بھارتی کشمیر میں کووڈ کیسز میں اچانک اضافہ، لاک ڈاون دوبارہ نافذ کیا جا رہا ہے

وائس آف امریکہ اردو  |  Jul 12, 2020

سری نگر — 

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وائرس یا کووڈ۔19 مریضوں کی تعداد اور شرح اموات میں قابلِ تشویش اضافے کے پیشِ نظر علاقے میں لاک ڈاون دربارہ نافذ کرنے کا قوی امکان ہے۔

مُثبت کیسوں میں حالیہ اضافے کے بعد سرحدی اضلاع راجوری اور کپوارہ میں لوگوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لئے ہفتے ہی کو دفعہ144 نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا اور تاجروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی کاروباری سرگرمیاں سخت کووڈ پروٹوکول کے اندر ہی انجام دیں۔

سری نگر میں سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وادی کشمیر اور جموں خطے کے اُن علاقوں میں جہاں کووڈ۔19 کیسز میں حالیہ دنوں میں اضافہ مشاہدے میں آیا ہے پیر 31 جولائی سے تین ہفتے کے لئے لاک ڈاون نافذ کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

ہفتے کی شام کو جاری کئے گئے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دن کے دوران مزید بارہ کووڈ۔19 مریض جان بحق ہوئے۔ اس طرح جموں و کشمیر میں اس وبا سے لقمہٴ اجل بننے والوں کی تعداد بڑھ کر ایک سو اکتھر ہوگئی ہے۔

لداخ کے علاقے میں الگ سے تین سو کے قریب کووڈ-19 مریض اس وقت زیرِ علاج ہیں۔

سب سے زیادہ، 42 اموات دارالحکومت سری نگر میں ہوئی ہیں، جبکہ دوسرے نمبر پر سرحدی ضلع بارہمولہ ہے جہاں اب تک 32 افراد اس وائرس کا شکار ہو کر چل بسے ہیں۔

تاہم، عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دس ہزار سے زائد کووڈ-19 مریضوں میں سے تقریباً چھہ ہزار صحت یاب ہوچکے ہیں۔ لیکن مقامی ڈاکٹروں نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ کووڈ۔19 مریضوں کی تعداد میں چونکہ مسلسل اور غیر معمولی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لہٰذا اسپتالوں میں مزید مریضوں کو داخل کرنے کی گنجائش تیزی کے ساتھ ختم ہورہی ہے، جبکہ تمام دستیاب وینٹی لیٹرس اس وقت زیرِ استعمال ہیں۔

تشویشناک صورتِ حال کے پیش نظر ڈاکٹروں اور دوسرے ماہرینِ طب نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ وادی کشمیر میں لاک ڈاون فوری طور پر دوبارہ نافذ کرے۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں کووڈ-19 کے خطرے کو ٹالنے کے لئے اس سال19 مارچ سے نافذ کئے گئے لاک ڈاون میں مئی کے آخیر سے بتدریج نرمی لائی گئی اور پچھلے دنوں حکومت نے پورے جموں و کشمیر میں پبلک پارکوں اور باغات جن میں سری نگر کی ڈل جھیل کے کنارے پر واقع مشہورِ زمانہ مغل باغات بھی شامل ہیں، عام لوگوں کے لئے دوبارہ کھول دیں۔

اس سے قبل حکومت نے کشمیر کے پہاڑوں میں واقع ہندووں کی اہم عبادت گاہ امرناتھ گپھا کی سالانہ یاترا بھی اس ماہ کے آخری ہفتے سے شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان دونوں اقدامات کی مقامی سطح پر شدید نکتہ چینی کی جارہی ہے۔ تاہم، بہت سارے لوگوں کو اعتراف ہے کہ عام لوگوں نے بھی کووڈـ 19کے خطرے کو اتنی سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیا ہے جتنا صورتَ حال تقاضا کرتی ہے۔ بلکہ، اس سلسلے میں عام شہریوں کی ایک کثیر تعداد کی طرف سے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔

ہفتے کو کشمیری ڈاکٹروں کی تنظیم نے جموں و کشمیر کے لیفٹننٹ گورنز گریش چندر مرمو کو ایک کھلا خط لکھ کر اُن سے لاک ڈاون کو دوبارہ نافذ کرنے اور کووڈ مریضوں کی تعداد میں حالیہ ہفتوں میں ہوئے غیر معمولی اضافے کے پیشِ نظر اسپتالوں میں دستیاب سہولیات میں بہتری لانے کی درخواست کی۔ اس کے ساتھ ہی ڈاکٹروں اور طبی ماہرین نے لوگوں سے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنا بند کریں۔

ڈاکٹروں اور طبی ماہرین کی ان اپیلوں کی مذہبی جماعتوں اور زعما کے اتحاد متحدہ مجلسِ عمل، کئی سماجی اور سیاسی تنظیموں، تاجر انجمنوں اور سول سوسائٹی گروپس نے تائید کی ہے۔ ہفتے کو وادی کے تاجروں اور کارخانہ داروں کی انجمن کے صدر محمد یاسین خان نے بتایا کہ اگر حکومت لاک ڈاون دوبارہ ناٰفذ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو تاجر برادری اسے بھرپور تعاون دے گی۔ ٰ انہوں نے کہا ٰکہ صورتِ حال تیزی کے ساتھ خطرناک رخ اختیار کر رہی ہے۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ لاک ڈاون دوبارہ نافذ کیا جائے۔ ہمارا مالی نقصان لوگوں کی جان کے آگے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار ڈویژنل کمشنر پنڈورنگ کے پولے نے اس بات کی تصدیق کی کہ حکومت کو کئی عوامی حلقوں سے جن میں ڈاکٹر بھی شامل ہیں یہ درخواستیں ملی ہیں کہ کووڈ اموات میں اضافے اور بڑی تعداد میں مُثبت کیسوں کے سامنے آنے کے پیشِ نظر لاک ڈاون فوری طور پر دوبارہ نافذ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ''ہم اس بارے میں بہت جلد فیصلہ لیں گے۔ ہم بھی نہیں چاہتے کہ لوگوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو۔ ہم نے اپنی طرف سے بھرپور کوشش کی ہے کہ کم سے کم لوگ کووڈ-19 سے متاثر ہوں۔ ہماری یہ کوشش جاری رہے گی۔ عام لوگوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی کے ساتھ لیکر تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں جن کا ڈاکٹر اور طبی ماہرین پہلے ہی تفصیل بیان کر چکے ہیں''۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More