کرکٹ کی دنیا میں بڑا دھماکہ ، ویرات کوہلی کے مداحوں کیلئے دن کے آغاز میں افسوسناک خبر آگئی

روزنامہ اوصاف  |  Sep 27, 2020

دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک )کرکٹ کی دنیا میں بڑا دھماکہ ، ویرات کوہلی کے مداحوں کیلئے دن کے آغاز میں افسوسناک خبر آگئی ۔۔۔ کنگز الیون پنجاب کیخلاف شکست کے بعد رائل چیلنجرز بنگلور کے کپتان ویرات کوہلی کی مشکلات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں ۔ ان پر سلو اور ریٹ کیلئے 12 لاکھ روپے کا بھاری بھرکم جرمانہ لگایا گیا ہے ۔ ان کی ٹیم نے مقررہ وقت میں 20 اوورز پورے نہیں کیے۔ جمعرات کو کنگز الیون پنجاب کے خلاف کوہلی نے چھ بولرز کا استعمال کیا تھا ۔ اس کے علاوہ کوہلی نے لوکیش راہول کے دو کیچ بھی ڈراپ کئے تھے ۔یاد رہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے زیراہتمام انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کا 13 واں ایڈیشن متحدہ عرب امارات میں 19 ستمبر سے شروع ہوگیا ہے، انڈین پریمیر لیگ کے فائنل سمیت تمام میچز یو اے ای کے 3 مقامات دبئی، شارجہ اور ابوظہبی میں کھیلے جائیںگے، لیگ کا فائنل میچ 10 نومبر کو کھیلا جائیگا اور لیگ میں فائنل سمیت 53 میچز کھیلے جائیںگے۔ ٹورنامنٹ انتظامیہ کے مطابق یہ ایونٹ رواں سال 29 مارچ سے بھارت میں شیڈول تھا لیکن عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے 15 اپریل تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے 14 اپریل کو اس اعلان کے بعد کہ بھارت میں لاک ڈاون کم ازکم 3 مئی 2020ء تک جاری رہیگا، بی سی سی آئی نے ٹورنامنٹ کو غیر معینہ مدت کیلئے معطل کردیا۔ 2 اگست 2020ء کو اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ یہ ٹورنامنٹ 19 ستمبر سے 10 نومبر 2020ء کے درمیان متحدہ عرب امارات میں کھیلا جائیگا۔ واضح رہے کہ 2014ء میں ہندوستان میں انتخابات کی وجہ سے آئی پی ایل کا آدھا سیزن یواے ای منتقل ہوگیا تھا یوں متحدہ عرب امارات اس سے قبل 2014ء میں آئی پی ایل کے میچز کی میزبانی کرچکا ہے۔ آئی پی ایل کے 13 ویں ایڈیشن میں 8 ٹیمیں ٹائٹل کے حصول کیلئے پنجہ آزمائی کرینگی۔ ممبئی انڈینز کی ٹیم لیگ میں ٹائٹل کا دفاع کریگی۔ ممبئی انڈینز کی ٹیم سب سے زیادہ 4 مرتبہ لیگ کا ٹائٹل اپنے نام کرچکی ہے۔ لیگ کا پہلا ایڈیشن 2008ء میں کھیلا گیا تھا جو راجستھان رائلز نے جیتا تھا۔ شین وارن نے راجستھان رائلز کی قیادت کی تھی۔ لیگ میں اب تک بھارت کے ویرات کوہلی 5412 رنز کیساتھ ٹاپ سکورر جبکہ سری لنکا کے فاسٹ بائولر لاستھ مالنگا نے 170 وکٹوں کیساتھ سب سے کامیاب بائولر ہیں۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More