ڈپریشن،اداسی اور مایوسی

روزنامہ اوصاف  |  Sep 28, 2020

ڈپریشن،اداسی اور مایوسی تینوں مختلف کیفیات ہیں۔ انہیں ایک ہی کیفیت کے مختلف نام سمجھنا غلطی ہے۔ کچھ کیفیات ملتی جلتی ضرور ہوتی ہیں۔ ڈپریشن ایک ایسا خطر ناک مرض ہے۔ جو نہ صرف آپ کی جسمانی و نفسیاتی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ یہ آپ کے سونے جاگنے،کھانے پینے حتیٰ کہ سوچنے تک پر اثر انداز ہوتا ہے۔ آج کے زمانے میں یہ مرض اس قدر عام ہو چکا ہے کہ شاید ہی دنیا کا کوئی شخص اس سے محفوظ بچا ہو ۔مردوں کے مقابلے میں خواتین اس مرض میں زیادہ مبتلا ہوتی ہیں۔ معاشرے کے بڑھتے ہوئے مسائل،کم آمدنی اور زائد اخراجات، گھریلو پریشانیوں اور ملک کے بگڑتے ہوئے حالات نے انسان کو ڈپریشن کا شکار بنا دیا ہے۔ ہر روز ہمیں کسی نہ کسی ایسی صورت حال سے گزرنا پڑتا ہے جس سے ہم مزید الجھنوں،ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہوتے چلے جا رہے ہیں۔  ہمارے ملک میں ڈپریشن زیادہ تر خواتین اور بچوں کو ہوتا ہے جبکہ اداسی اور مایوسی کاروباری اشخاص کو زیادہ ہوتی ہیں۔ پاکستان میں ڈپریشن 65 فیصد اشخاص کو گھیرے ہوئے ہے،کیمیاوی جائزہ لیا جائے تو ڈپریشن چند محرکات (ہارمونز) کے عدم توازن سے ہوتا ہے۔ کبھی کچھ حالات و واقعات کے رد عمل کے طور پر یہ عدم توازن واقع ہوتا ہے۔ منفی سوچیں ڈپریشن کا باعث بنتی ہیں جبکہ مایوسی اور اداسی اُس وقت لاحق ہوتی ہیں جب کوئی شخص اپنے مستقبل وغیرہ کو گرتے دیکھ رہا ہو اور اس کا حل اسے نہ مل رہا ہو۔دنیا میں ہر مسئلے کا حل رب تعالیٰ نے فرمایا ہے اور مایوسی کو کفر کا نام دیا ہے۔ڈپریشن کا حل اچھی بات چیت سے نکل آتا ہے،لیکن اداسی اور مایوسی کا مکمل حل تب ہی نکلتا ہے جب اس مسئلے سے نمٹنے کا راستہ دریافت ہو جائے۔ڈپریشن کے اسباب:احساس کمتری اکثر اشخاص کو ڈپریشن میں مبتلا کر دیتی ہے،بعض لوگوں نے کچھ دوسرے ،احباب یا کوئی خیالی شخصیت سوچی ہوتی ہے۔جب وہ اپنے آپ کو اس کیفیت تک لانے میں ناکام سمجھتے ہیں تو ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہر شخص ایک انفرادی حیثیت رکھتا ہے، اس لئے اسے اپنی شخصیت میں نکھار لانے کی سعی کرنی چاہیے نہ کہ کسی کی شخصیت میں اپنے کو ڈھالنے کی۔کچھ افراد کی یہ کیفیت موروثی ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کو بچپن سے ڈرتے رہنے کا ماحول ملا ہوتا ہے ۔یہ بچے بالغ ہونے پر بھی ڈرتے ڈرتے ڈپریشن کا مریض ہو جاتے ہیں۔اگر دماغ کا سامنے والا حصہ سست ہو، تب بھی یہ عارضہ لاحق ہو جاتا ہے۔معدے کی خرابی سے جب بدبو دار ریاح دماغ کی جانب چڑھتی ہیں،تب بھی کچھ وقت کے لئے ڈپریشن میں مبتلا کر دیتی ہے۔آکسیجن کی کمی سے دماغی نظام منتشر ہو جاتا ہے ،اسی وقت پیاس لگتی ہے ساتھ ہی اس عارضے کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔شوروغل کے ماحول میں پرورش پانے والے بچے اس مرض سے بہت متاثر ہوتے ہیں۔نیند کی کمی ڈپریشن میں اس لئے مبتلا کرتی ہے کہ ہارمونز کا توازن بگڑ جاتا ہے۔بعض افراد کی کچھ خواہشیں پوری نہیں ہو پاتیں،وہ اس مغالطے میں پڑ جاتے ہیں کہ قدرت نے ان سے نا انصافی کی،حالانکہ اگر وہ اپنے اس معاملے میں کی گئی سعی پر نظر ڈالیں تو ڈپریشن میں مبتلا نہ ہوں۔اگر کسی کو کھلے ماحول سے روک کر بند ماحول کی طرف کر دیا جائے تو وہ ضرور دماغی مریض ہو کر رہے گا خواہ ذمہ دار خود ہی ہو،(ارسطو)۔علامات مردوں میں:ذرا سی بات پر غصہ،بے چین رہنا،چیزوں کو توڑنا۔ناامید رہنا،خالی بیٹھے رہنا،معدے کا خراب رہنا۔پسندیدہ کاموں سے اجتناب، کسی کام میں دلچسپی نہ لینا،جلدی تھک جانا۔خود کشی کی ترکیب سوچنا۔حافظے کا کمزور ہونا،دھیان بٹا رہنا۔دن کو سونا،بہت سونا یا بالکل نہ سونا۔سردرد،تھکاوٹ،سستی،چڑچڑاپن۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More