ہندو بیٹی شریمتی بھیل کو انصاف دو

روزنامہ اوصاف  |  Sep 16, 2020

پی ٹی ایم سمیت سندھ،بلوچستان اور دیگر صوبوں کے قوم پرست ذرا قریب قریب آجائیں،صوبہ سندھ کے شہر شہداد پور سے خبر آئی ہے کہ ’’بھارت میں 11 پاکستانی مہاجرین کے قتل کا مقدمہ سندھ کے شہر شہداد پور کے تھانہ میں درج کرلیا گیا ہے، مقدمے میں بی جے پی اور آر ایس ایس کو نامزد کیا گیا ہے۔خبر کے مطابق بھارتی شہر جودھپور میں قتل ہونے والے گیارہ پاکستانی ہندوئوں کے قتل کا مقدمہ متاثرہ خاندان کی لڑکی ’’شریمتی مکھی‘‘ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے،پولیس کی جانب سے مقدمے میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات  شامل کی گئی ہیں جبکہ مقدمے میں حکومت سے عالمی عدالت سے رجوع کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔شہداد  پور تھانے میں شریمتی مکھی بھیل نے ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا ہےکہ مقتولین میں اس کے ماں باپ،بہن بھائی اور خاندان کے دیگر لوگ شامل ہیں۔راجستھان کے گائوں لُونا میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے غنڈے رات3 بجے شریمتی بھیل کے گھر میں گھسے اور اس کے پورے خاندان کو قتل کر ڈالا،شریمتی بھیل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی راجستھان میں قتل کیے جانے والے چونکہ پاکستانی ہندو تھے اس لئے ریاست پاکستان انہیں انصاف دلائے۔انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی پر عالمی عدالت انصاف سے آر ایس ایس اور بی جے پی کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دلوایا جائے۔شہداد پور میں اس مقدمے کے اندراج کے بعد میں منتظر رہا کہ پی ٹی ایم کے منظور پشتین،بلوچ قوم پرست ہوں،سندھی قوم  پرست ہوں یا پھر موم بتی مافیا اور میرا جسم،میری مرضی والی انٓٹیاں اور انکلز۔۔۔ شائد ان میں سے کوئی آگے بڑھے اور انسانی حقوق کی لاج رکھتے ہوئے اس ہندو بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھے کہ جس ہندو بیٹی کے پورے خاندان کو راجستھان میں مودی کے پالے ہوئے  دہشت گردوں نے قتل کر ڈالا۔۔۔ مگر ابھی تک انسانی ’’حقوق‘‘ کے نام پر پیٹ پوجا کرنے والوں اور میرا جسم میری مرضی کی آڑ میں گمراہی پھیلانے والوں میں سے کسی نے شہداد پور کی ’’شریمتی بھیل‘‘پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز تک اٹھانا گوارا نہیں کیا۔ اگر اندرون سندھ کوئی ہندو لڑکی اپنی مرضی سے اسلام قبول کرلے تو این جی اوز کے خرکار ۔۔۔ ہاں ہاں کرتے ہوئے پورا میڈیا سر پر اٹھالیتے ہیں ۔۔ لیکن اب مظلوم شریمتی بھیل کو ان میں سے کوئی جھوٹے منہ بھی پوچھنے کیلئے تیار نہیں ہے تو کیوں؟ کیا شریمتی بھیل لڑکی نہیں ہے؟اس کے اور اس کے ہندو خاندان کے کوئی انسانی حقوق نہیں ہیں؟منافقت،منافقت،منافقت۔۔یہ میک اپ کی تہوں کے نیچے چھپے ہوئے منافقت زدہ چہرے جو عورتوں کے حقوق کے نا م پر فساد فی الارض برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔سندھ کے شہر شہداد پور میں شریمتی بھیل کی طرف سے درج کروائے جانے والے مقدمے نے ان سب منافقت زدہ چہروں کو بے نقاب کر ڈالا ہے۔میں چشم تصور سے دیکھ رہا ہوں کہ منظور پشتین اور محسن  داوڑ،ہندو بیٹی شریمتی  بھیل کو لے کر اسلام آباد پہنچے تو آگے میرا جسم،میری مرضی والی انٓٹیوں نے ان کا استقبال کیا،پھر یہ سارے مل کر اسلام آباد میں بھارتی سفارت خانے کے سامنے پہنچے کہ جہاں پہلے سے ہی پرویز ہود اپنی پوری بریگیڈ کے ساتھ موجود تھے۔۔۔ اور پھر  انہوں نے ہندو لڑکی شریمتی بھیل کو انصاف دلوانے کیلئے بھارتی حکومت اور بھارتی فوج کے خلاف نعرہ بازی شروع کر دی۔ محسن داوڑ نعرے لگا رہے تھے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی پر پابندی عائد کرو،نہیں چلے گی،نہیں چلے گی،مودی دہشت گردی نہیں چلے گی۔۔۔انڈیا کا جو یار ہے وہ قوم کا غدار ہے۔۔۔منظور پشتین گلابی اردو میں بڑے پرجوش انداز میں کہہ رہے تھے ’’کیا ہوا کہ جو شریمتی بھیل ہندو دھرم سے تعلق رکھتی ہے۔۔۔ ہے تو ہماری پاکستانی بیٹی،بیٹی، بیٹی  ہوتی ہے۔۔چاہے وہ ہندو کی ہو یا مسلمان کی۔۔ہم اس بیٹی کو انصاف دلوانے کیلئے پی ٹی ایم،لندن،امریکہ،فرانس کے نیٹ ورک کو بھی متحرک کریں گے۔۔ہم امریکہ میں موجود اسماعیل گلالئی۔۔ مبشر علی زیدی اور حسین حقانی جیسے پاکستانیوں سے بھی اپیل کریں گے کہ وہ سندھ دھرتی کی ہندو بیٹی شریمتی بھیل کے حق میں اور بھارتی مظالم کے خلاف وہاں مظاہرے کریں گے،ابھی میں چشم تصور کے انہی مناظر میں کھویا ہوا تھا کہ جیب میں پڑے موبائل کی گھنٹی پوری قوت سے بجنے لگی۔۔ چونک کر موبائل آن کیا تو دوسری  طرف اسلام آباد کے سینئر صحافی عمر فاروق تھے، انہوں نے پوچھا کہ ہاشمی صاحب!کیا کررہے ہیں؟میں نے جلدی سے چشم تصور کے دکھائے ہوئے سارے مناظر انہیں سنا ڈالے۔۔ سارا منظر نامہ سننے کے بعد وہ ہنسے اور کہا، ہاشمی صاحب!لگتا ہے کہ اب آپ نے دن میں بھی خواب دیکھنا شروع کر دیئے ہیں۔۔ پی ٹی ایم ہو۔۔ میرا جسم، میری مرضی والیاں انٓٹیاں اور انکلز ہوں یا موم بتی مافیا۔۔ ان کے ’’انسانی حقوق‘‘ کی زد میں شریمتی بھیل جیسی مظلوم لڑکیاں نہیں آتیں۔اس لئے آپ کے چشم تصور نے جو مناظر آپ کو دکھائے ہیں، وہ درست نہیں،شریمتی بھیل کا مقدمہ چونکہ بھارت کی دہشت گرد تنظیموں اور حکمران پارٹی کے خلاف ہے اس لئے ان میں سے کوئی بھی شریمتی کا ساتھ دینے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔۔ ہاں البتہ پاک فوج سمیت  دیگر پاکستانی ریاستی اداروں کا معاملہ ہوتا تو یہ سارے ایک دوسرے سے بڑھ کر کردار ادا کرنے کی کوشش  کرتے۔۔ ان کے غیر ملکی آقائوں نے جو ایجنڈا انہیں تفویض کیاہے اس پر ’’شریمتی‘‘ کا مقدمہ پورا نہیں اترتا۔ 
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More