کرونا وائرس کیسے پھیلا؟ عالمی ادارۂ صحت کی ٹیم کے ووہان میں ماہرین سے انٹرویو

وائس آف امریکہ اردو  |  Aug 04, 2020

ویب ڈیسک — 

چین میں تین ہفتوں سے موجود عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ٹیم نے چین کے شہر ووہان میں سائنس دانوں اور دیگر ماہرین کے تفصیلی انٹریو کیے ہیں۔ عالمی ادارے کی ٹیم کرونا وائرس کی ابتدا اور انسانوں میں منتقلی سمیت دیگر حقائق جاننے کے لیے چین پہنچی تھی۔

عالمی ادارۂ صحت کے ترجمان نے منگل کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماہرین کی ٹیم نے ووہان میں جانوروں پر تحقیق کے ادارے، صحت، حیاتیاتی اور وبائی امراض کے ماہرین سمیت دیگر حکام سے طویل ملاقاتیں کی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او میں ہنگامی حالات کے سربراہ مائیک ریان نے پیر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ حیرت انگیز انکشافات کا امکان ہے۔

اُنہوں نے کہا تھا کہ جب ووہان میں صورتِ حال کی سنگینی کا ادارک ہوا تو ضروری نہیں کہ اسی وقت وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہو۔

عالمی ادارۂ صحت کے مشن میں جانوروں کی صحت اور وبائی امراض کے ماہرین شامل ہیں، جو اس بات کا تعین کریں گے کہ آخر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والے اس وائرس کا ماخذ کیا تھا اور یہ کیسے جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔

کرونا وائرس کی ابتدا اور انسانوں میں منتقلی سے متعلق سوالات کے جوابات کے لیے دنیا بھر کے سائنس دان اور حکومتیں منتظر ہیں۔

Direct link240p | 7.0MB360p | 10.2MB480p | 15.6MB720p | 42.2MB1080p | 51.9MB

عالمی ادارۂ صحت کے ترجمان کے مطابق چینی حکام نے ووہان میں جانوروں کے فروخت کی مارکیٹ ان اطلاعات پر بند کر دی تھی جب یہ انکشاف ہوا کہ وائرس سے متاثرہ بیشتر افراد نے اس مارکیٹ کا دورہ کیا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ غالب امکان ہے کہ وائرس چمگادڑ سے کسی اور جانور اور پھر انسانوں میں منتقل ہوا۔

خیال رہے کہ کرونا وائرس سے متعلق معلومات فراہم نہ کرنے اور مبینہ طور پر حقائق چھپانے پر امریکہ سمیت کئی ممالک نے چین کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی عالمی ادارۂ صحت پر چین کی طرف زیادہ جھکاؤ کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کی امداد روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔

چین کے شہر ووہان میں گزشتہ سال دسمبر میں کرونا وائرس پھیلنے کا انکشاف ہوا تھا جس کے بعد اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

کرونا وائرس کے باعث اب تک ایک کروڑ 83 لاکھ سے زائد افراد متاثر جب کہ چھ لاکھ 94 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More