بیگم نصرت بھٹو، ہمت اور بہادری کی علامت

بول نیوز  |  Oct 23, 2020

بیگم نصرت بھٹو کی شہرت ذولفقار علی بھٹو کی دوسری بیوی کے بطور ہیں جن کو ایک باہمت اور بہادری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

بیگم نصرت بھٹو اپنے شوہر کی وزارت اعظمیٰ تک سیاست میں سرگرم نہیں رہیں لیکن جیسے ہی ذوالفقار علی بھٹو کو  قید کیا تو ان کا حادثاتی طور پر سیاسی سفر شروع ہوا۔

انیس سو اناسی میں جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو وہ پاکستان کی سیاست کا ایک نمایاں کردار بنیں، وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی انیس سو اناسی سے انیس سو تراسی تک چیئرپرسن رہیں۔

انیس سو بیاسی میں کینسر کی ابتدائی علامات کے بارے میں بتایا گیا تو وہ علاج کے لیے لندن چلی گئیں اور ان کی بڑی صاحبزادی بینظیر بھٹو نے پارٹی کی قیادت سنبھالی۔

بیگم نصرت بھٹو نے اپنی زندگی کے آخری برس دبئی میں گزارے اور آخری ایام میں وہ کسی کو پہچاننے سے بھی قاصر تھیں۔

  بھٹو کوپھانسی کے بعد پیپلز پارٹی کی سربراہ بھی رہی، 1996ء میں بینظیر کے حکومتی دور میں مرتضٰی کے ماروائے عدالت قتل کے بعد ذہنی توازن کھو بیٹھی اور اس کے بعد مرنے تک بے نظیر کے خاندان کے ساتھ دبئی میں مقید رہی۔ 23 اکتوبر 2011 ء اتوار کو دبئی میں انتقال کر گئی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More