سعودی عرب : کنگ فہد پل کھولنے کی تیاریاں مکمل

نوائے وقت  |  Jul 01, 2020

سعودی عرب کو بحرین سے جوڑنے والا طویل کنگ فہد پل رواں ماہ کے آخری ہفتے عوام کیلئے کھول دیا جائے گا، پل کے بنیادی ڈھانچے کی اصلاح و مرمت اور روڈ کی استرکاری کا کام مکمل کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی وباء کے پیش نظر بند کیا جانے والا کنگ فہد پل کو عوام کیلئے کھولنے کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں ہیں

اس حوالے سے بحرینی حکام نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور بحرین کو جوڑنے والا کنگ فہد پل 27 جولائی سے مسافروں کے لیے کھول دیا جائے گا۔

 سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق بحرین کا محکمہ سیاحت و تفریحات سعودی سیاحوں اور وزیٹرز کے خیر مقدم کے لیے انتظامات کررہا ہے۔ پرسوںسے :یورپ کے لئے پی آئی اے پروازوںپر 6ماہ تک پابندی

پرسوںسے :یورپ کے لئے پی آئی اے پروازوںپر 6ماہ تک پابندی

2019کے دوران کنگ فہد پل کے راستے ایک عشاریہ ایک کروڑ سیاح پہنچے تھے، ان میں سے 90 لاکھ سعودی تھے، اس پل سے روزانہ 75 ہزار افراد سفر کرتے ہیں، محکمہ سیاحت سے بحرین کو سالانہ 3.6 فیصد آمدنی ہوتی ہے جو 13 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

بحرینی محکمہ سیاحت کورونا سے بچاؤ کے احتیاطی اقدامات کے ساتھ سیاحوں کے استتقبال کی بھر پور تیاریاں کررہا ہے۔ جی سی سی ممالک نے27 جولائی سے ایک دوسرے کے یہاں آنے جانے کا عندیہ دے دیا ہے۔

یاد رہے کہ کورونا کی وبا کے دوران کیے جانے والے احتیاطی اقدام کے تحت 7 مارچ سے کنگ فہد پل بند ہے۔ سٹاک ایکسچینج حملے میں بھارت ملوث ، کبھی کہا کرسی مضبوط نہ چھن جانے کا ڈر، اپوزیشن مائنس ون چاہتی ہے: عمران

سٹاک ایکسچینج حملے میں بھارت ملوث ، کبھی کہا کرسی مضبوط نہ چھن جانے کا ڈر، اپوزیشن مائنس ون چاہتی ہے: عمران

واضح رہے کہ کنگ فہد سمندری پل سعودی عرب کو بحرین سے جوڑتا ہے اور یہ 25 کلو میٹر لمبا اور 23.2 میٹر چوڑا ہے۔

یہ سعودی شہر الخبر کے جنوب سے شروع ہوتا ہے اور بحرین کے دارالحکومت منامہ تک چلا گیا ہے۔ اس کا باقاعدہ افتتاح 25 نومبر 1986 کو ہوا تھا۔

کنگ فہد کے اعلی ادارے نے جنوری2019 کو اعلان کرکے بتایا تھا کہ اس سے32 برس میں382 ملین سے زیادہ افراد سفر کرچکے ہیں جبکہ یومیہ سفر کرنے والوں کا اوسط 74 ہزار ہے، ذرائع کے مطابق اس کے بالمقابل ایک اور پل قائم کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More