بارشوں کا سلسلہ، پاک فوج سول انتظامیہ کی مدد کو پہنچ گئی

بول نیوز  |  Aug 08, 2020

کراچی میں موسون بارشوں کا سلسلہ مستقل جاری ہے اور اس ضمن میں پاک فوج سول انتظامیہ کی مدد کو پہنچ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ اطلاعات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ برسات کے اس موسم میں کراچی شہر میں سول انتظامیہ کی مدد کے لئے پہنچ گئی ہے جس کے بعد پاک آرمی نے کراچی میں ریلیف آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کی ریسکیو ٹیمز متاثرہ علاقوں میں مصروف عمل  ہیں جبکہ ڈیواٹرنگ پمپس اور ضروری حفاظتی سامان کے ساتھ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

پاک فوج کی جانب سے نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی بھی کی جا رہی ہے جبکہ پانی میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو بھی کیا جا رہا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ شہر بھر میں بارشوں کے باعث سیلاب اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مزید ریسکیو ٹیمز الرٹ کردی گئی ہیں۔

دوسری جانب کراچی میں بارشوں کے دوران کے الیکٹرک کے 1200 فیڈر ٹرپ کرگئے ہیں جس کے بعد شہر کا 60 فیصد سے زائد علاقہ تاریکی میں ڈوپ گیا ہے۔

شہر کے کئی علاقوں میں 12 گھنٹے سے بجلی غائب ہے جس میںلیاری ، کھارادر، صدر ، ناظم آباد کے علاقے شامل ہیں۔

پی آئی بی، شاہ فیصل ، لانڈھی، ملیر، نارتھ کراچی لیاقت آباد قیوم آباد سوسائٹی میں گزشتہ 8 گھنٹے سے لائٹ نہیں ہے جبکہ احسن آباد، گلشن معمار، بلدیہ سائٹ اورنگی ٹاؤن میں بھی بجلی بند ہے۔

بارشوں میں ہلاکتوں کا سلسلہدوسری جانب کراچی کی 2 دن کی بارشوں کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جن میں کرنٹ لگنے سے 5 افراد جبکہ 3 افراد کی ہکلاکت بارش کے پانی میں ڈوب کر ہوئی۔

بارش کے دوران  گزشتہ روز 2 افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے کس میں گلستان جوہرمیں گھر میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا ہے اورکٹی پہاڑی پر کرنٹ لگنے سے 13 سالہ بچہ کاشان جاں بحق ہوا۔

آج بارش میں میوہ شاہ قبرستان کے قریب کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، ملیر ماڈل کالونی میں بھی ایک شخص کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوگیا جبکہ لانڈھی نمبر4 میں دکان کے شٹرسے کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا ہے۔

دوسری جانب ایک بچہ سرجانی ندی میں ڈوب کر جاں بحق ہوا ہے جبکہ میٹرویل بنارس پل کے قریب 6 سالہ بچہ ندی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا ہے۔

 یاد رہے کہ  کراچی میں میٹروپول کے قریب بل بورڈ گرنے سے 3 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More