کراچی میں 13ویں عالمی اردو کانفرنس کا آغاز ہوگیا

سماء نیوز  |  Dec 04, 2020

آرٹس کونسل آف پاکستان کے زیرِ اہتمام تیرہویں عالمی اردو کانفرنس کا کراچی میں آغاز ہوگیا، کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں وزیر ثقافت سید سردار شاہ شریک ہوئے۔

کورونا وباء کے پیش نظر کانفرنس کا انعقاد ڈیجیٹل کیا گیا ہے،کانفرنس میں بیرون ممالک کے ادیب ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوں گے جبکہ کرونا وائرس کے باعث کانفرنس میں عام شہریوں کا داخلہ ممنوع ہے۔

کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، زہرا نگاہ، پیر زادہ قاسم، زاہدہ حنا، نورالہدیٰ شاہ، حسینہ معین، پروفیسر سحر انصاری، قدسیہ اکبر اور شاہ محمد مری شریک تھے جبکہ افتخار عارف، گوپی چند نارنگ و دیگر ویڈیو لنک کے ذریعے کانفرنس میں شریک ہوئے۔

شاعرہ زہرا نگاہ نے اس موقع پر دنیا بھر میں پھیلی ہوئی موجودہ وباءکرونا کے حوالے سے اپنی دو خوبصورت نظمیں سنائیں، زاہدہ حنا نے کہا کہ سرحدوں پر جنگ کے بادل اور عالمی وبا کے باوجود اردو کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے پاکستان میں تمام زبانیں بولنے والوں کو انکا حق ملنا چاہئے۔

گوپی چند نارنگ نے کہا کہ ادیبوں اور دانشوروں کو معاشرے کی رہنمائی کرنا چاہئے، ادبیوں کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کے دونوں پہلوﺅں کو اپنے قاری تک پہنچائیں، انہوں نے کہاکہ میں بلوچستان میں پیدا ہوا ہوں اور میں نے میٹرک بلوچستان ہی سے کیا ہے، سرائیکی زبان دودھ کی پہلی دھار کی طرح میرے خون میں شامل ہوئی، کراچی آرٹس کونسل جو کام کر رہی ہے وہ پورے برصغیر کے لئے مثال ہے۔

افتخار عارف نے کہا کہ سب سے پہلے اپنی زبان اور اپنے لوگوں سے محبت کریں۔ پاکستان میں زبانوں کو سیاسی مسئلہ بنایا گیا۔ اردو ادب کی صد سالہ تاریخ میں بہت سے واقعات رونما ہوئے۔

پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ ادب کو جتنا فروغ اس صدی میں ملا اتنا پہلے کبھی نہیں ملا زبانوں کو پہلے کبھی اتنی توجہ نہیں ملی جتنی اس دور میں مل رہی ہے انسان اور جانوروں کے درمیان فرق محض ادب کا ہے اور ادب سکھانے میں زبانوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

ہندوستان کے معروف نقاد و شاعر شمیم حنفی نے کہاکہ ہمارے لیے اپنے اجتماعی ماضی کو قید خانہ بنا لینا ہر لحاظ سے مہلک ہوگا اور ہماری ادبی اور تہذیبی روایت کی تاریخ اور جغرافیہ دونوں کو محدود اور منقسم کردے گا، ادب ،ثقافت اور فنون کے ساتھ اقتدار کے مراکز کا سلوک ہر جگہ ایک سا ہے، اس کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر پیر زادہ قاسم رضا صدیقی نے کہا کہ یہ اردو کانفرنس نامساعد حالات میں بہترین کارکردگی کا عملی مظاہرہ ہے، ادب انسان اور انسانیت کی فضیلیت کی بات کرتا ہے ادب کسی بھی زبان کا ہو انسان کی فضیلیت سے جڑا ہوگا۔

معروف ادیبہ حسینہ معین نے کہاکہ مجھے اردو زبان سے محبت ہے ،اردو ادب کو سو سال ہو چکے ہیں محبت کرنے اور بانٹنے والا کبھی مایوس نہیں ہوتا۔

کانفرنس کے پہلے دن تین سیشن رکھے گئے تھے افتتاحی تقریب کے بعد آصف فرخی کی یاد میں ایک سیشن رکھا گیا ، دوسرے سیشن میں کتابوں کی رونمائی کی گئی جبکہ آخر میں نوجوانوں شعراء پر مبنی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا ۔

عالمی اردو کانفرنس آرٹس کونسل کے سوشل میڈیا پیجز پر دنیا بھر میں ان لنکس کے ذریعے براہ راست دیکھی جا سکے گی۔

http://Youtube.com/c/artscouncilofpakistankarachi

http://Twitter.com/acpkhi

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More