کراچی ہائی وے حادثے میں15افراد جاں بحق، متعدد زخمی

نوائے وقت  |  Sep 27, 2020

کراچی سپرہائی وے پرمسافر وین میں آگ لگنے سے 15 مسافر جھلس کر جاں بحق ہوگئے ہیں جن کی شناخت کا سلسلہ جاری ہے۔

  حیدرآبادلطیف آباد نمبر5کے رہائشی ایک ہی گھر کے 5افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ لطیف آباد نمبر5 کے علاقے سے ایک ہی گھرانے کے 6 افراد کراچی کیلئےروانہ ہوئے تھے۔

ورثا کا کہنا ہے کہ 6افراد میں سے ایک نوجوان گھر پہنچ گیا جس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ لطیف آباد 12نمبر کے بھی ایک ہی خاندان کے 3 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔جاں بحق افراد میں سے ایک کی شناخت 25سالہ عبدالرشید کے نام سے ہوئی ہے جو سیل اسپتال کے برنس وارڈ میں زیرعلاج تھا۔

زخمی افراد اور لاشوں کوعباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ تمام لاشیں بری طرح جھلس چکی ہیں اور بائیو میٹرک بھی ممکن نہیں۔ جاں بحق افراد کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ہوگی جس کے لیے نمونے لیے جارہے ہیں۔

جاں بحق ہونے والے کسی شخص کی تاحال حتمی شناخت نہ کی جاسکی۔ حکام کا کہنا ہے کہ کوئی گھڑی تو کوئی انگوٹھی اپنے پیارے کی نشانیاں بتا کر لاش لے جانا چاہتا ہے۔ لیکن ڈی این اےٹیسٹ کی رپورٹ آنے تک کوئی لاش  ورثا کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی کا کہنا ہے کہ تمام لاشیں نا قابل شناخت ہیں اور ان کے ڈی این اے سیمپلز لیے جا رہے ہیں۔ حادثے میں زخمی افراد کو حیدر آباد اور کراچی سول منتقل کیا گیا ہے۔

اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسی میت کی شناخت نہیں ہوئی، تمام لاشیں جھلسی ہوئی ہیں اور کسی کی بائیو میٹرک بھی ممکن نہیں۔ کسی سے کوئی ایسی چیز نہیں ملی جس سے شناخت میں مدد مل سکے۔ میت حاصل کرنے کےلیے لواحقین کو ڈی این اے کرانے کی ضرورت ہوگی، تمام پرچیاں نامعلوم افراد کی بنائی گئی ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ اویس شاہ نے حادثے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی کوتاہی کا مرتکب ہوا سزا دیں گے۔

ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق مسافر وین حیدر آباد سے کراچی آ رہی تھی جسے حادثہ ٹائی راڈ ٹوٹنے کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ وین الٹنے کے باعث وائرنگ میں آگ لگ گئی جس نے پوری گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ڈرائیور نے بتایا کہ وین میں فوری طور پر آگ نہیں لگی، میں نے خود شیشے توڑ کر ایک بچی اور مسافر کو نکالا۔میں مسافروں کو نکال رہا تھا کہ اسے آگ لگ گئی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More