خانہ کعبہ میں 210 دن بعد نماز جمعہ ادا

سماء نیوز  |  Oct 24, 2020

کرونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے مسجد الحرام میں 210 دن بعد پہلی نماز جمعہ ادا کی گئی۔ انتظامیہ نے جمعہ کی صبح سویرے مسجد حرام کے 11 دروازے نمازیوں کے استقبال کی خاطر کھول دیے تھے۔

سعودی میڈیا کے مطابق اس موقع پر سخت احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔ مسجد حرام میں خطبہ جمعہ ایک ہی وقت میں اردو سمیت دنیا کی پانچ زبانوں میں نشر کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے جنرل پریزیڈنسی کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ریڈیوز کی پانچ مختلف فریکونسیز استعمال کی گئیں۔

جنرل پریزیڈنسی کی ایجنسی فار ٹیکنیکل سروسز کی عمومی انتظامیہ نے نمازیوں کے استقبال کی خاطر گیارہ دروازوں پر کم سے کم ایک سو افراد پر مشتمل نگران عملہ متعین کر رکھا تھا جو نمازیوں کی کرونا پروٹوکولز کی روشنی میں رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے رہا تھا۔

مسجد حرام کے دروازوں کی انتظامیہ کے ڈائریکٹر فھد الجعید کے مطابق معتمرین کو باب الملك فهد، أجياد، والصفا، والنبی، وبنی شيبة، والمروة، وسلم الأرقم، وجسر المروة، وعبارة النبی کے ذریعے مسجد حرام داخل ہونے کی اجازت تھی جبکہ دوسرے نمازی باقی دروازوں کے ذریعے نماز جمعہ پڑھنے کے لیے مسجد حرام میں داخل ہوئے۔

جنرل پریزیڈنسی کی ایجنسی فار ٹیکنیکل سروسز کی عمومی انتظامیہ نے مسجد حرام میں آب زم زم کی فراہمی کو یقینی بنانے کے خصوصی انتظامات کر رکھے تھے۔ نمازیوں اور زائرین کو آب زم زم پیش کرنے کے لیے اضافی تعداد میں عملہ تعینات کیا گیا۔ یہ عملہ پہلے سے طے شدہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے خدمات سرانجام دے رہا تھا۔

سقیا زمزم پراجیکٹ کے ڈائریکٹر احمد الندوی کے مطابق نماز جمعہ کے دوران مسجد حرام کے متخلف حصوں میں 27500 زمزم کی بوتلیں تقسیم کی گئیں۔

احمد الندوی نے بتایا کہ نماز جمعہ کے موقع پر 55 ملازمین نگرانی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے جبکہ ان کے زیر کمان کم سے کم 350 ورکرز نے خدمات سرانجام دیں۔ زمزم کی تقسیم کے موقع پر بھی پہلے سے وضع کردہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کیا گیا تاکہ نمازی کرونا وائرس سے محفوظ فضا میں نماز ادا کر سکیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More