھرے ہوئے ناریل کا استعمال کیا تھا۔ 

مزید پڑھیںانڈیا میں پٹاخوں سے بھرا انناس کھا کر حاملہ ہتھنی ہلاکNode ID: 482776کُتے کو گاڑی سے باندھ کر گھسیٹنے پر مقدمہ، ملزم گرفتارNode ID: 483191انڈیا میں ہتھنی کی ہلاکت پر فرقہ وارانہ بحث چھڑ گئیNode ID: 483221واضح رہے کہ چند دن پہلے ہتھنی کی موت کی خبر سوشل میڈیا پر آنے کے بعد جانوروں کے حقوق سے متعلق بحث چھڑ گئی تھی۔

یہ واقعہ منظر عام پر تب آیا جب جنگلات کے ایک وزیر نے ہتھنی کی تکلیف دہ موت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ 

اے ایف پی کے مطابق ملزم پی ولسن کیرالہ میں ربڑ پلانٹیشن میں مزدوری کرتا ہے اور اس نے ناریل میں دھماکہ خیز مواد بھرنے کا اعتراف کیا ہے تاکہ جنگلی جانوروں کو نشانہ بنایا جا سکے۔

جنگلات کے سربراہ سرندرا کمار کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزم پی ولسن کے دیگر دو ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔

سرندرا کمار کے مطابق ملزمان نے مئی کے دوسرے ہفتے میں کئی ’ناریل کے بم’  پلانٹیشن کے ارد گرد رکھے تھے۔

 ہتھنی نے پٹاخوں سے بھرا ہوا ناریل کھا لیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)متعقلہ افسران کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ پندرہ سالہ ہتھنی نے کس وقت ناریل کھایا تھا لیکن 25 مئی کو وہ زخمی حالت میں ملی تھی جس کے دو دن بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔

دھماکہ خیز مواد منہ میں پھٹنے سے ہتھنی کچھ کھانے یا پینے کے قابل نہیں رہی تھی۔

سوشل میڈیا پر اور دیگر حلقوں میں ہتھنی کی تکلیف دہ موت پر لوگوں نے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

جنگلی ہتھنی کیرالہ کی سائلنٹ ویلی سے کھانے کی تلاش میں نکل کر قریب کے گاؤں تک چلی گئی تھی۔

اس واقعے پر انڈیا کی مشہور شخصیات سمیت سوشل میڈیا صارفین نے بھی افسوس کا اظہار کیا تھا اور مختلف ہیش ٹیگز بنا کر اس واقعے پر تبصرے کیے جا رہے تھے۔

انڈیا میں پھلوں میں بارود بھر کر رکھنا عام بات ہے جن کے ذریعے جانوروں کو فصلیں تباہ کرنے سے روکا جاتا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More